نون لیگیوںکی کرتوتیں، اب عدلیہ کا وقار کیسے بحال ہو؟

347

سوشل میڈیا پر ایک صاحب نے پنجاب ہائی کورٹ کے جسٹس باقر نجفی کے بارے میں بتایا کہ ان کے کریڈٹ میں بڑے بڑے کیسز ہیں۔ مثلاً نواز شریف کو پلیٹلیٹس اوپر نیچے ہونے پر ملک سے باہر جانے کی اجازت اسی نے دی تھی۔اس کا نام ای ایس ایل سے بھی اسی نے نکالا تھا۔ مریم نواز کی ضمانت بھی اسی نے لی ہوئی ہے۔شہباز شریف کی منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت اسی نے لی ہوئی ہے۔شہباز شریف کا نام بھی ای ایل سی سے نکالنے والا فیصلہ بھی اسی کا ہے۔حال میں،شہباز شریف کو ایک دفعہ باہر جا کر علاج کرانے کی اجازت بھی اسی ۔۔۔نے دی ہے۔اب آپ خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس کے گلے میں جو پٹہ ہے اس پر کیا لکھا ہو گا؟یہ معلومات وکی پیڈیا میں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔یہ اتفاق ہے یا کچھ اور کہ نواز فیملی کے مقدمے اسی جج کے سامنے پیش ہوتے ہیں ۔جن مقدمات پر اوروں کو ہفتے اور مہینے یا سال لگ جاتے ہیں ، وہ فیصلے گھنٹوں میں ان کے حق میں ہو جاتے ہیں۔تعجب ہے۔ان معاملات کو دیکھ کر اگر کوئی بھلا مانس یہ کہے کہ جج صاحب یا تو اچھا خاصا مال شریف فیملی سے لے چکے ہیں اور یا ان کی بھی مریم کے میڈیا سیل نے وڈیو بنا رکھی ہے، تو کیا غلط ہو گا؟ مریم صفدر کئی برس سے اس قبیح حرکت میں ،ملوث پائی گئی ہیں ۔ عین ممکن ہے کہ وڈیو کے ذریعے بلیک میل کرنے کا خبیث مشورہ بھارتی ایجنسی را کا ہو جو وہ براستہ میاں صاحب دیتے رہتے ہیں۔ چونکہ را میاں صاحب کو بھی تو بلیک میل کر رہی ہے،جس کی وجہ سے وہ لندن سے، را کے مشورے پر، بے چوں چراں،مریم کی راہنمائی کرتے رہتے ہیں۔
جسٹس علی باقر نجفی اس وقت شریف فیملی کی نظرمیں آئے جب انہیں ایک رکنی کمیشن کا سربراہ بنایا گیاتھا جس نے ماڈل ٹائون کے سانحہ پر رپورٹ بنائی تھی ۔ اس واقعہ میں، پولیس کی کاروائی کے نتیجہ میںپاکستان عوامی تحریک کے14کارکن ہلاک ہوئے۔اس وقت کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے رپورٹ کو منظر عام پر آنے سے تین سال تک روکے رکھا اور بالاخر عدالت عالیہ کے حکم پر اس کا اجراء کیا گیا۔اس رپورٹ کے مطابق نواز لیگ پنجاب کے وزراء کے احکامات پر ماڈل ٹائون میں پی اے ٹی کے مرکز پر جون2014 میں دھاوا بولا گیا۔اس رپورٹ میں جسٹس باقر نے پنجاب کی حکومت کو ذمہ وار ٹہرایا تھا جنہوں نے پولیس والوں کو مولانا طاہر القادری کی جماعت پاکستان عوامی تحریک کے ماڈل ٹائون میں مرکز پر جارحانہ حملہ کرنے کا مجرم قرار دیا تھا۔اور اس میں کیا شک ہے کہ پولیس والے پنجاب کے وزیر داخلہ رانا ثنا ء اللہ اور وزیر اعلیٰ شہبار شریف کی مرضی کے بغیر اتنا بڑا قدم کیسے اٹھا سکتے تھے؟
رانا ثناء اللہ کے مطابق رپورٹ میں کسی سرکاری افسر کو ہلاکتوں کا ذمہ وار نہیں ٹہرایا گیا تھا۔کہا جاتا ہے کہ انہیں(جسٹس باقر کو) کوئی مارنے کی دھمکیاں بھی ملی تھیں۔بعد میں پیش آنے والے حالات اور جج صاحب کے رویّوںسے صاف پتہ چلتا ہے کہ ان کے خیالات شریف فیملی کی طرف بالکل بدل چکے تھے، جیسے وہ ان کے تابعدار غلام بن گئے ہوں۔ان صاحب کے قابل ذکر کارناموں میں یہ بھی ہے کہ جب لاہور کے امراض قلب کے ہسپتالوں پر جن وکیلوں نے دھاوا بولا تھا اور کئی مریض جاں بحق ہوئے تھے، ان کے سامنے لایا گیا، توباقر صاحب نے بجائے مقدمہ سننے کے اسے آگے چلا دیا۔ ایک اور مشہور مقدمہ ان کے پیٹی بھائی ڈسٹرکٹ اور سیشن جج ارشد ملک کا تھا جنہوں نے نواز شریف کو العزیزیہ مل میں نیب میں سزا وار ٹہرایا گیاتھا اور یہ اس سات رکنی بینچ میں شامل تھے۔ یہ تقریباً دو برس پہلے کا واقعہ ہے جب مریم نواز نے جج ارشد صاحب کی وڈیو ایک پریس کانفرنس میں دکھائی۔ ارشد صاحب نے اپنے حلفیہ بیان میں کہا کہ سیاسی جماعت نے انکی غیر اخلاقی حرکات کی وڈیو بنا کر انہیں بلیک میل کیا تھا۔
وڈیو کے ذریعے بلیک میلنگ پاکستانی سیاست کو ایک افسوسناک حصہ بن گئی لگتی ہے۔11 نومبر 2007کے سنڈے ٹائمز کی خبر تھی کہ پاکستان کی سپریم کورٹ کے ججز اور ان کے بچوں کی طوائفوں اور عاشقوں کے ساتھ رنگ رلیاں مناتے فلم کر لیا گیا جس میں شبہ فوجی سراغ رساں ایجنسی پر کیا گیا۔اس وڈیو کی کاپیاں کم از کم تین ججوں کو بھیجی گئیں۔ یہ وہ جج تھے جو جنرل پرویز مشرف کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دینے کا فیصلہ سنانے والے تھے۔ ایک وڈیو میں ایک جج صاحب کو اپنی نو جوان داشتہ کے ساتھ دکھایا گیا تھا اور دوسری میں جج کی بیٹی کو اپنے دوست لڑکے کے ساتھ ہمبستری میں مشغول دکھایا گیا تھا۔ یہ بھی کوئی زیادہ پرانی بات نہیں جب ملتان کے ایک مفتی صاحب کی وڈیو ایک لڑکی قندیل کے ساتھ بنا کردکھائی گئی اور انہیں بد نام کیا گیا۔جرم کی نوعیت ہی ایسی ہے کہ اس قسم کی حرکات سب کی سب منظر عام پر بھی نہیں آتیں۔
مقابل پروگرام میں قبلہ ہارون الرشید نے مریم صفدر کے میڈیا سیل کے بارے میں کہا، کہ ’’ جسٹس عمرعطا بندیال نے ڈسکہ کے انتخابات کے بارے میں کہا کہ چند پولنگ سٹیشنز کا مسئلہ ہے تو پورے حلقہ میں کیسے پولنگ ہو سکتی ہے؟ اور فائرنگ کا الزام تو نون لیگ پر بھی ہے کہ انہوں نے بھی کی۔ اب ججوں کی جو کیریکٹر (assassination) مہم چل رہی ہے ، تو وہ ان اکائونٹس سے ہو رہی ہے جن کی مریم براہ راست نگرانی کرتی ہیں، میں پوری ذمہ واری سے کہہ رہا ہوں۔ دوسرے دن ایک جج ان کے حق میں فیصلہ دیتے ہیں، وہ بالکل ٹھیک ہے، وہ جج اچھے ہیں۔زبیر عمر نے کہہ دیا کہ نواز شریف اس لیے واپس نہیں آ رہے کہ انہیں یہاں انصاف مل نہیں سکتا‘‘۔حالانکہ اگر میاں صاحب کا مقدمہ کسی صورت لاہور ہائی کورٹ میں پیش ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ ان کے سات خون معاف نہ ہوں۔ وہ دھل دھلا کر ہائی کورٹ سے سرخ رو ہو کر نہ نکلیں؟مسئلہ غالباً یہ ہے کہ عمران خان کی حکومت میں کچھ رکاوٹیں ضرور کھڑی کی جا سکتی ہیں۔ اسی لیے میاں صاحب کا پہلا ہدف عمران خان کو فارغ کرنا ہے۔قارئین نے دیکھا ہو گا کہ پچھلے کئی مہینوں سے نواز لیگی اسی ہدف کے حصول میںسر گرداں ہیں۔پی ڈی ایم جو گیارہ جماعتوں کا اتحاد مولانا فضل الرحمن کی سر براہی میں تھا اسی لیے بنایا گیا۔لیکن کچھ مہینے کی بے نتیجہ کی مہم بازی میں بس یہ حاصل ہوا کہ اس اجتہاد سے پی پی پی اور این اے پی دونوں نکل گئیں، جب انہیں یہ سمجھ آ گئی کہ یہ سارا میلہ تو نواز شریف کو واپس پاکستان لاکر وزیر اعظم بنانے کے لیے تھا۔ ابھی بھی یہ لنگڑی لولی مہم ایک سیاسی شکست خوردہ اور بے ضمیر شخص کی سر براہی میں ہاتھ پائوں مارنے میں مصروف ہے۔ اس میں ن لیگ کے علاوہ صرف وہ سیاستدان رہ گئے ہیں جو نواز شریف کی واپسی سے کچھ مستفید ہو سکتے ہیں۔
اب ذرا پاکستان کے سپریم کورٹ کے ججوں کی طرف بھی نظر ڈالیں۔ چند سال پہلے، صدر پاکستان نے سپریم کورٹ کے فاضل جج قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کیا کہ موصوف کی بیوی کی لندن میں جائدادیں ہیں ان کی خرید کی رقم کہاں سے آئی؟ یہ کچھ وہ ہی پانامہ والا معاملہ تھا۔ یہ ایک بہت بڑا الزام تھا اور لگایا بھی پاکستان کی سب سے بڑی شخصیت نے تھا۔ سپریم کورٹ کو پہلے تو پسو پڑ گئے اور کتنے مہینے کیس کو ٹانگوں کے نیچے رکھ کر بیٹھی رہی۔ خدا خدا کر کے ایک دس رکنی بینچ بٹھایا گیا۔ جسٹس عمر عطا بندیال کی سر براہی میں اس بینچ نے19 جون 2020 کو صدر صاحب کے ریفیرنس کا فیصلہ سنایا کہ یہ کیس ایف بی آر کو تحقیق کے لیے حوالے کر دیا جائے۔ اس فیصلہ سے چار ججوں نے اختلاف کیا ۔ جب ایف بی آر کی رپورٹ آئی جو قاضی صاحب کے حق میں نہیں تھی تو قاضی صاحب نے سپریم کورٹ سے مقد مہ کو دوبارہ سے سننے کی درخواست دی۔ جسے 4-6کے فیصلہ پر قاضی صاحب اور ان کی بیگم سارینہ عیسیٰ کی طرف سے سنا گیا۔کتنے دن سننے کا جو ڈرامہ ہوا اسے بقول شیکسپیر all sound and fury، signifying nothing اور کچھ نہیں کہا جا سکتا، اعلیٰ عدالت نے فیصلہ کیا فاضل جج (قاضی) اور ان کے بیوی بچوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جاسکتی۔ چار ججوں نے اس فیصلہ سے انکار کیا جو تھے: جسٹس بندیال، سجاد علی شاہ، منیب اختر اور قاضی امین۔ قاضی صاحب کے حامیوں نے، یعنی نون لیگیوں نے جشن منائے کیونکہ یہ صاحب مستقبل قریب میں سپریم کورٹ کے چیف بننے کی لائین میں ہیں۔ جونہی یہ چیف بنے تو نواز شریف کی وطن واپسی کے امکانات روشن ہو جائیں گے۔
سوشل میڈیا بھی کیا چیز ہے؟ کس غضب کی یہ وڈیو میرے نام آتی ہیں۔ یہ تو محض اتفاق ہے کہ راقم پاکستانی عدلیہ پر کالم لکھ رہا تھا کہ یہ وڈیو کسی مہربان نے بھیج دی۔اس میں جس فہرست کا ذکر ہے وہ ایک سال پرانی ہے اور راقم اپنے کسی گذشتہ کالم میں اس کا ذکر بھی کر چکا ہے۔ لیکن بات ہی کچھ ایسی ہے اس موقع پر دہرانا بنتا ہے۔ خاتون کا نام ہے سونیا ستی۔انہوں نے بتایا کہ’’ انٹرنیشنل ورلڈ جسٹس پروگرام کے مطابق پاکستان کا عدالتی نظام دنیا کے 128عدالتی نظاموں کی فہرست میں 120پر آ گیا ہے۔ یہ کتنی خوشی کی بات ہے کہ ہمارا عدالتی نظام دنیا کا بد ترین نہیں، بد تر ضرور ہے اور شرمناک بھی۔ آخر کوئی تو اعزاز ہونا چاہیے۔ یہ سن کر آپ کو اور بھی خوشی ہوگی کہ پاکستان کا عدالتی نظام افغانستان، مصر کمبوڈیا سے ایک دو پایئدان اوپر قرار دیا گیا ہے ۔ اور یہ دنیا کے مہنگے ترین نظاموں میں شمار ہوتا ہے۔ اور پاکستان کے دوسرے اداروں سے موازنہ میں بھی بد ترین کارکردگی پاکستانی عدلیہ کی ہے۔ چیف جسٹس کو بدھائی ہو۔خاتون نے کہا،کسی بھی ملک کا عدالتی نظام اس کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے جس کے بل بوتے پر پورا ملک کھڑا ہوتا ہے۔جب نظام انصاف کو دیمک لگ جاتی ہے تو پورا سسٹم دھڑام سے گر جاتا ہے۔سوال یہ ہے کہ انگریز کے بنائے ہوئے اس بوسیدہ نظام کو کیسے ٹھیک کیا جا سکتا ہے؟اس کو جو مسائل درپیش ہیں ان میں ہے میرٹ کا بد ترین حصہ۔پاکستان میں ڈاکٹر، انجینئر اور سول سرونٹ بننے کے لیے کڑا امتحان پاس کرنا ہوتا ہے۔لیکن جج یا وکیل بننے کے لیے ایسی کوئی شرط نہیں۔اگر آپ جنوبی پنجاب یا اندرون سندھ کی کسی گئی گذری یونیورسٹی سے فرسٹ ڈویژن میں بی اے کیا ہو تو آپکو کسی بھی سرکاری یا پرائیویٹ یونیورسٹی میں داخلہ مل جاتا ہے۔ اور چند سال یونیورسٹی کی کینٹین میں دہی بھلے کھلائیں تو آپ کو قانون کی ڈگری مل جاتی ہے۔اور اپنے نام کے ساتھ ایڈوکیٹ لکھ سکتے ہیں۔اس کا مطلب ہے کہ آپ وکیل بن چکے ہیں۔اب آپ جو مرضی کریں، غنڈہ گردی کریں، کوئی آپ کو ہاتھ نہیں لگا سکتا۔ دنیا کا نالائق ترین انسان ہو کر بھی آپ وکیل بن گئے۔ آپ چند سال پریکٹس کریں، اگر آپ کی اپروچ ہے، یا آپ کی بہن یا بیوی کسی بڑے سیاستدان کو پسند آ گئی ہے، تو آپ بآسانی ، بغیر کوئی امتحان دیئے جج بن سکتے ہیں۔اور پھر آپ ملک کے ہر قانون، ہر ادارے کے اوپر ،کسی بھی منتخب وزیر اعظم کو پھانسی کی سزا سنا سکتے ہیں۔آپ کا دل کرے تو کسی بھی وزیر اعظم کو جیل بھیج سکتے ہیںیا رحم کھا کر اسے پاکستان سے باہر بھی بھیج سکتے ہیں۔یہی نہیں، اگر آپ پر الزام لگ جاتا ہے کہ لندن میں آپکی بیوی کی کڑوڑوں کی جائیداد ہے، جس کا کوئی حساب کتاب نہیں، تو آپ ایسا قانون بنوا لیں گے کہ کبھی کسی جج کی جائیداد پر انگلی نہیں اٹھا ئی جاسکے گی۔تو مجھے بتائیں کہ ایسے عدالتی نظام کو کیا کہا جائے؟تو ناظرین، اگر پاکستان کو بچانا ہے تو اس کے عدالتی نظام کو میرٹ اورصلاحیت کی بنیادوں پر چلانا ہو گا اور اس کو کسی اتھارٹی کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا‘‘۔راقم کی رائے میں،اس کے علاوہ، ہر نئے امیدوار کو جج کا حلف اٹھانے سے پہلے اپنے اثاثوں کا مکمل حساب دینا ہو گا جس میں اپنے اور اپنے بیوی بچوں کی جائدادوں منقولہ اور غیر منقولہ اثاثوں کی تفصیل بھی دینی ہو گی۔ کسی ایسی شکل میں جو عدالت میں قابل قبول ہو، اور بوقت ضرورت کام آوے۔