یہودی خاتون صحافی فلسطینیوں کے حق میں بیان کی پاداش میں ملازمت سے برطرف

273

امریکی خبر  رساں ادارے نے مبینہ طور  پر خاتون صحافی کو فلسطینیوں کے حق میں سوشل میڈیا بیان کی پاداش میں ملازمت سے برطرف کردیا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس(اے پی)  نے 22 برس کی خاتون صحافی امیلی وِلڈرکو گذشتہ ہفتے اُس وقت نوکری سے نکالا  تھا جب غزہ پر اسرائیلی حملے عروج پر تھے۔

اے پی نےکہا ہے امیلی ولڈرکو سوشل میڈیا پالیسی کی خلاف ورزی پر نکالا گیا ہے تاہم ادارے نے یہ نہیں بتایا کہ وہ ’خلاف ورزی‘ کیا تھی ؟

دوسری جانب  خاتون صحافی نے کہا ہےکہ اسے طالب علمی کے دور میں فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھانے کی سزادی گئی ہے۔

خیال رہےکہ امیلی خود ایک یہودی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں اور زمانہٗ طالبعلمی میں امیلی یونی ورسٹی میں ‘اسٹوڈنٹس فار جسٹس اِن پیلیسٹائن ‘ اور ‘جیوش وائس فار پیس’ نامی تنظیموں کے پلیٹ فارمز سے صیہونیت کے خلاف آواز بلند کرتی رہی ہیں۔