صہونیت اور یہودیت میں فرق!

412

موجودہ صہونیت نازی ازم کی شکل میں نسل پرستی اور توسیع پسندی کا نظریہ حاکمیت ہے کہ جس میں یہودیت کی آڑ میں فلسطین پر قدیم یہودیت کے نام پر قبضہ کیا گیا ہے جس میں نازیوں کی طرح نسل پرستی اور انسانیت کش نظریہ اپنایا گیا ہے جس کا یہودیت سے دور دور کا واسطہ نہیں ہے چونکہ صہیونیت (زائن ازم) نو آبادیاتی نظام کی پیداوار ہے جو مکمل طور پر نوآبادیاتی نظریہ توسیع پسندی رکھتی ہے کہ سرزمین عرب ہمارے باپ دادوں کی زمین ہے جس پر تمام یہودیوں کا حق ہے چاہے وہ ہزاروں سال پہلے ترک وطن یا غلام بنا لئے گئے تھے۔ فرض کریں اگر صہونیت کے اس نظریہ کو مان لیا جائے تو پھر امریکہ بھر کے سیاہ فام افریقہ پر اپنا حق دائر کر دیں گے یا پھر یورپین امریکن ، لاطینی امریکن اور ایشین امریکن اپنے اپنے چھوڑے ہوئے ملکوں پر کلیم کر دیں گے کہ یہ سرزمین ہماری ہے جو ہم نے چند سو سال پہلے چھوڑی یا چھڑائی گئی تھی جو کسی بھی حالت میں قابل قبول نہیں ہو گا۔ زائن ازم نے فلسفہ سیاست میں یہودی کو ایک قوم قرار دیا ہے جو کہ علم سیاست کے منافی ہے کہ ایک قوم کے لئے جغرافیہ، زبان، لسان، کلچر، رسم و رواج، تہذیب و تمدن لازمی ہوتا ہے جس میں مذہب اختیاری ہوتا ہے جو انسان بدلتا چلا آرہا ہے جیسا کہ لاکھوں یہودی مسلمان یا عیسائی بن چکے ہیں جو آج اپنے آپ کو یہودی نہیں کہلاتے ہیں جو کبھی فلسطینی ،شام، اردن، مدینہ منورہ یا عراق اور ایران میں آباد تھے جو دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے جن کے بارے میں پاکستان میں کشمیری اور بعض پٹھان قبائل کے بارے میں یہودی کلیم کرتے ہیں کہ یہ لوگ بنی اسرائیل ہیں جن کا بارہویں قبیلہ سے تعلق ہے جو ہو بھی سکتا ہے مگر آج وہ یہودی نہیں رہے اس طرح عرب ممالک اسلام سے پہلے عیسائی ،یہودی، ستاروں کی پوجا کرنے والے یا پھر بت پرست تھے جو مسلمان ہو گئے۔ کیا وہ بھی آج اپنے آپ کو یہودی یا عیسائی قرار دیتے ہیں یا پھر پاکستان میں پائے جانے والے اکثریتی آبادی کے آبائو اجداد ہندو یا سکھ تھے جو مسلمان ہو گئے جن کا آج ہندوازم سے کوئی تعلق نہیں رہا ہے۔ اس لئے زائن ازم اور جوڈی ازم میں فرق محسوس کرنا ہو گا۔ یہودیوں میں لاتعداد پروفیسر، فلاسفر، سیاستدان ہیں جو اسرائیلی زائن ازم کے مخالف ہیں جیسا کہ امریکی مشہور سیاستدان اور دو مرتبہ صدارتی امیدوار انسان دوست برنی سینڈر نے کئی مرتبہ کھل کر اسرائیلی حملوں کی مخالفت کی ہے جنہوں نے حال ہی میں کانگریس میں تقریر میں کہا ہے کہ اسرائیل کی امریکی مدد بند کی جائے جس کے نام پر وہ فلسطینی بچوں، بوڑھوں اور خواتین کو قتل عام کررہا ہے اسی طرح دنیا کے مشہور فلاسفر، ہاورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر نوام چومسکی مسلسل کئی دہائیوں سے اسرائیل کی مخالفت کرتے چلے آرہے ہیں۔ پروفیسر ایڈورڈ سعید نے ساری زندگی اسرائیل کی مخالفت اور فلسطین کی عوام کی حمایت میں گزار دی ہے۔ تاہم صہونیت اور یہودیت پر بحث و مباحثہ چل نکلا ہے جس میں اسرائیل کے اندر بھی صہونیت کے عزائم کی مخالفت ہورہی ہے کہ جن کی تیسری نسل اس خطے میں ایک اجنبی بن کر رہ گئی ہے جس کے خلاف پورے عوام ہیں جس میں زیادہ عرصہ تک اسرائیل کا وجود برقرار نہیں رہ سکتا ہے کہ صرف فلسطین میں پندرہ ملین فلسطینی عوام بستے ہیں جن پر اسرائیل کے نام پر چار ملین یہودیوں کو صہونیت نے مسلط کررکھا ہے ۔آبادی کے لحاظ سے بھی اسرائیل ایک ملک نہیں کہلا سکتا ہے ماسوائے کہ اوسلو اور میڈرڈ معاہدوں کے مطابق فلسطین کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست بحال کیا جائے جس میں تمام مقبوضہ علاقوں میں بشمول یروشلم شامل کر کے دو ریاستوں کا وجود قائم کیا جائے جس کو اسرائیلی سخت گیر اور بنیاد پرست تسلیم نہیں کرتے ہیں جنہوں نے یورپ میں معاہدوں پر دستخط کرنے والے وزیراعظم یادک روبین کو قتل کر دیا تھا جس کے بعد دونوں معاہدے کھٹائی میں ڈال دئیے گئے ۔بہرکیف صہونیت (زائن ازم) نظریہ نو آبادیاتی توسیع پسندی ہے جس کو یہودیت کے مذہب کی آڑ میں عرب ممالک پر مسلط کیا جارہا ہے کہ یہودی سلطنت کنعان کے باشندے ہیں جن کو ہزاروں سالوں بعد پرومس لینڈ پر آباد کیا جائے گا جس کا آغاز حضرت ابراہیم ؑ سے شروع کیا جاتا ہے اور حضرت یعقوب ؑ تک پہنچ جاتا ہے جن کی نسل کو بنی اسرائیل کا نام دیا گیا ہے جبکہ مختلف تاریخ دانوں اور فلاسفروں کا نظریہ تاریخ مختلف ہے۔ لہٰذا ہر نبی کی اولاد کے ساتھ ساتھ پیروکار ہوتے ہیں جو آل کے علاوہ انبیائے کرام کے ماننے والے گزرے ہیں چونکہ ماضی قدیم میں ایک ہی وقت اللہ تعالیٰ نے کئی کئی انبیائے کرام بھیجے ہیں جو اپنے اپنے نبی کے پیروکار یا قوم کہلاتے ہیں جیسا کہ قوم نوح، قوم لوط، قوم بنی اسرائیل جن کا ذکر قرآن شریف میں پایا جاتا ہے مگر جس شخص یا گروہ نے نبی کا حکم نہیں مانا ہے وہ اس کی قوم سے خارج سمجھے گئے ہیں ۔ خاص طور پر جس گروہ نے انبیائے کو قتل کیا ہو جو قابل معافی نہیں کہلاتے ہیں بہرحال فلسطین آج کا سائوتھ افریقہ بن چکا ہے جس پر اقلیت زائنسٹ قابض ہیں جس نے فلسطینیوں کے ہسپتالوں، سکولوں، مدرسوں، عمارتوں ،گھروں کو مسمار کیا ہے جس پر اقوام عالم کو ایکشن لینا ہو گا ورنہ عنقریب کوئی دوسرا بڑا ہولوکاسٹ برپا ہو جائے گا جو انسانیت پر قہر بن کر ثابت ہو گا جس میں دہشت گردی کے آثار پیدا ہونے کے امکانات ہیں جس میں مرتا کیا نہ کرتا پر عملدرآمد کرتے ہوئے دہشت گردی کو اپنا لیا جائے گا جس کے بعد افغانستان، لیبیا، عراق، شام جیسے حالات قابو سے باہر ہو جائیں گے جو ابھی تک فلسطین میں نہیں پائے جاتے ہیں مگر فلسطینیوں پر مسلسل ظلم و ستم اور بربریت سے ایسے آثار پیدا ہورہے ہیں جو خاص طور پر بچوں اور عورتوں کی ہلاکتوں کے بعد فلسطینی عوام میں غم و غصہ پایاجارہا ہے جس کا واحد حل فلسطین کی ریاست کی بحالی ہے جو خودمختار اورآزاد ہو۔