فلسطینیوں کو صرف امریکہ بچا سکتا ہے اگر اسرائیل چاہے

252

جب سے ا سرائیل نے غزہ کے فلسطینیوں پر بم باری شروع کی ہے اور سینکڑوں کو ہلاک کر دیا ہے جن میں بچے، عورتیں اور بزرگ سب شامل ہیں، دنیا کے کچھ مسلمان بہت پریشان ہیں۔ ان میں سے کچھ اپنی حکومتوں سے ایسے اقدامات لینے کا مطالبہ کر رہے ہیںجن سے اس قتل و غارت کا بازار بند ہو۔دنیا جانتی ہے کہ غز ہ میں حماس کی حکومت ہے، اور جو فلسطینی وہاں رہتے ہیں، اسرائیل نے ان پر ایسی پابندیاں لگا رکھی ہیں کہ اس خطہ کو دنیا کا سب سے بڑا کھلا جیل کہا جاتا ہے۔ پینے کا پانی، خوراک، روزگار، اور دیگر ضروریات زندگی کی کمی اتنی شدید ہو جاتی ہے کہ حماس تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق اسرائیل پر راکٹ پھینک کر دل ٹھنڈا کرتے ہیں۔ ان راکٹوں سے جو نقصان ہوتا ہے وہ اسرائیل میں کم اور غزہ میںگولہ باری، عمارتوں کی مسماری اور جو تھوڑی بہت ترقی کے آثار ہوتے ہیں، ان کی تباہی اور زیادہ۔ ان قربانیوں کادوسرا مقصد ہوتا ہے کہ دنیا کو غزہ کے لوگ اپنی بے بسی کا نوحہ سنائیں۔شاید کہ دنیا کے دبائو پر اسرائیل سے کچھ رعایتیں مل جائیں۔ ایسی کاروائی چند سال پہلے بھی ہوئی تھی لیکن ہر دفعہ بجائے کوئی رعایتیں ملنے کے اسرائیل کا شکنجہ اور سخت ہو جاتا ہے۔حیرت بھی ہوتی ہے کہ جو قوم ابھی بہتر سال پہلے اتنی مصیبت زدہ تھی، وہ اتنی جلدی اتنی ظالم کیسے بن گئی ہے۔
سچی بات ہے کہ فلسطینی مسلمانوں کو تکلیف میں دیکھ کر اکثر مسلمانوں کا دل دکھتا ہے۔ لیکن سوائے اس کے کہ وہ اپنی حکومتوں کو فلسطینیوں کی مددد کے لیے کہیں اور کوئی اور حل نظر نہیں آتا۔ اس رد عمل میں حسب معمول پاکستان، ٹرکی، بنگلہ دیش کے مسلمان پیش پیش ہوتے ہیں۔ امارات والوں نے تو اسرائیل کے ساتھ صلح کر لی ہے اس لیے وہاں سے تو احتجاج کی آواز نہیں بلند ہوتی اور نہ ہی مصر اور اردن سے ، کیونکہ ان ملکوں نے بھی اسرائیل سے امن کے معاہدے کر رکھے ہیں۔ پاکستان اور ٹرکی بھی سوائے یو این میں احتجاج کرنے کے اور زیادہ کیا کر سکتے ہیں؟ جب پاکستانی صحافی مسلمانوں کی بے حسی کا ماتم کرتے ہیں تو وہ صحیح ہے لیکن اس ماتم سے نہ اسرائیلیوں کو کوئی فرق پڑتا ہے اور نہ فلسطینیوں کو۔اسرائیلی ا مریکہ کی لے پالک اولاد ہے۔ وہ اور امریکہ دو الگ قومیں نہیں ہیں۔امریکہ وہی کرتا ہے جو اسرائیلی حکومت چاہتی ہے۔یہ سب کیسے ہوا؟
دوسری جنگ عظیم کے بعد نازی جرمنوں کے خوف سے، یہودی پناہ گزین دنیا بھر میں پھیل گئے لیکن غالباً سب سے زیادہ امریکہ کی پناہ میں آ گئے۔ اگرچہ بہت سے یہودی جنگ سے پہلے بھی امریکہ میں آ چکے تھے، اور اپنے قدم جمانے میں مصروف تھے۔جو یہودی جنگ کے نتیجہ میں آئے، انہوں نے اپنے پرہونے والے ظلم و ستم کی داستانیں بڑھ چڑھ کر امریکنوں کو سنائیں۔اس کے علاوہ ان کا پہلا کام تھا کہ سر جوڑ کر بیٹھیں اور کوئی ایسا منصوبہ بنائیں کہ آیندہ کوئی حکمران اور سیاسی پارٹی ان کے ساتھ ایسا سلوک نہ کرے جو ہٹلر اور اس کی پارٹی نے کیا۔ چنانچہ، ان کے سیانوں نے سر جوڑے اور ایک منصوبہ تیار کیا۔ اس منصوبہ کو دنیا کی ہر بڑی طاقت کے مر کز میں پھیلانا تھا۔ان میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اور بقیہ یوروپ شامل تھے۔چنانچہ، اس منصوبہ کو انہوں نے معتبر ذرائع سے تمام ممالک کے سردار یہودیوں تک پہنچا دیا۔ یہ ان یہودیوں کو جو اسرائیل سے باہر ہیں ڈایا سپورا کہتے ہیں ۔ اس منصوبہ کا آغازاپنے بچوں کی تعلیم اور تربیت سے شروع کرنا تھا جس میں ان میںیہودی قوم پر ہونے والے مظالم اور اس کے سد باب پر ان کے ذہنوں میں ایسا تاثر چھوڑنا تھا کہ وہ لا محالہ اتحاد اور تابعداری کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھیں۔اس تعلیم و تربیت کا اس قوم کو بے پناہ فائدہ ہوا۔ جب کسی لڑکے یا لڑکی سے کسی اہم شخصیت کو پٹانے کا مشورہ دیا جاتا تو وہ اپنی سچی محبت کو بھی قربان کر کے جماعت کا حکم مانتا یا مانتی ۔ یہودی قوم ابھی بھی اپنے نوجوانوں کو اور ارکان کو ایسے ہی تیار کرتی ہے کہ جیسے وہ اپنی قوم کے لیے ہر کام کرنے کے لیے ہمیشہ تیار ہوں۔ دنیا میں شاید ہی کوئی اور قوم اس قدر متحد اور یک جان ہو۔اس میں کوئی شک نہیں، شخصی آزادی اور حقوق کی آگاہی سے تھوڑے سے نو جوان سر کشی بھی کرتے ہیں، لیکن ان کا ڈھنڈورا نہیں پیٹا جاتا اور خاموشی سے برداشت کر لیا جاتا ہے۔ یہی رویہ یہودی نو جوانوں کے جرائم، اور سیاہ کارناموں پر پردہ ڈال کر کیا جاتا ہے۔کیونکہ ذرائع مواصلات ، نشریات اور اشاعت پر ان کا عمومی کنٹرول ہے، کسی بھی بات کو دبا دینا ان کے لیے بڑی بات نہیں۔ اسی طرح، اگر کوئی مخالف بیان دے دے تو اس کو اچھال اچھال کر اس کا ناطقہ بند کر دینا بھی انکے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔
ہاں، تو ہم کہہ رہے تھے کہ جب یہودی جرمنی اور یورپ سے پناہ گزین بن کر امریکہ آئے تو اپنے پر ہونے والے ظلموں کی دل دہلا دینے والی داستانوں کو سنانا شروع کیا جنھیں سن کر امریکن بے حد متاثر ہوتے اور افسوس کرتے تھے۔ ان داستانوں کو زبانی کلامی تو سنایا ہی، امریکنوں کی ہمدردیاں جیتنے کے لیے ہر وہ حربہ اختیار کیا، جس سے لوگ نہ صرف ان کی کہانیوں کو سچا سمجھیںبلکہ اس کے ساتھ ساتھ ان کے ہمدرد بھی بنیں۔ ان حربوں میں ایک بڑا حربہ، اخبارات شائع کرنا، ریڈیو اور سنیما کا استعمال کرنا تھا۔ہالی ووڈ اور ینو یارک میں فلم سازی کی صنعت پر اہل یہود کا مکمل قبضہ تھا۔ چنانچہ انہوں نے ہٹلر کے مظالم کی بہت سی دل کو ہلا دینے والی فلمیں بنائیں، جنہوں نے امریکنوں پر بہت اثر ڈالا۔ حتیٰ کہ امریکہ کی ابتدائی اور ثانوی تعلیم کے سلیبس میںہر امریکی سکول کے طالب علم کو یہودیوں پر ظلم کی داستانیں از بر ہو تی ہیں۔اس ہمدردی سے یہودیوں نے بے تحاشا فائدہ اٹھایا۔جب ٹیلیویژن کا زمانہ آیا تو انہی یہودیوں نے بڑھ چڑھ کر اسے گلے لگایا۔ آج بھی امریکہ کی بڑی بڑی چینلز کے سر براہ یہودی ہی ہیں۔
ان کے علاوہ یہودیوں نے اپنے منصوبہ کے مطابق اپنی اولادوں کو خصوصاً تین پیشوں کی طرف بڑھایا۔ پہلے ڈاکٹری، دوسرے وکالت، تیسرے، اکائونٹنٹ۔ اور انہی پیشوں میں اعلیٰ تعلیم لیکر وہ پروفیسر بھی بن گئے، جج بھی بنے اور مالیات کے اداروں میں ذمہ وار افسر بھی۔ اس منصوبہ کا ایک بہت اہم طریق کار تھا کہ اپنے لڑکوں اور لڑکیوں کو راغب کرتے تھے کہ وہ زندگی کی ہر شعبہ میں اہم شخصیات کے لڑکوں، اور لڑکیوں سے رومانس کریں اور اگر بات بن جائے تو شادی بھی کر لیں۔ان کے ٹارگٹ میں امریکی اہم شخصیات کے علاوہ عرب، پاکستانی، اور دیگر اہم اسلامی ممالک کے سفارت کار اور بزنس مین، سب شامل تھے۔ان کی ایک اور کامیاب کوشش تھی کہ امریکہ کے ہر سرکاری محکمہ میں، وفاقی ، ریاستی یا مقامی، سب میں یہودی نوجوان اور پیشہ ور لڑکا یا لڑکی کی تعیناتی ہو جائے۔ رفتہ رفتہ یہودی نہ صرف سرکاری محکموں میں بلکہ تجارتی، غیر سرکاری اور پیشہ ورانہ جماعتوں میں بھی براجمان ہو گئے۔ وکالت اور اکائنٹنٹ کی اعلی تعلیم و تربیت کی وجہ سے ان کے نوجوان لڑکے لڑکیوں کو آسانی سے پسندیدہ اور اہم پوزیشن مل جاتی تھیں۔ جہاں ضرورت پڑتی تو اپنے بھائی بندوں کی سفارش اور اثر و رسوخ کا استعمال بھی کرتے۔ اس حکمت عملی کے تحت، سب سے بڑی ترجیحات ایوان صدارت، کانگریس کے دونوں ادارے یعنی ہائوس اور سینیٹ، ریاست کے گورنر اور سیاسی ادارے، سیاسی پارٹیاں، سب شامل تھیں۔
یہودی تربیت کا زور اس بات پر بھی تھا کے ان کے بچے معاشرے میں اچھا نام اور مقام پیدا کریں۔ اس کے لیے انہیں ہمیشہ اچھی بات کہنا ، نرم اور ملائمت کے لہجے میں بات کرنا خواہ وہ کوئی بھی ہو۔ مقصد لوگوں کو اپنا ہمدرد بنانا اور خیر خواہ بنانا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ چند سال پہلے تک امریکی یہودی پاکستانیوں سے ہمدردی کرتے تھے اور اگر کہیں ملازمت کے امیدوار پاکستانی ہوتے تو ان کو ملازم رکھ لیتے تھے۔ لیکن یہ حالات زیادہ دیر بر قرار نہیں رہے۔ اسرائیل نے اپنی نئی حکمت عملی کااعلان کیا کہ اسرائیل کے دشمن کا دوست اسرائیل کا دشمن ہے اور اس کے دشمن کا دشمن اسرائیل کا دوست ہے۔ اس پالیسی کے تحت پاکستان چونکہ عربوں کا دوست ہے، اسکو دشمن سمجھا گیا اور اس کے دشمن بھارت کو اسرائیل کا دوست۔پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کا سب بڑا قلق اسرائیل کو ہوا۔ اور سال ہا سال سے اس کی کوشش یہی ہے کہ کس طرح پاکستان کی قوت کو بے اثر کیا جائے۔ اس سلسلہ میں وہ بھارت کو مفت مشورے دیتا ہے اور بھارت بھی ان مشوروں پر آنکھیں بند کر کے عمل کرتا ہے۔اور انہی وجوہ سے بھارت پاکستان کی امن کی پیشکش کو قبول نہیں کرتا۔
کہتے ہیں کہ ایک جن تھا اور اس کی جان ایک طوطے میں تھی۔ یہی تمثیل امریکہ اور اسرائیل کی ہے۔ اسرائیل نے گذشتہ ستر سال میں امریکہ کی سیاست، معیشت اور نفسیات پر اس قدر قابو پا لیا ہے کہ کوئی شخص صدر نہیں بن سکتا جب تک کہ وہ اسرائیل جا کر ان کا آشیر باد نہ لے لے اور واشنگٹن ڈی سی میں یہودی لابی کے سامنے ان کو اپنی وفاداری کا پورا یقین نہ دلا دے۔ امریکہ میں یہودیوں کے خلاف ایک لفظ منہ سے نہیں نکالا جاسکتا۔ جن سیاستدانوں نے ایسی غلطی کی ان کا نام تک باقی نہیں رہتا۔ ان ستر سالوں میں اسرائیل کی معیشت امریکی امداد سے چلتی آ رہی ہے۔ ہر سال کسی نہ کسی مد میں اربوں ڈالر اس چھوٹے سے ملک کو دئے جاتے ہیں جسے وہ زیادہ تر اپنی عسکری قوت جدید تر بنانے میں صرف کرتا ہے۔اسرائیل نے بہت عرصہ ہوا ایٹم بم بنا لیے تھے اور جنوبی افریقہ کے سمندرمیں اس کا تجرباتی استعمال بھی کیا تھا ۔ امریکہ سب جانتا ہے لیکن کچھ کہہ نہیں سکتا۔
اب آپ خود ہی اندازہ لگائیں کہ ان حالات میں اسرائیل جو کر گذرے، وہ کم ہے۔ فلسطینی صرف اپنی جانیں دیکر دنیا کو اپنی موجودگی کا احساس تو دلوا سکتے ہیں لیکن اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ اگر یہ سلسلہ چند دہائیاں اور چلا تو ممکن ہے کہ اسرائیلی آبادی خود ہی اس خون ریزی سے تنگ آ جائے اور اپنی حکمت عملی بدل دے اورفلسطینیوں کو با عزت جینے کا حق دے دے۔امریکنوں سے تو کسی انصاف کی پالیسی کی توقع کرنا عبث ہے۔ وہ خود چاہیں بھی تو اسرائیل کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کر سکتے۔