کووڈ کی دوسری عید!!

297

ہر سال عید آتی ہے اور اپنے ساتھ ڈھیر ساری خوشیاں لاتی ہے، پورے مہینے روزے رکھنے کی خوشی، عبادات اور دعائوں کی فضیلتیں حاصل کرنے خوشی، سب اپنے اپنے انداز سے عید کی خوشیاں مناتے ہیں، کہیں عید ملن پارٹیاں ہوتی ہیںبڑے پیمانے پر تو کہیں گھریلو دعوتیں اور پھر تمام سال ان باتوں کی یادیں رہ جاتی ہیں لیکن پچھلے سال عید پر کچھ ایسا ہوا جو کہ کسی نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا، کبھی اس تجربے سے نہیں گزرے تھے اور وہ تھا Covidکا عفریت جسے کووڈ 19کا نام دیا گیا۔
کووڈ کے ساتھ ایسی عید آئی 2020ء میں کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے یعنی عید کی نماز پڑھنے تک کیلئے مسجدیں نہیں کھلیں گی، باجماعت نماز پر پابندی ہو گی، فاصلے کو ملحوظ خاطر رکھنا ہو گا، عید پر گلے ملنا تو دور کی بات لوگ ایک دوسرے کے گھر بھی نہیں جائیں گے۔ ہم سب نے ہی اپنے ملنے والوں، اپنے رشتے داروں، دوستوں میں سے کسی کو ضرور کھویا ہے، اس کووڈ کی وجہ سے ہمارے والدقمر علی عباسی کے بہت قریبی اور پرانے دوست ،ہر دلعزیز دوست محمد فیضی بھی 2020ء میں جمعتہ الوداع کی نماز پڑھنے گئے اور وہیں سے کووڈ لگ گیا، لوگ قریب قریب کھڑے تھے، دوست محمد فیضی جیسا ہونہار، قابل انسان ایک ان دیکھے وائرس کی بھینٹ چڑھ گیا، ایسی مثالیں ہر محلے اور ہر گلی میں ملتی ہیں۔
2020ء گزرا تو لگا کہ بس یہ سال بھاری تھا، اب آئندہ عید آئے گی تو چیزیں بہتر ہوں گی، سب کو لگ رہا تھا کہ بس یہ وائرس تین چار مہینے کی کہانی ہے لیکن ایسا ہوا نہیں، تین، چھ مہینے اور پھر پورا سال گزر گیا۔
کووڈ ایک سال سے زیادہ زندگیوں پر حاوی رہا۔ پھر روشنی کی ایک کرن نظر آئی جب خبر آئی کہ بالآخر ویکسین تیار ہو گئی ہے، امریکہ میں دسمبر 2020ء میں خبر آگئی کہ ویکسین مارکیٹ میں آگئی ہے لیکن صرف ان لوگوں کو لگ رہی ہے جو 65سال کی عمر سے زیادہ ہیں، ویکسین لگانے میں خاصی مشکلات پیش آرہی تھیں یعنی جہاں جہاں پر یہ لگائی جارہی تھی وہاں لوگ صبح پانچ بجے سے لائنیں لگاتے، اکثر لوگوں کی باری آتے آتے دوپہر ہو جاتی اور پھر اس وقت تک ویکسین بھی ختم ہو جاتی۔
وقت گزرتے چیزیں بہتر ہوتی گئیں، ایک نہیں اب دو کمپنیوں کی بنائی ویکیسنز لگائی جارہی تھیں اور پھر پانچ مہینے کے اندر اندر امریکہ کی 50فیصد آبادی کو ویکسین کی پہلی خوراک مل گئی۔
اس کووڈ کی وجہ سے ایک سال کے اندر بہت سی چیزیں بدل گئیں، ایک تو پہلی بار سکول virtualہوئے یعنی بچے اپنے کمپیوٹرز کے ساتھ گھر سے کلاسیں لیتے، ان کے ٹیچرز ان کے سامنے نہ ہوتے بلکہ وہ بھی Onlineسبق پڑھا رہے ہوتے اس طرح کسی بھی ٹیچر یا سکول کے ساتھیوں سے ملے بغیر پورا سال گزر گیا، اسی طرح جو لوگ باقاعدہ دفتر جا کر کام کرتے تھے وہ بھی Virtualہو گئے۔ سب گھر بیٹھ کر کام کررہے تھے، دفتروں کی بڑی بڑی بلڈنگیں خالی پڑی تھیں، سیلون اور باربر شاپس بند پڑی تھیں لوگوں نے تین چار مہینوں تک بال نہیں کٹوائے، گھر میں خود طبع آزمائی کرنے لگے۔
2020ء آیا اور گزر گیا نہ لوگوں نے سفر کیا نہ کوئی تفریح نہ کوئی اجتماعات نہ دعوتیں ایسا لگا کہ زندگی منجمد ہو گئی ہے۔
جیسے ہی 2020ء شروع ہوا اور ویکسین لگنا شروع ہوئی لوگوں میں پھر سے زندگی کی امید جاگ اٹھی، مسجدیں کھلنی شروع ہو گئیں لوگ ایک دوسرے سے ملنا شروع ہو گئے۔
بچے واپس سکول بھی جانے لگے اور دفتر کے اوقات میں ٹریفک بھی بڑھنے لگی، ریسٹورنٹ ،جم سب کھلنے لگے۔اس بار 2020ء کی میٹھی عید پھر سے عید لگ رہی تھی، مسجد میں بھی پانچ وقت باجماعت نماز ہوئی اور تراویح بھی باقاعدگی سے ہوئی اسی طرح بازاروں میں بھی بالکل ہی ویسا ہی رش تھا جیسا عموماً عید سے پہلے ہوتا ہے۔
پاکستان میں حالات ویسے نہیں جیسے امریکہ میں ہیں، پاکستان میں ویکسین لگ رہی ہے، اکثر لوگوں کو سمجھانا Educateکرنا کافی مشکل ہوتا ہے پھر بھی حکومتی سطح پر پوری کوششیں کی جارہی ہیں۔
اس بار پاکستان میں پچھلے بار سے عید بہتر گزاری گئی، لوگوں نے حتی الامکان جوش و خروش کا مظاہرہ کیا لیکن کووڈ اب بھی تلوار بن کر سروں پر لٹکا ہوا ہے، کہتے ہیں جب تک دنیا کی 65فیصد آبادی کو ویکسین نہیں لگ جاتی اس مصیبت سے نجات ملنے والی نہیں۔
2020ء میں امید تھی کہ 2021ء تک سب کچھ بہتر ہو چکا ہو گا۔ کووڈ ماضی ہو چکا ہو گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اب بھی ہر دن کووڈ کے بے شمار کیسز رپورٹ ہوتے ہیں ،لوگوں کی اموات ہورہی ہیں۔ ہم نے دو عیدیں کووڈ میں گزار دیں، امید ہے اور اللہ سے دعا ہے کہ اگلے سال تک کووڈ ماضی ہو جائے اور کووڈ کے بغیر ہم عید منا سکیں۔