سیاست کی بساط!

286

پاکستان کی یہ قسمت بھی رہی کہ کوئی دانشور سیاست دان ملک کو نہیں ملا، دانشور سیاست دان کی تعریف یہ نہیں کہ وہ فلاسفر ہو اور فلسفے پر عبور رکھتا ہو، ارسطو سے نطشے تک اس کی پہنچ ہو اور فلسفے کی باتیں کرتا ہو، دانشور سیاست دان کی تعریف آسان الفاظ میں یہ ہے کہ اس کو اپنے ملک کے مسائل کا بھرپور ادراک ہو اور وہ ان کے حل کے لئے ر استے نکالنا جانتا ہو ظاہر ہے کہ سیاست معیشت کی بہتری کا دوسرا نام ہے کسی لیڈر کو ملک کے معاشی مسائل کا کماحقہ علم ہونا ضروری ہے اور یہ بھی کہ ملک کے وسائل کو کیسے منظم کیا جائے اور ان کی منصفانہ تقسیم کیسے کی جا سکتی ہے، اس مقصد کے لئے دنیا میں موجود ماڈلز سے استفادہ کیا جا سکتا ہے یا ان کو ملکی حالات کے مطابق MODIFYکیا جاسکتا ہے، ہم نے پاکستان میں سیاست کی انوکھی تعریف وضع کر لی، اور وہ یہ کہ عوام کو اندھیرے میں کیسے رکھا جائے اور ان کو قابو میں کیسے رکھا جائے، تقسیم ہند سے قبل بیوروکریسی یہ کام نہیں کر سکتی تھی انگریز حکومت بھی کسی حد تک تو جوابدہ تو تھی ہی، مکمل طور پر نہ سہی، کم و بیش انصاف بھی مل جاتا تھا بیوروکریسی حکومت کی پالیسیوں پر من و عن عمل کرتی تھی، پولیس میں رشوت تھی مگر دیدہ دلیری نہ تھی، غلام محمد ICSتھے اور معیشت کے بہت اچھے ٹیکنیشن، چودھری محمد علی بھی ICSتھے دونوں تقسیم ہند سے قبل اپنی حدود میں رہے تقسیم کے بعد دونوں نے پر پرزے نکالنا شروع کئے چودھری محمد علی بیوروکریسی کا وہ شخص تھا جس نے قائداعظم کی ایک تقریر کو ایڈٹ کیا اور کہا گیا کہ ایسا کرنا مفاد عامہ میں ضروری تھا پاکستان میں یہ اصطلاح پہلی بار وضع کی گئی اور پھر اس کا بے دریغ استعمال ہوا، خدا بھلا کرے، ڈاکٹر مہدی کا کہ ان کی ریسرچ کے باعث یہ بات منظر عام پر آئی ورنہ ڈاکٹر صفدر جیسے لوگ موجود تھے جو تقسیم کی تاریخ کے بارے میں من گھڑت کہانیاں سناتے رہے، ان میں ایک بات یہ بھی ہے کہ قائداعظم جائے نماز پر بیٹھے تھے اور زار و قطار رو رہے تھے یا یہ کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا، ڈاکٹر صفدر محمود نے تاریخ کے نام پر بے تحاشا فکشن لکھا اور اس کو نصابی کتب کا حصہ بنا لیا گیا۔
پاکستان کے سیاسی حلقوں میں ابتدا سے ہی یہ سوچ پرورش پانے لگی کہ عوام کو چکمہ کیسے دیا جائے اور ان کو قابو میں کیسے رکھا جائے، یہ اس لئے بھی ضروری سمجھا گیا کہ بنگالی آبادی درد سر بن سکتی تھی جو سیاسی طور پر مغربی پاکستان کی آبادی سے زیادہ باشعور تھی، بنگالی سیاست دانوں نے لیاقت علی خان کے اس اقدام کی بھی مخالفت کی تھی کہ قائداعظم کے اقدام کی نفی کی جائے قائداعظم نے گورنر جنرل بننے کے بعد مسلم لیگ کی صدارت چھوڑ دی تھی اور اس بات کو دستور ساز اسمبلی سے منظور کر لیا تھا لیاقت علی خان نے اس قانون کو منسوخ کرایا اور وزارت عظمیٰ کے ساتھ مسلم لیگ کی صدارت پر بھی قبضہ کر لیا، تب سے یہ روایت چلی آرہی ہے کہ پارٹی کا صدر پبلک آفس HOLDکرنے کے باوجود اپنی جماعت کی سربراہی نہیں چھوڑتا تاکہ پارٹی پر اس کی مضبوط گرفت رہے، لیاقت علی خان کے ہاتھوں یہ بھی ہوا کہ قرارداد مقاصد منظور کرائی گئی اور حکومت کو مذہب کے تابع کر دیا، یہ اقدام اس لئے کیا گیا کہ سیاستدانوں کے خلاف تو بغاوت ہو سکتی ہے لہٰذا عالموں کی خدمات مستعار لی جائیں اور وہ آیات اور احادیث سنا کر لوگوں کو قابو میں رکھیں، سو یہ پاکستان کی سیاست کی ایک روایت بن گئی کہ حکومتیں دینی جماعتوں کو اسمبلی کی چند سیٹوں کی رشوت دے کر مذہب کے نام پر اپنے کام نکلواتی ہیں وہ عالمِ دین جو عسرت میں زندگی کاٹتا تھا عشرت سے شناسا ہو گیا اور اس عشرت کی لت ایسی پڑی کہ پاکستان میں ایک سیاسی اسلام ایجاد کر لیا گیا، نام نہاد جہاد افغانستان کے زمانے میں ان کے ہاتھوں میں ہتھیار بھی پکڑا دئیے گئے، جہالت کے ہاتھوں میں ہتھیار آجائیں تو مذہبی فسطائیت کو لگام نہیں دی جا سکتی، ان کے پاس ایک اور بھیانک ہتھیار بھی تھا جو جنرل ضیاء الحق کے دور سے ہی بے تحاشا استعمال ہونے لگا وہ تھا لائوڈ سپیکر، جہالت کی تمام لغو اور واہیات تبلیغ کے لئے اس کا بھرپور استعمال ہوا اور اب حالت یہ کہ میڈیا ان کے بیانیے کو چیلنج نہیں کر سکتا، ان کو جنرل ضیاء کے دور سے ہی فوج کی کھلی حمایت حاصل ہے، حکومتوں کو بھی ان کی طاقت سے ڈرایا جاتا ہے، وہ پچیس لاکھ افغانی جو مہاجر کیمپوں سے بھاگے اور جن کو نادرا کے عملے نے چند سکوں کے عوض شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنا کر دئیے وہ پاکستان کے امن کے لئے بڑا خطرہ بن گئے، کراچی کی بدامنی کے لئے یہ عناصر ذمہ دار ہیں۔
دنیا میں کسی بھی حکومت کا نظام مذہب سے وابستہ نہیں مگر پاکستان کا آئین مذہب کا پابند ہے اور یہ لوگ پاکستان کو مملکت خداداد کہتے ہیں بھٹو نے آئین میں قانون سازی کو قرآن اور سنت کے تابع کر کے ان عناصر کو فرعونیت کے راستے پر ڈال دیا کسی قسم کی وہ قانون سازی جو مفاد عامہ میں ہو اسلامی نظریاتی کونسل کے حوالے کر دی جاتی ہے، سود، بے حیائی، پردہ، مغربی لباس اور لبرل ازم پر یہ جب چاہیں آستینیں چڑھا سکتے ہیں ، یہ کورونا کا علاج دعا اور وظیفوں سے کرتے ہیں، معیشت کی بہتری ان کا ایجنڈا ہر گز نہیں، کہتے ہیں کہ رزق اگر نہیں اترتا تو یہ تمہارے گناہ ہیں، غربت اور بیماری اللہ کی طرف سے آتی ہے زندگی اور موت خدا کے ہاتھ میں ہے، اس قسم کے بیانیے کے ساتھ ملک میں مادی ترقی آ ہی نہیں سکتی، سول سوسائٹی کے کمزور ہونے کا فائدہ فوج کو ہی ہوتا ہے اور فوج اِن اَن پڑھ عناصر کی سرپرستی سے سول سوسائٹی کو خوف زدہ رکھتی ہے، سیاست دان بھی ان کو محبوب رکھتے ہیں اور ان کے ووٹوں سے اپنی طاقت بڑھا لیتے ہیں۔ نواز شریف نے ایک دہشت گرد اسامہ بن لادن کی مدد ملکی سیاست کے لئے بھی طلب کی تھی، حکومتیں ہمیشہ معاشی مسائل کو حل کرنے کے لئے بنائی جاتی ہیں، پاکستان میں کسی سیاست دان کو معیشت سے مس تھا ہی نہیں، اس وقت پاکستان پر دو سو گھرانوں کا تسلط ہے اور انہی کی حکومت جن کا عوام کے مسائل سے کوئی تعلق نہیں، میڈیا بھی ہر روز ان کو ہی ڈسکس کرتا ہے مستقبل قریب میں معاشی ترقی کے کوئی امکانات نہیں ہیں عمران کی معیشت تو خانقاہی نظام کے لنگر خانوں کے گرد گھوم رہی ہے اور ان کو یہ کہتے ہوئے شرم بھی نہیں آتی کہ پاکستان میں کوئی بھوکا نہیں سوئے گا اور فوج یہ سمجھتی ہے کہ ملی نغموں سے قوم کی بھوک مٹ جاتی ہے یہ بھیانک سچ ہیں مگر اداروں کی ڈھٹائی اس سے بھی زیادہ بھیانک ہے۔