ایک PDM ہوا کرتی تھی ؟

241

میو اسپتال لاہور کے سیکیورٹی گارڈ نے خاتون کا آپریشن کر دیا۔ اس خبر پر سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں اس مملکت خداداد میں سیکیوریٹی گارڈ سات دہائیوں سے سرجری میں مصروف ہیں، اور پاکستان نازک صورتحال سے گزر رہا ہے۔ تو جناب آپ کی تین بار حکومتوں نے آلو چھولوں کی ریڑھی لگا رکھی تھی ؟ تین مرتبہ اقتدار کا موقع ملا ایک بھی ہسپتال ایسا نہ بنا سکے جہاں چوبیس گھنٹے لندن والی سہولیات اور عملہ دستیاب ہوتا ؟ اپوزیشن کرنا آسان ہے جیسے عمران خان نے 22برس اپوزیشن کے مزے لوٹے ، تین سالہ دور حکمرانی نے عمران خان کو دن میں تارے دکھا دئیے۔نواز شریف دلوں میں بستا ہے تو بھٹو اور عمران خان بھی احمق عوام کے دل و دماغ پر قابض ہیں البتہ پاکستان میں جس کو دیکھو عوام کو چونا لگاتا رہا ، بے وقوف بناتا رہا ، ملک اور اداروں کو مضبوط کرنے کی بجائے خود کو مضبوط کرتا رہا۔ ملک کو لوٹ مار کے دبئی اور لندن کے گھر بھرتا رہا۔ پاکستان کو فلسطین کشمیر اور کرونا کے مسائل در پیش ہیں۔ کشمیر نے اپنی جنگ پوری دنیا کو لاک ڈائون کر کے جیت لی ، بھارت کو عذاب میں مبتلا کر دیا ، فلسطین بھی ہمیشہ اپنی جرات دلیری اور صبر سے اسرائیلیوں کے مظالم کا جواب بد دعائوں سے دیتا چلا آرہا ہے ، پاکستان پر تین تین باریاں لینے والے وردی اور بنا وردی والی حکومتیں اپنا ماضی دیکھتے جائیں اور شرماتے جائیں۔لندن سے شیر کی گرج سننے کا انتظار ہی رہا ‘‘اسرائیل یار باز آ نہیں تو میں لندن کی شاہراہوں پر احتجاج کروں گا،ملک کی سب سے بڑی پارٹی ہوں ،میری ایک کال پر تیری اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔ پر کیتھوں ؟؟؟آنکھیں صرف حصول اقتدار کے لئے نکالی جاتی ہیں جن سے پناہ لی جائے ان کے تلوے جاٹے جاتے ہیں۔پاکستانیو ہوش کرو ! امت مسلمہ بنو !تمہارا لیڈر فقط محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔یہ سب تمہیں اپنے اقتدار کے لئے استعمال کرتے ہیں۔حریف جماعتیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے جھوٹ اور ڈرامہ بازی میں تو کمال رکھتے ہیں۔ لندن میں نواز شریف پر قاتلانہ حملہ کا کھیل بھی بری طرح بے نقاب ہو گیا۔دنیا کاپہلا "قاتلانہ حملہ آور” جو ہتھیار کی بجائے فائلیں لے آیا ؟حملہ آور ہی نہیں دال میں بھی کالا ہے۔مغرب میں کوئی ایسی جرات کرے فور ی پولیس کال کی جاتی ہے، یہ کیسے نا اہل قاتل ہیں جن کے نواز شریف کا ٹائوٹ ناصر بٹ ترلے کر رہا ہے کہ یہاں سے چلے جائو ؟بس کرو یار یہ لندن ہے جاتی امرا ء نہیں۔ لندن پولیس کے مطابق مذکورہ واقعہ جمعرات کو پیش آیا جبکہ ن لیگ نے گزشتہ روز جمعے کو اس کی اطلاع دی۔لندن پولیس کا کہنا ہے کہ حسن نواز کے دفتر آنے والے چاروں افراد غیر مسلح تھے، جائے وقوعہ پر حملہ ہوا اور نہ ہی کوئی تشدد کا واقعہ پیش آیا۔واقعے کے چوبیس گھنٹے بعد ویڈیوز سامنے لانے سے سوالات اٹھ گئے کہ کیا واقعے کی ویڈیوز ایڈٹ کرکے میڈیا کو جاری کی گئی ہیں؟جس کا پیسہ دینا ہے اس پاکستانی نے بھی سوشل میڈیا پر اپنی ویڈیو آپ لوڈ کر دی ہے۔کہ ناصر بٹ اس کے لاکھوں پائونڈز کا مقروض ہے اور عدالت نے اس کے حق میں فیصلہ بھی دے دیا مگر نواز شریف کا ٹائوٹ نواز شریف کی بغل میں چھپا بیٹھا ہے۔سیاہ فام افراد قانونی دستاویزات کی فائل لے کر ناصربٹ کے تعاقب میں گئے تھے اور ناصر بٹ نے جب دیکھا اس کا فراڈ بے نقاب ہو جائے گا تو اس نے اپنی مجرمانہ سوچ کو بروئے کار لاتے ہوئے اس واقعہ کو نواز شریف کے نام پر کیش کرانے کی ناکام چول ماری۔ناصر بٹ نواز شریف کا ٹائوٹ ایک مجرم فراڈی اور کرپٹ انسان ہے۔ناصر بٹ اور رحمان ملک ایسے لوگ ہر جماعت کے مافیا ہوتے ہیں اور پھر ایک دن لیڈران انہی آستین کے سانپوں کے ہاتھ مارے جاتے ہیں۔ملک کی تقدیر کیسے کیسے فنکاروں کے ہاتھ کھیلتی چلی آرہی ہے معیشت سے متعلق بری خبریں الگ سے مایوسی پھیلا رہی تھیں۔ وزیر خزانہ شوکت ترین بھی کسی پانڈے کا ڈھکن نہیں ، پہلے کہا معیشت 2018 کے وقت پر واپس لانے کی کوشش کریں گے ،اب وزیر اعظم سے ملاقات پر انہیں اور ان کی ٹیم کوگروتھ بڑھانے پر مبارکباد پیش کر رہے ہیں ؟معیشت کی بحالی مثبت خبر ہے مگر اس کی سچائی کا تب یقین ہو گا جب مہنگائی قابو کی جا سکے گی۔ عوام کو رلیف ملے گا۔ عمران خان کی تھیوری اوپر ٹھیک ہو نیچے سب ٹھیک ہوتا ہے،رنگ روڈ نے مسترد کر دی،اپوزیشن میں عمران دوستوں کو استعمال کرتے رہے اب دوست انہیں استعمال کر رہے ہیں۔ جہانگیر ترین فارورڈ بلاک جوش سے اٹھا ہوش سے بیٹھ گیا ہے ، لگتا ہے وزیراعظم نے جون بجٹ ٹپانے کے لئے تھپکی دے دی ہے ، اسے عرف عام میں این آر او کہا جاتا ہے۔ جہانگیر ترین مافیا ریلیف چاہتا ہے ، اپنے احسانات کا بدلہ مانگ رہا ہے۔ بجٹ کی تلوار ٹل جائے عمران خان یو ٹرن بھی لے سکتے ہیں ، ترین فارورڈ بلاک بھی وقت کا انتظار کرے گا۔ مذکورہ گھسی پٹی خبروں سے قطع نظر اہم خبر یہ ہے کہ پاکستان میں ایک ‘‘ PDM ‘‘ ہوا کرتی تھی۔ زبانی کلامی مارچ جلوس جلسے استعفوں کے دعوے کیا کرتی تھی۔ کسی کو خبر ہے کب اور کہاں دفن کر دی گئی؟