نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے پورے صفحے کے یہودیوں کے اشتہارات سے شاہ محمود قریشی کے ڈیپ پاکٹس والا الزام درست ثابت ہو گیا!

247

گزشتہ ہفتے جب وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی فلسطین کی صورت حال پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے نیو یارک پہنچے تو اس کے بعد سی این این نے ان سے ان کی تقریر اور پاکستانی لائحہ عمل کے حوالے سے ایک انٹرویو بھی کیا۔ انٹرویو کرنے والی ایک سفید فارم روسی امیگرنٹ یہودی خاتون بیانا تھیں جو امریکہ میں ہی پل بڑھ کر آباد ہوئی اور جرنلزم میں ہی تعلیم حاصل کی لیکن کہتے ہیں کہ کچھ بھی ہو جائے یہودی بچہ یہودی ہی ہوتا ہے اور ذرا سی بھی یہود مخالفت کی جائے تو فوراً بھڑک جاتا ہے۔ سی این این نے بھی شاید یہ سوچ کر اینکر کو انٹرویو کے لئے منتخب کیا تھا کہ وہ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے جی بھر کر بھڑاس نکالے۔ بہرحال اس نے پہلا سوال کیا کہ آج آپ یو این میں تقریر کے بعد کیا سمجھتے ہیں کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان سیز فائز ہوجائے گی؟انہوں نے جواب دیا کہ یقیناہو گی کیونکہ اسرائیل کے پاس کوئی اور چارہ نہیں کیونکہ وہ میڈیا میںاپنے تمام تر کنکشنز اور اثر و رسوخ کے باوجود رائے عامہ ہار چکا ہے ذرا دیکھو لندن، میڈرڈ، شگاکو، سڈنی غرض سارے یورپی یونین کے شہروں میں عوام اسرائیلی بربریت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ یہودی اینکر پرسن تو ان کے اس کھرے جواب پر بھڑک اٹھی اور آپے سے باہر ہوتے ہوئے شاہ محمود قریشی پر الزام دھر دیا کہ آپ کے جواب کو میں اینٹی سٹیک یعنی کہ یہودیوں کے مخالف بیان تصور کروں گی۔ شاہ صاحب نے فوراً تردید کی ایسی کوئی بات نہیں ہے میں نے ایسا کچھ نہیں کہا۔ اینکر نے دریافت کیا کہ اثرورسوخ اور کنکشنز سے آپ کی کیا مراد ہے ؟شاہ محمود قریشی نے جلتی پر تیل ڈالتے ہوئے جواب دیا وہ ہے ’’ڈیپ پاکٹس‘‘۔ اس جواب پر تو وہ مزید چیں بچیں ہو گئی کہ اس سے آپ کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہودی دنیا بھر میں مالی طور پر بہت مستحکم ہیں وہ اس چیز کو اپنے اثر رسوخ کیلئے استعمال کرتے ہیں اور میڈیا کو کنٹرول کرتے ہیں مگر بھلا ہو سوشل میڈیا کا جس کے سٹیزن صحافی اور یوٹیوبرز نے اصل چہرہ اور اسرائیلی مظالم کو شہر شہر پہنچا دیا اور ان کے ویڈیو کلپس نے لوگوں کو دنیا بھر میں اسرائیلی مظالم کے خلاف سڑکوں پر نکل آنے پر مجبورکر دیا۔ اینکر مزید بھڑک کر بولی کہ یہ تو سراسر اسرائیل مخالف اور یہود مخالف یکطرفہ بیان ہے۔
یہ وہ حقیقی امر ہے جو ہم پچھلے چھتیس برسوں سے کبھی ٹی وی پر کبھی ریڈیو پر اور کبھی اخبار کے ذریعے کہتے آئے ہیں کہ پورا مغربی میڈیا یہودیوں کے قبضے میں ہے اور زبردست زیر اثر ہے۔ آج سوشل میڈیا کے دور میں بھی یہودی لابی اس پر چھانے کی بھرپور کوشش کررہی ہے۔ یوٹیوب کا مالک مارک زگر برگ بھی یہودی نژاد ہے اور فیس بک اور یوٹیوب پر بھی ریگولر میڈیا کی طرح کنٹرول کرنے کی کوشش کی مگر ناکامی ہوئی کیونکہ یہ وہ جن ہے جسے واپس بوتل میں اب بند نہیں کیا جا سکتا۔ دنیا بھر کے مسلمانوں اور انسانیت نواز لوگوں نے فیس بک کی ریٹنگ ڈائون کر کے مارک زگر برگ کو زبردست مالی نقصان پہنچا دیا ہے جس کے بعد اب اینٹی اسرائیل، یہودی مخالف اور پروفلسطین پوسٹیں یوٹیوب سے ہٹانے میں کمی آئی ہے کیونکہ یہودی بچہ صرف پیسے کی بولی جانتا ہے۔
اب آتے ہیں شاہ محمود قریشی کی ڈیپ پاکٹس والے الزام کی طرف۔ اردو ترجمہ اس کا ہوتا ہے ’’گہری جیب‘‘ یہ ان لوگوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جو پیسوں کے بل بوتے پر ہرایک کو خریدنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ بیلا حدید اور جی جی حدید ٹاپ امریکن ماڈلز ہیں دونوں کے والد فلسطینی ہیں۔ دعا لیپا بوسنیا سے تعلق رکھتی ہیں اور مشہور گلوکارہ ہیں۔ ان تینوں شوبز کی انٹرنیشنل شخصیات نے حالیہ فلسطینی اور اسرائیلی جھگڑے میں کھل کر فلسطینیوں کی حمایت اور اسرائیل کی مذمت کی اور پروفلسطین ریلیوں میں بھی حصہ لیا اور اپنے ٹویٹس کے ذریعے صہیونیت کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں۔ ان تینوں کے پرستاروں کی تعداد کروڑوں نہیں بلکہ اربوں تک پہنچتی ہے اور ان کی فلسطین کی حمایت کی وجہ سے پوری دنیا کو ظلم اور مظلوم کا فرق محسوس ہوا ۔ اس ہفتے نیویارک ٹائمز اخبار میں ایک یہودی، صہیونی ربی نے ایک فل پیج اشتہار ان تینوں کی تصویروں کے ساتھ چھپوا کر انہیں حماس کا طرفدار یا دہشت گرد قرار دیا ہے۔ نیویارک ٹائمز میں ایک پورے صفحے کااشتہار کئی سو ڈالرز میں نہیں کئی ہزار ڈالرز میں نہیں بلکہ کئی ملین ڈالرز میں چھپا ہے اور ایک یہودی ملا کے پاس یقینا اتنے پیسے نہیں ہوں گے اس لئے اس اشتہار کو اس کے نام کے تلے ایک کاغذی یہودی تنظیم نے سپانسر کیا ہے اور یہ ہی وہ ڈیپ پاکٹس ہیں جس کی طرف شاہ محمودقریشی نے اشارہ کیا تھا تو گویا یہودیوں نے نیویارک ٹائمز میں اشتہار چھپوا کر اس الزام کی تصدیق کر دی۔ یعنی صرف پاکستان ہی کی نہیں بلکہ امریکہ کی صحافت بھی کوٹھے کی طوائف کی طرح بکائو مال ہے ۔ڈالرز پھینکو، تماشا دیکھو والی بات ہے!!