میانمار: فوجی بغاوت کے بعد سوچی پہلی مرتبہ بذات خود عدالت میں پیش

250

میانمار کی معزول رہنما آنگ سان سوچی یکم فروری کو فوج کی جانب سے حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد پیر کو پہلی مرتبہ عدالت میں ذاتی طور پر پیش ہوئیں۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق وکیل ‘تھا مونگ’ نے بتایا کہ سوچی کی صحت اچھی تھی اور سماعت سے آدھا گھنٹہ قبل انہوں نے اپنی قانونی ٹیم سے دوبدو ملاقات کی۔

جمہوریت کے قیام کی کوششوں کے لیے 1991 میں امن کا نوبیل انعام جیتنے والی 75 سالہ آنگ سان سوچی فوجی بغاوت کے بعد دیگر چار ہزار سے زائد افراد کے ہمراہ زیر حراست ہیں، انہیں غیرقانونی طور پر واکی ٹاکی ریڈیو ساتھ رکھنے سے لے کر ریاستی خفیہ قوانین کی خلاف ورزی جیسے الزامات کا سامنا ہے۔

معزول رہنما نے اپنے وکلا سے ملاقات میں لوگوں کی بہتری کی خواہش ظاہر کی اور اپنی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی پارٹی کا بھی حوالہ دیا جسے جلد ہی تحلیل کیا جا سکتا ہے۔