اسرائیلی حکومت کاظلم اور بربریت ،مسلم حکومتیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں!!

322

ایسا ظلم شاید دنیا میں کسی قوم کے ساتھ نہیں ہوا ہو گا جیسی بربریت اسرائیل مسلمانوں اور فلسطینیوں کیساتھ کررہا ہے۔ دنیا کی حالیہ تاریخ گواہ ہے کہ بے گھر نہتے غزہ اور فلسطین میں رہنے والے مسلمانوں پر جس قدر بمباری ہوئی ہے شاید جانوروں کو بھی اس قدر بے رحمی سے نہیں مارا جاتا۔ انسانیت شرمندہ ہے۔ ظلم بھی شرمندہ ہے۔ غیر مذہب کے لوگ شرمندہ ہیں۔ پوری دنیا میں ان مظالم کے خلاف جلوس نکل رہے ہیں۔ خود امریکہ میں اسرائیل کے خلاف مظاہرے ہورہے ہیں لیکن نیتن یاہو کو شرم نہیں آتی وہ کہتا ہے میں اور سبق سکھائوں گا۔ الجزیرہ جس بلڈنگ میں تھا وہ عمارت دھماکے سے بیٹھ گئی۔ اب تک 250سے زیادہ لوگ شہید ہو چکے ہیں جس میں معصوم بچے بھی شامل ہیں۔ ریڈ کراس چیخ رہی ہے۔ دنیا کی ہر قوم چیخ رہی ہے لیکن اسرائیلی وزیراعظم کے کان پر جوں نہیں رینگ رہی ہے۔
اس ظلم کی شروعات جمعہ کی نماز پر بلاجواز فائرنگ سے ہوئی جس مسجد میں گھس کر نمازیوں پر فائرنگ کی گئی، رمضان کا مقدس مہینہ روزے داروں کو خون میں نہلایا گیا ان کا کیا قصور تھا، وہ صرف مسلمان تھے، طاقت کے زعم میں یہودی حکمرانوں نے بلاجواز فائرنگ کی، اس کے بعد یہ سلسلہ چلتا ہی چلا جارہا ہے۔ ہر طرف بمباری ہورہی ہے۔ غریب مسلمان عرب پتھر ماررہے ہیں ۔یہودی فوج گولی ماررہی ہے۔ ایک پتھر کے جواب میں مشین گن سے دس گولیاں لاشوں پر لاشیں گررہی ہیں۔ لیکن اسرائیلی فوج کو روکنے والا کوئی نہیں۔ حماس نے راکٹ اور میزائل چلائے لیکن اسرائیلی ڈیفنس سسٹم ان کو تباہ کر دیتے لیکن اس کا پروپیگنڈا دنیا میں زیادہ ہو جاتا ہے۔ اسرائیل کے چاروں طرف اسلامی ملک ہیں شام کے بشار الاسد ایک طرف ہیں، دوسری طرف مصر میں فوجی حکومت ہے، تیسری طرف کمزور لبنان ہے لیکن سب خاموش ہیں۔ اگر کوئی بول رہا ہے یا تنقید کررہا ہے وہ ترکی کے سربراہ اردگان ہیں۔ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان ہیں۔ ملائیشیا کے سابق وزیراعظم مہاتیر محمد ہیں پاکستان کی قومی اسمبلی نے کل ایک قرارداد مشترکہ طور پر منظور کی ہے بھارت کے مسلماں چیخ رہے ہیں لیکن مسلمانوں کے دشمن مودی نے اسرائیل کے وزیراعظم سے ہاتھ ملایا ہوا ہے ۔سعودی عرب خاموش ہے متحدہ امارات نے چند ماہ پہلے ہی اسرائیل کو تسلیم کیا ہے۔ سفارتی تعلقات بحال کررہا ہے وہ بھی خاموش ہے اس مائنڈ کے جتنے عرب ملک ہیں اومان، بحرین، قطر، سب نے منہ پر تالا لگایا ہوا ہے۔OICنے ایک بہت ہی کمزور قرارداد اسرائیل کے خلاف پاس کی یقینا اسرائیل نے اپنے جوتوں تلے اس قرارداد کو روند ڈالا ہو گا۔ اس کے لئے قراردادوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے جب تک امریکہ اس کے ساتھ ہے اس کو دنیا کی کوئی پروا نہیں ہے ۔اس کے لئے امریکہ بہت اہم ہے جو اس کو مکمل تحفظ دے رہا ہے۔ اس کو دنیا کی کوئی فکر نہیں ہے۔ نیتن یاہو نے بہت بڑا سیاسی کھیل کھیلا ہے۔ اس کی حکومت کئی سالوں سے الیکشن میں شکست کا سامنا کررہی ہے لیکن کسی نہ کسی طرح بچ جاتا ہے اب عوام میں مقبولیت حاصل کرنے کے لئے اور اپنی حکومت کو بچانے کیلئے اس نے یہ آگ اور خون کا کھیل شروع کیا ہے۔ وہ سمجھتا ہے اس طرح وہ عوام میں اپنی مقبولیت دوبارہ حاصل کر لے گا۔ اپنی حکومت کو بچا لے گا۔ اس کے لئے سب سے سستا خون مسلمانوں کا ہی ہے۔ اس کو پتہ ہے حماس اس پر ری ایکٹ کرے گا اور حماس کی طرف سے راکٹوں اور میزائل کی بارش ہو گی۔ ہو سکتا ہے دو چار یہودیوں کی ہلاکتیںبھی ہو جائیں تو اس کو مزید مسلمانوں کو مارنے کا لائسنس مل جائے گا وہ دنیا کو دکھا سکے کہ ہم پر بھی جوابی حملہ ہورہا ہے ہم اپنے دفاع میں بمباری کررہے ہیں۔ ہم ان کو تب تک مارتے جائیں گے جب تک ان کو اپنی غلطی کا احساس نہ ہو جائے حماس اپنے حملے بند نہ کر دے۔ جنگ بندی کا معاہدہ نہ ہو جائے۔ تب تک ان مسلمانوں کا خون بہاتے رہو۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے دونوں فریقوں سے جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔ بند کمرے میں سلامتی کونسل کا اجلاس بھی ہوا لیکن نتیجہ ابھی تک کوئی بھی برآمد نہیں ہوا ہے۔ روز ہلاکتوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ دنیا بے بس ہے اور انسانیت خاموش ہے۔
اس مسئلہ کا حل ایک ہی ہے دو ملکوں کا قیام، ایک فلسطینی ریاست قائم ہو اسرائیلی ریاست پہلے سے قائم ہے دونوں ملکوں کی سکیورٹی کے ضامن سلامتی کونسل کے ممبروں کی فوج ہو تا کہ خطے میں دونوں مذاہب کے لوگ سکون سے اپنی زندگی گزار سکیں۔ دیکھیں آئندہ آنے والا وقت عرب فلسطینی مسلمانوں کے لئے کیا حالات لیکرآتا ہے۔