ھل من ناصری؟!

310

بخدا کبھی کبھی تو ایمان ڈانوا ڈول ہونے لگتا ہے یہ دیکھ کر کہ ظالم ہر ستم توڑ رہا ہے، ہر ظلم کو روا رکھ رہا ہے، بیدریغ معصوم جانوں سے کھیل رہا ہے لیکن قدرت پھر بھی اس خونچکاں کھیل پر بھی اس زمین پر بسنے والے معصیت زدہ انسانوں کی طرح خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے!
ہم نے تو اس مالک الملک کی کتابِ حق میں یہ پڑھا ہے کہ وہ بستیاں الٹ دیا کرتا تھا ان جرائم پرجو آج کے مہذب انسانوں کے ہاتھوں ڈھائے ہوئے مظالم کے مقابلے میں بہت معمولی لگتے ہیں!
قرآن کہتا ہے اللہ نے قومِ ثمود کو روئے زمین سے مٹادیا کیونکہ انہوں نے حضرتِ صالح کی اونٹنی کو ان کے انتباہ کے باوجود ماردیا تھا! قومِ لوط کو اس جرم پہ نیست و نابود کردیا گیا تھا کہ وہ اس اخلاقی گراوٹ کا شکار تھی جس کی آج مذمت کرنا مہذب مغربی معاشروں میں جرم ہے۔ کہہ کر تو دیکھئے کسی کو یا اسے طعنہ دیجئے کہ وہ اغلام باز ہے وہ آپ کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ بنادیگا اور آپ کو لینے کے دینے پڑجائینگے! لیکن اس دور میں جو حضرتِ لوط کی پیمبری کا تھا اللہ نے ان کی قوم کو آنے والے زمانوں کیلئے عبرت کا نمونہ بنادیا کیونکہ وہ اپنے گھناوٗنے طرزِ عمل کو ترک کرنے پر آمادہ نہیں تھی!
لیکن یہاں، اکیسویں صدی میں ہم اپنی آنکھوں سے غزٌہ کے بیس لاکھ محصور و مجبور فلسطینیوں پر کیل کانٹے سے لیس، جدید ہتھیاروں کو بیدریغ معصوم شہریوں کے خلاف استعمال کرنے والے صیہونی اسرائیل کو شب و روز ظلم کے پہاڑ توڑتے ہوئے دیکھ رہے ہیں لیکن قدرت کی طرف سے اب تک تو کوئی اشارہ نظر نہیں آتا کہ وہ اپنے بندوں پر اس ستم کو ٹوٹتے دیکھ کر بے چین ہے اور ظالم سے اس کے ظلم کا حساب لینے کا اس کا کوئی ارادہ ہے!
دل خون کے آنسو روتا ہے، بخدا،اور کیوں نہ روئے کہ ایک صبح کو نیند سے بیدار ہوکر ٹیلی وژن کھولا تو اپنی آنکھوں کے سامنے غزٌہ کی ایک بلند و بالا چودہ منزلہ عمارت کو اس کے قدموں پہ گرتے دیکھا۔ تبصرہ نگاروں نے کہا کہ اسرائیلی فوج نے اس عمارت میں رہنے والوں کو ایک گھنٹہ دیا تھا کہ وہ عمارت سے نکل جائیں، کتنوں نے اس پیغام کو سنا اور کتنے جو اسے سننے سے معذور رہے وہ عمارت کے ملبہ کے ساتھ دفن ہوگئے۔!
دوسری صبح آنکھ کھلی تو اسی غزٌہ کی ایک معروف، گیارہ منزلہ عمارت کو جسمیں الجزیرہ اور ایسوسی ایٹڈ پریس، یا اے پی جو امریکہ کی بین الاقوامی نیوز ایجنسی ہے اور دنیا بھر میں مشہور ہے، ان دونوں کے دفاتر تھے اور کتنے ہی دیگر نشریاتی اداروں کے دفاتر تھے، اسی طرح اس کے قدموں پہ گرتے اور مسمار ہوتے دیکھا!
کسی اور ملک کی مجال ہے جو وہ یہ جسارت کرے کہ ایک ایسی عمارت کو ڈھادے جس میں بین الاقوامی نشریاتی اداروں کے دفاتر ہوں؟
لیکن اسرائیل کے پاس تو دنیا کی سب سے بڑی عسکری طاقت کی طرف سے کھلا لائسنس ہے کہ وہ جو چاہے کرسکتا ہے اس پر کوئی آنچ نہیں آئیگی، آنچ آنے ہی نہیں دی جائیگی!
یہ وہ عجیب و غریب صورتِ حال ہے جو دنیا کی تاریخ میں اس سے قبل رونما نہیں ہوئی۔ کوئی مثال نہیں ملتی ہمیں تاریخِ عالم میں کہ ایک تنکے کے برابر ملک میں ایسا رعب و دبدبہ ہو کہ امریکہ جیسی بظاہر سپر پاور اس کے سامنے زبان کھولتے ہوئے گھبرائے اس کی مذمت یا اس کی تنقیص کرنا تو الگ رہا!
اسرائیل کے موجودہ وزیر اعظم، نیتن یاہو، جن کے خلاف کرپشن کے الزامات ہیں اور پنڈتوں کا یہ کہنا ہے کہ جب ان پر وزارتِ عظمیٰ چھوڑنے کے بعد مقدمہ چلے گا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ وہ کسی طرح سزا سے بچ سکیں۔ مثال ہے کہ اسرائیل کے ایک سابق وزیرِ اعظم، اہود اولمرٹ، جیل کی سزا ایسے ہی الزامات کی پاداش میں کاٹ چکے ہیں لیکن نیتن یاہو کے پاس ایک آزمودہ نسخہ ہے کہ جب کبھی ان کے خلاف حلقہ تنگ ہونے لگے وہ فلسطینیوں کے خلاف کارروائی شروع کرسکتے ہیں، اور کرتے رہے ہیں، جس کے بعد پوری قوم ان کے پیچھے متحد ہوجاتی ہے اور بین الاقوامی رائے عامہ کی انہوں نے کبھی فکر نہیں کی کیونکہ ایک تو اوّل مغربی دنیا ہمیشہ اسرائیل کی پشت پناہی کرنا اپنا فرضِ اولین سمجھتی ہے دوسرے یہ کہ اگر ایک آدھ مغربی ملک ایسی حرکت کر بھی لے تو امریکہ بہادر کی تائید اور حمایت پر تو اسرائیلیوں کو اتنا ہی اعتماد اور ایمان ہے جیسے سورج کے نمودار ہونے اور چمکنے پر!
نیتن یاہو کے ایک پیشرو تھے، ایریل شیرون، جنہوں نے1968 میں لبنان پر چڑھائی کردی تھی کیونکہ وہ یاسر عرفات اور ان کی تنظیم کو وہاں سے بیدخل کرنا چاہتے تھے، اسی حملہ میں بیروت کے باہر فلسطینیوں کے ایک کیمپ، شتیلا، میں ہزاروں فلسطینی پناہ گزینوں کو بیدریغ قتل کیا گیا تھا۔ اس وقت ان ہی کی کابینہ کے ایک وزیر نے ان سے یہ سوال کرنے کی حماقت کی تھی کہ امریکہ اگر اس کارروائی کے حق میں نہیں ہوا تو پھر کیا ہوگا؟ اور جواب میں شیرون نے اس نادان کو تسلی دیتے ہوئے کہا تھا، امریکہ کی پرواہ مت کرو، امریکہ ہماری جیب میں ہے!
تو یہی اسرائیل کی جیب میں پڑے امریکہ سے ہر سال ۴ ارب ڈالر سے زائد کی دفاعی امداد اسرائیل کو دی جاتی ہے جس پر کانگریس نے آج تک اعتراض نہیں کیا بلکہ اکثر اراکینِ کانگریس کو گلہ رہتا ہے کہ ان کے جانی حلیف ملک کو اور زیادہ امداد دی جائے!
تو نیتن یاہو کو کوئی پرواہ نہیں ہے کہ فلسطینی گاجر مولی کی طرح سے کٹ رہے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ ان کا سرپرست امریکہ ان کے خلاف کسی کو کاروائی نہیں کرنے دیگا اور ہو بھی یہی رہا ہے کہ چار دن اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا لیکن چونکہ امریکہ اس کے حق میں نہیں تھا لہٰذا سلامتی کونسل کا اسرائیل کی مذمت کرنا تو کجا کونسل کو کوئی بیان جاری کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی!
یہ ہے انسانی حقوق کی پاسداری کے دعویدار مغربی ممالک کا اصل چہرہ، جو بہت داغدار ہے لیکن جسے تہذیب کے غازہ سے چھپانے کی کوشش بہت کی جاتی ہے۔
مغربی ممالک کے عدل و انصاف اور حقوقِ انسانی کے دوہرے معیار کی اس سے زیادہ بدنما مثال اور کیا ہوسکتی ہے کہ اس عالم میں بھی جب مظلوم فلسطینیوں پر قیامت ٹوٹ رہی ہے اور اسرائیلی درندگی ہزاروں کنبوں کو ان کے گھروں سے نکلنے پہ مجبور کررہی ہے اور دس دس افراد کے کنبے پورے کے پورے ایک رات میں موت کی آغوش میں سلائے جارہے ہیں، آج بھی امریکی سینٹ کے چالیس اراکین قرارداد منظور کررہے ہیں کہ اسرائیل مظلام ہے اور حماس ظالم ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف پٹاخے جیسے میزائل داغنے کی جسارت کررہا ہے!
بائیڈن انتظامیہ کے متعلق جن لوگوں کو یہ خوش فہمی تھی کہ وہ ٹرمپ کے بعد امریکہ کی اسرائیل نوازی میں کچھ اعتدال لائیں گے وہ بہت جلد دور ہوگئی ہے کیونکہ بائیڈن صاحب کی اسرائیل نوازی کی تو اپنی ایک تاریخ ہے۔
اسرائیل سے ان کی بے پناہ الفت اور وابستگی کی تاریخ ۳۷۹۱ سے شروع ہوتی ہے جب وہ سینیٹر کی حیثیت میں اسرائیل کے دورے پر گئے تھے اور اس وقت کی اسرائیلی وزیرِ اعظم گولڈا مئیر کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی سعادت حاصل کی تھی۔ یہ وہی گولڈا مئیر تھیں جو امریکہ کی ریاست وسکونسن میں پیدا ہوئی تھیں لیکن ان کی فلسطین اور فلسطینیوں سے دشمنی ایسی تھی کہ ان کا یہ نعرہ تھا کہ فلسطین نام کی کسی قوم کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ لیکن بائیڈن صاحب ان سے بے پناہ متاثر تھے۔ پھر انہوں نے ایک موقع پر اسرائیل کی حمایت کرتے ہوئے یہ تاریخی جملہ بھی ارشاد فرمایا تھا کہ اسرائیل تو مشرقِ وسطی میں مغربی اور امریکہ مفادات کا پاسبان ہے اور اگر اسرائیل نام کی کوئی ریاست نہ بھی ہوتی تو امریکہ کیلئے اسے ایجاد کرنا ناگزیر ہوجاتا!
ایک اور موقع پر انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ صیہونی ہونے کیلئے یہودی ہونا ضروری نہیں اور وہ یہودی نہ ہوتے ہوئے بھی صیہونی ہونے پر فخر محسوس کرتے ہیں!
تو اسرائیل اور نیتن یاہو کو کھلی چھٹی ہے کہ وہ غزٌہ کو نیست و نابود کردیں، جتنے ہزار بیگناہ فلسطینی شہری چاہیں ہلاک کردیں، غزٌہ کی ہر عمارت کو کھنڈر بنادیں، امریکہ ان پر آنچ نہیں آنے دیگا۔!
مرزا غالب نے جو اپنے محبوب کیلئے کہا تھا وہی آج بائیڈن کا اسرائیل کو پیغام ہے
اسد بسمل ہے کس انداز کا قاتل سے کہتا ہے
تو مشقِ ناز کر خونِ دوعالم میری گردن پر
میرا دل رو رہا ہے یہ سطور لکھتے ہوئے۔ اسلئے کہ مغربی ممالک تو بہر حال غیر ہیں اور ان کی تاریخ یہی ہے، نو آبادیاتی دور سے، کہ انہوں نے دوسروں کی زمینوں پہ قابض ہوکر وہاں خون کی ہولی کھیلی ہے۔ امریکہ نے شمالی امریکہ کے اصل باشندوں کو، جن کو ریڈ انڈین کا خطاب دیا گیا، لاکھوں کے حساب سے تہ تیغ کیا، برطانیہ نے دنیا بھر میں، ہمارے اپنے برٌصغیر ہند و پاک میں کیا کیا ہمیں معلوم ہے، آسٹریلیا میں سفید فام آبادکاروں نے اس برٌِ اعظم کے اصلی باشندوں کا کیا حشر کیا، یہی کہانی نیوزی لینڈ میں وہاں کے اصل مواری باشندوں کے خلاف دہرائی گئی، کینیڈا میں یورپ سے آنے والوں نے اس کے مقامی باشندوں کے ساتھ یہی سلوک روا رکھا کہ ان کے بچوں کو ماں باپ سے زبردستی چھین کر مشنریوں کے حوالے کردیا جاتا تھا اور یہ سلسلہ نسل بعد نسل جاری رہا!
لیکن رونا تو اپنوں کا ہے جو ایک خدا کی توحید پہ ایمان رکھتے ہیں، ایک رسول کا کلمہ پڑھتے ہیں لیکن مظلوم فلسطینیوں کی حمایت کرنے سے ان کی زبانیں گنگ ہوجاتی ہیں۔ اسرائیل نے گذشتہ پندرہ برس سے غزٌہ کی پٹی کو اپنے حصار میں لیا ہوا ہے جس پر مغربی دنیا کو کوئی پریشانی نہیں کہ غزٌہ کی شہرت دنیا کے سب سے بڑے کھلے جیل کی ہے لیکن مصر نے بھی اسرائیل کی دیکھا دیکھی اور اپنے مغربی سرپرستوں کی رضا اور تائید حاصل کرنے کیلئے غزٌہ کے ساتھ اپنی سرحد کو مستقل بند کیا ہوا ہے۔ اس کا کوئی جواز ہے سوا اسکے کہ مغرب کی غلامی نے اس کے فرعونی حکمراں کی عقل پہ پردے ڈال دئیے ہیں۔
اور ان خلیجی عرب ممالک کا کیا جو اسرائیل کے مظالم کی تاریخ جانتے بوجھتے ہوئے بھی اس کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لیجانے کیلئے تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں اور مظلوم فلسطینیوں کی آہ و بکا سے ان کے کانوں پر جوں بھی نہیں رینگتی؟
میں نے اپنی گنہگار آنکھوں سے اپنے سفارتی سفر اور تجربہ میں امیر عربوں کو جس حقارت سے فلسطینیوں کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے اس کے بعد مجھے ان کے انسانیت سوز رویٌے پہ حیرت نہیں ہوتی۔ مجھے گلہ اگر ہے تو اپنے پیدا کرنے والے سے ہے جو منصفِ ازل ہے یہ میرا ایمان ہے اور اسی لئے میں اس مالکِ حقیقی سے یہ گلہ گرنے کی جسارت کررہا ہوں جس کا اظہار فیض احمد فیض نے کیا خوب کیا تھا:
مٹ جائیگی جب خلق تو انصاف کروگے
منصف ہو تو اب حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے
اور آج مجھے غزٌہ کے محصور و مجبور باشندوں کو اس عہد کے یزید کے ہاتھوں قتل ہوتے دیکھ کر مظلومِ کربلا، سیٌد الشہدا امامِ عالی مقام کا وہ آخری استغاثہ یاد آرہا ہے جو آپ نے وقتِ عاشور کربلا کے مقتل میں بلند کیا تھا:
ھل من ناصری، ینصرنا!
میرا کوئی مددگار ہے تو مدد کو آئے!
میرے مالک نے مجھے بہت کچھ دیا، مجھ پہ اس منعمِ حقیقی کا کرم بے پایاں رہا، مجھ جیسے کم ہی خوش نصیب ہونگے جنہیں ایک زندگی میں اتنا کچھ ملا۔ لیکن اب میری اپنے پالن ہار سے ایک سب سے بڑی التجا یہ ہے کہ وہ مجھے میری زندگی میں یہ خوش بختی دیدے کہ ہمیشہ کیلئے آنکھ بند ہونے سے پہلے میں مظلوم فلسطینیوں اور اتنے ہی مظلوم کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑ توڑنے والے فراعین کا وہی حشر دیکھ سکوں جو بنی اسرائیل کو ستانے والے فرعون کا ہوا تھا!
أأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأ