دانے دانے پہ لکھا ہے!!

238

کارلوس مسلم دنیا کے امیر ترین لوگوں میں سے ایک ہیں، ان کی نیٹ ورتھ اس وقت 78بلین ڈالرز کے آس پاس ہے، رہتے وہ میکسیکو میں ہیں لیکن امریکہ کی کئی بڑی کمپنیوں میں ان کے شیئرز ہیں۔ اے ٹی این ٹی(ATNT)جیسی بڑی کمپنی کے مالک ہونے کی وجہ سے ان کی دولت میں کوئی کمی آنے کا امکان نہیں۔
کارلوس نے میکسیکو کی لائبریریوں میں کچھ سال پہلے مفت کمپیوٹرز بانٹے، یاد رکھئے کہ میکسیکو ایک غریب ملک ہے جہاں لوگ دو تین سو ڈالرز کا بھی کمپیوٹر نہیں خرید سکتے ایسے میں کارلوس نے ہزاروں کی تعداد میں لائبریریوں کو کمپیوٹرز بانٹے ہیں اور لوگ بغیر کوئی معاوضہ دئیے انہیں استعمال کر سکتے ہیں تو یہ ان کی بہت بڑی مدد ہے۔
ٓایک انٹرویو میں کارلوس سے پوچھا گیا کہ دنیا میں غربت کس طرح کم کی جا سکتی ہے؟ تو ان کا جواب تھا کہ غریبوں میں کھانا بانٹنے سے غریب کبھی ختم نہیں ہو گی۔ جتنا کھانا دنیا میں غریبوں میں بانٹا گیا اگر اس کا حساب لگایا جائے تو دنیا میں جتنے انسان ہیں ان میں سے کبھی کوئی بھوکا نہ رہے، غربت مٹانے کا صرف ایک حل ہے کہ کام کرو اور کام کے لئے تعلیم ضروری ہے تب ہی میں نے کھانا بانٹنے کی بجائے لائبریریوں میں کمپیوٹرز بانٹے ہیں تاکہ لوگ ان کے ذریعے تعلیم حاصل کر سکیں۔ کارلوس صحیح کہہ رہے ہیں، غربت مٹانے کے لئے لوگوں کا تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے تاکہ ان کے پاس وہ طاقت ہو جس سے وہ نہ صرف اپنے لئے زندگی کو بہتر بنائیں گے بلکہ دنیا میں بھی کئی اچھی تبدیلیاں لا سکتے ہیں، ٹیکنالوجی میں ، تعلیم میں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ایک ایسا شخص جس کے بچے صبح سے بھوکے ہوتے ہیں جس کے پاس کوئی ایسا وسیلہ نہیں ہوتا کہ وہ ان کے لئے مٹھی بھر چاول بھی خرید سکے اس کے لئے اس وقت صرف اور صرف ایک چیزاہم ہوتی ہے کہ وہ کیسے اپنے بچوں کا پیٹ بھرے، تعلیم یا کمپیوٹر سے کچھ سیکھنا اُسے زندگی کی سچائیوں سے بہت دور لگتے ہیں۔
انسان بہت حساس ہوتا ہے کسی بھی انسان کو تکلیف میں دیکھ کر اس کی مدد کرنے کو دل کرتا ہے بھوکے بچوں کے ذکر سے ہی آپ کا دل چاہا ہو گا کہ ان کا پیٹ بھر جائے، کسی غریب کو سڑک کے کنارے پریشان حال دیکھ کر بھی جی چاہتا ہے کہ اس کی مشکل دور ہو جائے لیکن پھر ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے یہ سوچتے رہ جاتے ہیں کہ ہمارے بس میں کیا ہے؟ میں بغیر حکومت کی مدد یا کسی ادارے کی فنانشل سپورٹ کے بغیر بھلا کیا کر سکتا ہوں بھوک یا غربت مٹانے کیلئے مگر سچ تو یہ ہے کہ دنیا میں ہر وہ چیز جو بھی آپ کو نظر آتی ہے بلڈنگ، گاڑیاں، کمپیوٹرز، سمارٹ فونز، کچھ بھی، ہر چیز پہلے صرف ایک سوچ تھی جس کے بعد وہ اصلیت بنی۔اسی طرح کی ایک سوچ Lumsکے تین طالب علموں کے ذہنوں میں آئی، سوچ یہ کہ ان لوگوں کیلئے کچھ کریں کہ جو بہ حالات مجبوری رات کو بھوکے سو جاتے ہیں ان کے پاس کھانے کو کچھ نہیں میسر ہوتا۔
اپریل 2015ء میں اپنی کلاس میں بیٹھ کر حذیفہ احمد، موسیٰ عامر اور قاسم جاوید یہ بات چیت کررہے تھے کہ کیا کیا جا سکتا ہے بھوکے اور مجبور لوگوں کا پیٹ بھرنے کیلئے وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ شہر کے ریسٹورنٹس میں جو کھانا بچ کر ضائع ہو جاتا ہے وہ ان طلباء کو دے دیں تاکہ وہ اپنے ہاتھوں سے مستحق لوگوں کو یہ کھانا پہنچا دیں، جب آپ کوئی اچھا اقدام اٹھاتے ہیں تو اللہ آپ کا ساتھ دیتا ہے کچھ ہی دن میں Rizqنامی تنظیم پیدا ہوئی، ابھی جب یہ تینوں طلباء یونیورسٹی میں ہی تھے اور پڑھائی کا پریشر ان پر تھا اس کے باوجود انہوں نے اس کام کو کرنے کی ٹھان لی، یہ کام فیس بک کے صرف ایک پیج سے شروع کیا گیا جس کے بنانے کی پہلی رات دو ہزار Likesآگئے یعنی لوگ اس کام میں ان کا ساتھ دینے پر تیار تھے، اگلے روز ایک ریسٹورنٹ کے مالک کا فون آیا جو ان کی مدد کو تیار تھا، انہوں نے اسی دن سے یہ کام شروع کیا اور پھر پیچھے پلٹ کر نہیں دیکھا، پہلے کچھ دن مشکل تھے کہ جب کئی خاندان ان سے کھانا ملنے کی امید رکھتے تھے مگر ان کے پاس کچھ نہیں ہوتا تھا مگر ہمت کرنے والے ہارتے نہیں ہیں۔ Rizqآگے بڑھتا رہا اور آج اس ادارے میں سو سے زیادہ والینٹیئرز کام کرتے ہیں نہ صرف یہ بلکہ اب وہ کافی سکولوں میں ان بچوں کے لئے لنچ بھی فراہم کرتے ہیں جو اسے افورڈ نہیں کرسکتے۔ لاہور میں روزانہ ہزار خاندانوں کے کھانے اور پانچ سو سکول کے بچوں کے لنچ کے علاوہ Rizqنے اسلام آباد میں بھی اپنی شاخ قائم کر لی ہے اور اب وہ PDXنامی آرگنائزیشن کے ساتھ مل کر اس سکیم کو پاکستان کے ہر شہر میں پھیلانے کا کام کررہے ہیں۔ ان تین طالب علموں نے یہ ثابت کر دیا کہ کوئی کام بھی چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا اس کو چھوٹا یا بڑا آپ کا جذبہ کرتا ہے۔ بغیر کسی ریسٹورنٹ یا ہوٹل سے رابطے کے وہ اس سفر پر نکل پڑے تھے لیکن پھر انہیں بہت سے مخیر لوگ اور ادارے ملتے گئے اور وہ آگے بڑھتے گئے۔
یہ تین طلباء ایسی مثال ہیں جن سے ہر طالب علم اور پاکستانی کو سیکھنا چاہیے، ہمارے یہاں فیشن ہے کہ جیسے ہی کسی اچھے ادارے سے نکلو ماسٹرز کرنے بیرون ملک چلے جائو، Rizqکو مثال بنائیں اور اپنے ملک میں ہی کچھ کرنے کی ٹھانیں، عزت، دولت شہرت کامیابی سب ملے گی آپ کو بہت سی دعائیں کے ساتھ۔