دنیا کے امیر ترین شخص پوری دنیا کی مدد کرنے کے باوجود بھی ذاتی اور ازدواجی طور پر خوش کیوں نہیں ہیں ؟؟

239

بل گیٹس مارچ 2020ء میں اپنی کمپنی مائیکرو سافٹ کے بورڈآف ڈائریکٹرز سے اس لیے الگ ہوگئے تھے کہ ان کے خلاف جاری کمپنی کی تحقیقات میں یہ بات ثابت ہوگئی تھی کہ ان کے ایک خاتون ملازم کے ساتھ ان کے اپنے عقیدے کے مطابق غیرشرعی تعلقات تھے لیکن یہ ابھی بھی واضح نہیں کہ 2 دہائیوں پرانے اس تعلق یا کمپنی کی تحقیقات کا مائیکرو سافٹ کے شریک بانی اور ان کی اہلیہ ملینڈا فرنچ گیٹس کی 27 سالہ شادی کے خاتمے میں کوئی اہم کردار ہے یا نہیں۔
بل گیٹس نے اپنی اہلیہ ملینڈا فرنچ گیٹس سے 27 سالہ شادی کے خاتمے کا اعلان اپنے ٹوئٹ میں کیا تھا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ وہ طلاق کے باوجود ایک ساتھ رہیں گے اور ایک ہی آفس میں اسی طرح کام کریں گے جس طرح وہ پہلے کرتے تھے۔ اس طلاق کا اہم پہلو یہ ہے کہ اس طلاق کے بعد بل گیٹس کو اپنی آدھی جائداد سے یکسر محروم ہونا پڑا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یورپ اور مغربی ممالک میں اس طرح کی طلاق کوئی نئی بات ہے؟ وہاں شادی اور طلاقوں کا رواج عام ہے۔ اب تک جو کچھ سامنے آیا اس سے پتا چلتا ہے کہ بل گیٹس کی اہلیہ ملینڈا فرنچ گیٹس کی ایک ایسی طلاق ہے جس کی وجہ کشیدگی، ناچاقی یا کسی تنازعہ کا دخل نہیں ہے لیکن اس کے باجود عالمی اخبارات اس طلاق کے خوب خوب چرچے کر رہے ہیں۔ مائیکرو سافٹ کی ویب ڈیسک پر جاری بیان نے ایک نیا پنڈورا باکس کھول دیا ہے، اس بیان کے مطابق بل گیٹس خاتون ملازمہ سے ناجائز تعلقات کے خواہش مند تھے اور اسی وجہ سے انہیں عہدے سے برطرف کیا گیا تھا۔ یہ ایک ایسی بات ہے جس کی یورپی معاشرے میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔ یہاںیہ ہر گھر کی کہانی ہے اور دنیا بھر میں اس طرح کے تعلقات کی وجہ سے ملازمت سے برطرفی کا کوئی قانون موجود نہیں ہے۔
اس سلسلے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اس طلاق کے بعد مرکز ِ نظر مائیکرو سافٹ نہیں بلکہ ان کی فلاحی تنظیم ’بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤ نڈیشن‘ ہے جو ان دونوں کی مشترکہ ملکیت ہے۔ دونوں کے درمیان 2019ء سے وکلا کے درمیان اثاثوں پر ممکنہ قانونی جنگ کی خبروں سے ایک بار پھر اس خدشے کو تقویت ملی ہے کہ ان کی یہ فا ؤنڈیشن اس علٰیحٰدگی کی نذر ہو سکتی ہے۔ بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن کی ویب سائٹ کے مطابق 2001ء سے لے کر اب تک یہ ادارہ پاکستان میں 63 منصوبوں کو گرانٹ دے چکا ہے یا معاہدہ کر چکا ہے جن کی لاگت 42 کروڑ 87 لاکھ ڈالر ہے۔ اس امداد میں سے آدھی سے زیادہ گرانٹ (26 کروڑ 81 لاکھ) پولیو کے خاتمے کے لیے ہے۔ اسی طرح ان 63 گرانٹس میں 30 گرانٹس صرف ایک ادارے (آ غا خان یونیورسٹی) کو ملی ہیں جن کی لاگت آٹھ کروڑ ڈالر ہے۔ اس باوجودآغا خان اسپتال میں غیرآغا خانیوں کا علاج بہت مہنگا ہے۔ جن شعبوں کے لیے یہ گرانٹس مختص کی گئی ہیں ان میں پولیو، کورونا وائرس، دیگر وبائی امراض، زچہ بچہ کی صحت، تعلیم، فیملی پلاننگ، غریبوں کے لیے مالی خدمات اور سیلاب کے نقصانات سے نمٹنے کے لیے امداد شامل ہیں۔ یہ صرف امدادی گرانٹس ہیں جو مختلف سرکاری، نیم سرکاری و غیر سرکاری تنظیموں کو دی گئیں۔ ان امدادی گرانٹس کے علاوہ بھی اس فاؤ نڈیشن کے پاکستان کے لیے مختلف اہم منصوبے ہیں۔ لیکن عام مسلمان عوام کے لیے یہ سب کہاں ہے اس کا کسی کو کچھ پتا نہیں ہے۔
کورونا وائرس کی ویکسین کی تیاری میں بل گیٹس کا اہم کردار رہا ہے۔ جب ویکسین بن رہی تھی تو ویکسین کے حوالے سے ایک سوال یہ تھا کہ وہ ممالک جن کے پاس ویکسین خریدنے کی سکت نہیں ہے وہ اپنے عوام تک کورونا سے بچاؤ کی ویکسین کیسے پہنچائیں گے؟ اسی مسئلے کے پیش نظر ترقی پذیر ممالک تک ویکسین کی بالکل مفت فراہمی کے لیے بنائی گئی الائنس ’گاوی‘ کے پیچھے بھی بل گیٹس ہیں اور اس اتحاد کے ذریعے پاکستان کو ایک کروڑ 46 لاکھ ویکسین ملیں گی۔ متحدہ عرب امارات کے علاوہ اس پروگرام میں سعودی عرب، جاپان جیسے ممالک اور کامن ویلتھ، بلوم برگ فلین تھرا پیز اور بارسلونا فٹ بال کلب ادارے شامل ہیں۔
2019 میں حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر وزیراعظم عمران خان کے احساس پروگرام کے لیے بھی 2020 کے لیے 20 کروڑ ڈالر مختص کیے تھے جس کے تحت ملک بھر سے غربت کے خاتمے میں مدد ملنا تھی۔ یہ واضح نہیں کہ یہ رقم ابھی تک پاکستان کو موصول ہوئی ہے یا نہیں کیوں کہ فاؤنڈیشن اور احساس پروگرام کی ویب سائٹس پر معاہدے کے علاوہ مزید کوئی تفصیل موجود نہیں ہے۔ گزشتہ سال مارچ میں مائیکرو سافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے اعلان کیا تھا کہ وہ خدمت خلق کے کاموں کو وقت دینے کے لیے اپنے منصب سے دستبردار ہورہے ہیں۔ اب یہ بھی بات سامنے آئی ہے کہ اپنی علٰیحدگی کے اعلان میں دونوں کا کہنا تھا کہ فاؤنڈیشن پہلے کی طرح کام کرتی رہے گی۔
اسلام اور دوسرے الہامی مذاہب میں شادی کے ذریعے دو اجنبی مرد وعورت رشتہ نکاح کے ذریعہ ایک دوسرے سے مربوط ہوتے ہیں اور یہ دنیا کا پہلا سوشل معاہدہ جو دو انسانوں کے درمیان کیا گیا تھا، اس کے تحت دوالگ الگ دل ودماغ، سوچ وفکر، رہن سہن، کھانا پینا، طور وطریقہ مختلف رکھنے والے لوگ ہر معاملہ میں مکمل طور پر ہم آہنگ ہوتے ہیں۔ اور ایسا نہ ہو تو بعض دفعہ یہ رشتہ بجائے راحت وسکون کے درد ِ سر اور ایک مصیبت کی شکل اختیارکرلیتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کی حق تلفی کرنے لگتے ہیں، ایسی ناگفتہ بہ صورت حال سے نجات کے لیے شریعت نے طلاق کی راہ ہموار کر رکھی ہے۔ طلاق میاں بیوی کے درمیان ہونے والے ذہنی تناؤ، روز روز کے جھگڑے، اور ایک ناختم ہونے والے سلسلے کو ختم کر دیتا ہے۔ اس کے بعد مرد اپنی بیوی کو باعزت رخصت کرکے اپنی پسندکے مطابق دوسری بیوی اور عورت بھی اپنی پسند کے مطابق دوسرا شوہر تلاش کرسکتی ہے۔ گویا کہ دونوں کے لیے اپنی زندگی کو خوشگوار بنانے کا ذریعہ طلاق ہے۔ لیکن یہ بات کہ طلاق کے بعد دوبارہ ساتھ رہنے کا تصور نیو ورلڈآرڈر نے دیا ہے جو دنیا کے خاندانی نظام کو تباہ کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت پوری دنیا کے عوام سے کہا جارہا ہے کہ طلاق اور نکاح کے بغیر بھی ایک لڑکا اور لڑکی ایک ساتھ رہ سکتے ہیں اور ایسا ممکن ہے جس طرح دنیا کاسب سے امیر شخص بل گیٹس، اور اس کی سابقہ بیوی ملینڈا طلاق کے باوجود ایک ہی گھر میں ساتھ رہ سکتے ہیں اور ایسا کرنا کوئی بری بات نہیں ہے۔ اسی طرح بغیر نکاح کے بھی ایک ساتھ رہنا کوئی بری بات نہیں ہے۔ سال گزشتہ کے آخری مہینے ایک میگزین کے سرِورق پر پانچ تصاویر کے ساتھ ایک چھوٹی تصویر میں ایک لڑ کے کے سر پر ایک لڑکی کو بھی دکھایا گیا جس کا مقصد یہ ہے کہ آئندہ مرد خواتین کی حکومت کی نگرانی میں کام کریں گے جس طرح بل گیٹس کی سابقہ بیوی ملینڈا نے بل گیٹس کی آدھی جائداد پر قبضہ کر لیا اور بل گیٹس قانونی تحفظ کے باوجود اپنے آپ کو بے یارومددگار محسوس کر رہا ہے۔ اس لیے یہ سب کچھ ایک عالمی بے حیائی کے ایجنڈے کی کامیابی پر عملدرآمد کا حصہ ہے اور اس کو روکنا ضروری اور فرض ہے۔