تازیانہ

232

عوام کا حافظہ بہت کمزور ہے۔ انہیں کل کی باتیں یاد نہیں رہتیں تو ماضی قریب و ماضی بعید کو کیا یاد رکھیں گے۔ جب دنیا میں گناہ و ثواب کا فرق مٹ جاتا ہے۔ جب میخانے آباد ہوتے ہیں، قحبہ خانے سجائے جاتے ہیں۔ جب محفلیں رقص و غنا سجائی جاتی ہیں۔ حجاب کے پردے اٹھ جاتے ہیں۔ جب فحاشی عام ہوتی ہے۔ شرفاء ذلیل کئے جاتے ہیں امراء کا بول بالا ہوتا ہے۔ ذلیل، کمینے، دروغ گو کو سر پر بٹھایا جاتا ہے، سچے لوگوں کو تختہ دار پر چڑھا دیا جاتا ہے۔ حرام، حلال کا فرق مٹ جاتا ہے، غرض کہ مجرم کو سزا نہیں ملتی، عدالتیں رشوتیں لیکر ضمانت دیتی ہیں۔ مظلوم ہر جگہ زنجیر جہانگیری ہلاتا پھرتا ہے، وہی دھاک کے تین پات تو پھر غضب الٰہی جوش میں آتا ہے۔ قومیں تباہ کر دی جاتی ہیں۔
پچھلی قوموں پر بھی حضرت نوح کے زمانے سے عذاب آتے رہے ہیں اور اس عذاب خداوندی سے نبیوں، ولیوں کی اولادیں بھی نہ بچ سکیں۔ قوم لوط پر پانچ بار عذاب آیا۔ حضرت صالح کی قوم تباہ کر دی گئی اونٹنی اور اس کے بچے پر ظلم کی وجہ سے۔ پانی کی وجہ سے فساد برپا ہوا تھا۔
آج دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ہی لوگوں میں تقسیم رزق میں توازن نہ رہا تو لوٹ مار کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ مختلف قسم کے جرائم فروغ پائے۔ پورا پورا مافیا وجود میں آیا۔ ہوس بڑھتی گئی۔ رکھوالے خرید لئے گئے، عدالتیں بک گئیں، ججوں کو بوریوں میں دولت پہنچا دی گئی اور جو روگردانی کرتا اسے جان سے مارنے کی دھمکی، اہل خانہ کا اغوا اور قتل، لوگ خوفزدہ ہو گئے، مجبور ہو گئے، ان کے حسب منشا فیصلے کرنے پر۔ اس حکومت کو لوگ جانتے ہیں کہ چند ماہ کی مہمان ہے۔ عوام پر سے سچ کا بخار اتار دیا جائے گا۔ عوام صادق اور امین کا نام لینا بھی بھول جائیں گے۔ ویسے بھی بے حس لوگوں کو اپنے حلوے مانڈے سے کام ہے ملک جائے جہنم میں۔ جب تک گائے دودھ دیتی ہے زندہ ہے، دودھ دینا بند کرے گی تو ذبح کر دی جائے گی۔ دو دھار گائے کی دو لاتیں بھی بھلی لگتی ہیں، اللہ نے تو وسیلے بنا دئیے تھے اگر وہ بندوں کا رزق روک لیں تو فریاد کس سے کریں تو آپ نے دیکھ لیا اللہ تعالیٰ کا غضب اس کرونا کی شکل میں وارد ہوا۔ دنیا میں تباہی آ گئی۔اس تباہی کا سدباب اعمال و کردار کی درستگی، توبہ استغفار، دعائیں نہ صرف اپنے لئے تمام ذی روح کے لئے۔ عبادت کی پابندی، مساجد کو آباد کرو، خشو و خضوع کے ساتھ سربسجود ہو۔ کچھ دعائوں ہی کا نتیجہ ہے کہ رحمت خداوندی جوش میں آئی اور ویکسین دریافت ہو گئی ورنہ بہت سی بیماریاں ایسی ہیں جن کی دوا اب تک دریافت نہ ہو سکی۔
انور مقصود صاحب کے نام سے کون واقف نہیں۔ جس محفل میں جاتے ہیں اُسے زعفران زار بنا دیتے ہیں۔ لوگ کھڑے ہو کر تالیوں کی گونج میں ان کا استقبال کرتے ہیں۔ مرجھائے چہرے بھی کھل اٹھتے ہیں۔ انہوں نے کئی ڈرامے تحریر کئے، خاکے، طنز و مزاح پر مبنی تحریریں، ہر دفعہ ایک نیا اور انوکھا موضوع لئے ہوئے، ان کی علم اور ذہانت کی گٹھڑی میں بہت سارے نئے موضوعات ہیں جو وقتاً فوقتاً نکلتے رہتے ہیں اور شروع سے آخر تک سامعین کی دلچسپی قائم رکھتے ہیں۔ اسی طرح اب کی دفعہ انہوں نے بالکل منفرد موضوع کا انتخاب کیا ہے۔ یعنی ان مقتدر اور معروف شخصیتوں سے خط و کتاب کا سلسلہ جس میں بہت سارے لوگوں میں سے چند کا اسم گرامی قائداعظم، علامہ اقبال، فیض احمد فیض، مرزا غالب، پطرس بخاری وغیرہ وغیرہ۔
ایک کلپ نظر سے گزرا جس میں وہ اپنے ایک دوست سے مخاطب ہیں اور کہتے ہیں اگلا خط ایسا لکھنا کہ وہ قائد کو سنائوں تو وہ سن کر خوش ہو جائیں۔ تم نے اپنے خط میں لکھا تھا کہ اس سال 14اگست کو قائد کے مزار پر قائد کی بہت تعریف کی گئی تھی، میں نے یہ بات جا کر قائد کو بتائی تو کہنے لتے ’’وہ الطاف حسین کی تعریف کررہے ہوں گے کیونکہ کراچی والوں کے قائد تو وہ ہیں‘‘ اس جملے پر سامعین تالیاں پیٹتے نظر آئے بجائے اپنا منہ پیٹنے کے، جس کا ملبہ کراچی والوں پر پھینکا گیا۔ یہاں کے تمام رہائشیوں کو ’’دہشت گرد‘‘ کہا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ چند سر پھرے لوگوں کا ٹولہ تھا جو کراچی یونیورسٹی کے فارمیسی ڈیپارٹمنٹ سے اٹھا اور بہت جلد طلباء کو ورغلا کر ایک تنظیم بنا لی۔ اس ناہنجار، نابکار نے بڑے بڑے دعوے کئے، بڑا بلند و بالا منشور گڑھا، کراچی والوں کے لئے اتنے بڑے بڑے کام کرنے کا دعویٰ کیا کہ لوگ وقتی طور پر متاثر ضرور ہوئے۔ کہا گیا کراچی روشنیوں کا شہر بنادیا جائے گا۔ ہوا یہ کہ اس بدبخت نے طالب علموں کے ہاتھ سے قلم چھین کر کلاشنکوف تھما دی، بھتہ خوری کی تربیت دی گئی، ٹارگٹ کلنگ کا رواج ہوا۔ بوری بند لاشیں ملنے لگیں۔ اغواء برائے تاوان کا رواج ہو گیا۔ فرقہ وارانہ فساد پھیلایا گیا۔ بھتہ نہ دینے والوں کے کاروبار تباہ کر دئیے گئے، فیکٹریاں نذر آتش کر دی گئیں۔ بہرحال یہ تنظیم ایک قاتلوں کا ٹولہ بن گئی، کچھ کراچی والے جو شروع میں ان کے بلند و بالا دعوئوں سے تھوڑا متاثر ہوئے تھے جب حقیقت سامنے آئی تو کنارہ کش ہو گئے۔ ہڑتالوں، کاروبار منجمد کر دیا گیا، ٹرانسپورٹ مفقود ہو گئی۔
انور مقصود جو کہ خود بھی کراچی سے تعلق رکھتے ہیں اس قسم کاطنز لکھنے کا انہیں کوئی حق نہیں کہ وہ پورے کراچی والوں کا قائد اس قاتل لٹیرے کو بنا دیں کیونکہ وہ بدمعاش یہاں پہ رہائش پذیر تھا لیکن جب کراچی والوں نے نگاہیں پھیر لیں تو وہ چار گھنٹے کے لئے کراچی آیا تھا پھر لندن روانہ ہو گیا۔
محترم کراچی والے بانیان پاکستان کی اولادیں ہیں جو قائداعظم کے نام پر سب کچھ قربان کر کے اس ریگستان کراچی کو سجانے آگئے تھے، جو پودے وہ لگا گئے وہ درخت بن چکے ہیں۔ ان کی جڑیں بہت گہرائی میں ہیں، یہ اب بھی قائداعظم محمد علی جناح کے نام پر جان دینے کو تیار ہیں۔ برائے مہربانی یہ تہمت ان پر مت لگائیے، آپ نے ان لوگوں کے تعصب کوہوادی ہے جو کراچی والوں کو بہت سے ناموں سے پکارتے تھے، آپ کے لئے یہ مزاح ہو گا کراچی والوں کے لئے تازیانہ ہے۔