ال نقبج

262

فلسطین میں دو سو کے قریب نہتے شہری اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں شہید ہو چکے ہیں غازہ میں کئی اونچی عمارتیں فضائی حملوں میں مٹی کا ڈھیر بنا دی گئی ہیں بحیرہ روم کے ساحل پر واقع بیس لاکھ لوگوں کے اس شہر بے اماں میں آجکل پانی اور بجلی نا پید ہے بجلی ہر روز صرف پانچ گھنٹوں کیلئے آتی ہے اور پانی ہر دوسرے روز چند گھنٹوں کیلئے دیا جاتا ہے کورونا کی وجہ سے اسپتالوں میں جگہ نہیں ‘ فلسطین کی زمین ایک بار پھر لہو رنگ ہے اور آسمان سے اسرائیل کا غیض و غضب نوکیلے بموں کی صورت میں برس رہا ہے اب اپنے عہد کا فرعون اسرائیلی وزیر اعظم بنجا من نتین یاہو غازہ پر زمینی حملے کی دھمکی بھی دے رہا ہے سات برس قبل جب اسرائیلی ٹینک غازہ میں داخل ہوے تھے تو ہزاروں فلسطینی شہید کر دئے گئے تھے اسوقت بھی اور آج بھی دنیا تماشہ کرنے ‘ عالمی اداروں کے اجلاس بلانے اور اسرائیل سے استدعائیں کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہ کر سکی تھی اسلامی دنیا کے چھپن ممالک میں سے کئی تو فلسطینیوں کو بھلا کر اسرائیل سے دوستی کرنے اور کاروباری مراسم بڑھانے کا سوچ رہے ہیں خلیجی امارات’ بحرین‘ سوڈان اور مراکش نے اس شرط پر صیہونی ریاست کو گلے لگایا تھا کہ وہ فلسطینیوںپر عرصہ حیات تنگ نہ کرے گی انہیں سکھ کا سانس لینے دے گی مگر اسرائیل غازہ میں بمباری کر کے اپنے مسلمان دوستوں کا منہ چڑا رہا ہے اور وہ اسکی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتے آج بھی اسرائیلی سیاح ہر روز سینکڑوں کی تعداد میں خلیجی ممالک جا رہے ہیں اور کسی بادشاہ کی ہمت نہیں ہو رہی کہ وہ اسرائیل کو اس معاہدے کی یاد دلا سکے جس کی رو سے اس نے فلسطینیوں پر مظالم ڈھانے سے گریز کرنا تھا
ہمیشہ کی طرح آج بھی ایران ایک ایسا ملک ہے جو خم ٹھونک کر خون میں نہلائے ہوے فلسطینیوں کیساتھ کھڑا ہے وہ انہیں مالی امداد دینے کے علاوہ راکٹ اور میزائل بھی مہیا کر رہا ہے اور کھلم کھلا کہہ بھی رہا ہے کہ وہ ہر حالت میں اہل فلسطین کی مدد کرتا رہیگا غازہ کی ساحلی پٹی کے دو طرف اسرائیل کی نئی آبادیاں ہیں جن کی حفاظت کیلئے اسلحہ بدست فوجی کھڑے ہیں ایکطرف بحیرہ روم ہے اور دوسری طرف صحرائے سینا میں امریکہ کے خریدے ہوے مصری فوجیوں نے غازہ کا محاصرہ کر رکھا ہے جس دن مصری فوج نے یہ محاصرہ ختم کر دیا اسدن اسرائیل کیلئے غازہ پر قبضہ بر قرار رکھنا نا ممکن ہو جائیگامگر مصر کی فوج اسوقت تک یہ نوکری کرتی رہیگی کہ جب تک اسے ہر سال سوا ارب ڈالر کی امریکی امداد ملتی رہیگی غازہ کی پٹی اگر چاروں اطراف سے محاصرے میں ہے تو ایسے میں ایرانی میزائل اور راکٹ کیسے سمگل ہو رہے ہیںاس سوال کا تفصیلی جواب آگے چل کر دیا جائیگامسلمانوں کے آلام اور ابتلا کی داستان غازہ میں ختم نہیں ہوتی آٹھ مئی کی سہ پہر کابل کے مضافات میںدشت برچی کے مقام پر سیدالشہدا ہائی سکول کے گیٹ پر اسوقت ایک خود کش دھماکے میں بارود سے بھری ہوئی گاڑی کو اڑا دیا گیا جب طالب علم لڑکیاں چھٹی ہونے پر گھر جا رہی تھیںجب معصوم بچیاں بد حواس ہو کر بھاگیں تو مزید بم دھماکے ہوئے جن میں بیاسی افراد ہلاک ہوے ان میں ایک بڑی تعداد ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والی بچیوں کی تھی ان دھماکوں کی ذمہ داری ابھی تک کسی نے قبول نہیں کی مگر صدر اشرف غنی کی حکومت نے اسکا ذمہ دار طالبان کو ٹھراتے ہوے کہا ہے کہ وہ ہمیشہ سے لڑکیوں کی تعلیم کی مخالفت کرتے رہے ہیں
کابل سے چند سو میل کے فاصلے پر مقبوضہ کشمیر میںنریندرا مودی کے پندرہ اگست 2019 میں لگائے ہوے لاک ڈائون کو بائیس ماہ ہو چکے ہیںآٹھ لاکھ بھارتی فوجی آج بھی بندوقیں تانے مقبوضہ کشمیر کے کوچہ و بازار میں دندنا رہے ہیںآئے روز کشمیریوں کو بر سر بازار شہید کیا جا رہا ہے لائن آف کنٹرول پر نام نہاد جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں افغانستان اور سنکیانگ سے لیکر فلسطین‘ شام اور عراق تک مسلمانوں کے خون سے زمین لہو رنگ ہے فیض احمد فیض نے جو بات نصف صدی پہلے کہی تھی اسکی باز گشت آج بھی سنائی دے رہی ہے
چشم نم‘ جان شوریدہ کافی نہیں۔۔۔۔۔۔تہمت عشق پوشیدہ کافی نہیں
آج بازار میں پا بجولاں چلو
دشت افشاں چلو‘ مست و رقصاں چلو۔۔۔۔خاک بر سر چلوخوں بداماں چلو
راہ تکتا ہے سب شہر جاناں چلو
رخت دل باندھ لو دل فگارو چلو۔۔۔۔۔۔۔پھر ہمیں قتل ہو آئیں یارو چلو
فلسطین کے بیٹے انہی دنوں سے پا بجولاں اور خوں بداماں چلے جا رہے ہیں جن دنوں فیض نے اپنی انقلابی شاعری سے ایک دنیا کو آشفتگان خاک کی طرف متوجہ کیا تھا آج سر زمین فلسطین ایک مرتبہ پھر خون میں نہلا دی گئی ہے مگر سوا ارب مسلمانوں میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو یہ کہہ سکے ؎
اے خاک نشینو اٹھ بیٹھو‘ وہ وقت قریب آ پہنچا ہے
جب تخت گرائے جائیں گے ‘ جب تاج اچھالے جائیں گے
اب ٹوٹ گریں گی زنجیریں اب زندانوں کی خیر نہیں
جو دریا جھوم کے اٹھے ہیں ‘ تنکوں سے نہ ٹالے جائیں گے
وہ وقت قریب آیا ہے یا نہیں اتنا ضرور ہوا ہے کہ اسرائیل کو امریکہ کی دی ہوئی آئرن ڈوم ٹیکنالوجی غازہ سے چلنے والے میزائلوں کا راستہ روکنے میں ناکام رہی ہے اس کامیابی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ظالم کا گریبان آج بھی مظلوم کے ہاتھوں کی پہنچ سے باہر نہیں فلسطین کے بیٹوں نے ایک مرتبہ پھر اپنے خون سے یہ لکھ دیا ہے کہ وہ تا بہ ابد اپنی آزادی کیلئے لڑتے رہیں گے وہ چند خود غرض عرب ریاستوں کو اپنی سرزمین کا سودا کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے آئرن ڈوم کے اوپر سے گذرنے والے میزائلوں نے مغرب والوں کو پیغام پہنچا دیا ہے کہ فلسطین کے مسئلے کو قالین کے نیچے نہیں دھکیلا جا سکتا ۔ یروشلم ‘ شیخ جارح ‘ لاڈ اور درجنوں اسرائیلی شہروں میں فلسطینیوں اور یہودیوں میں پہلی مرتبہ ہونیوالی دست بدست جنگ کا احوال اگلے کالم میں بیان کیا جائیگا