پاکستان کی عدلیہ عمرانیت کی زد میں!

295

سپریم کورٹ کی تشکیل شدہ خصوصی عدالت نے چیف جسٹس وقار سیٹھ کی سربراہی میں جنرل مشرف کے خلاف آرٹیکل چھ کی خلاف ورزی پر سزائے موت کی سزا دی تو عہد عمرانیت کے وزیروں اور مشیروں نے ملک بھر میں چیخ و پکار کر دی جنہوں نے جسٹس وقار سیٹھ کی کردار کشی کی انتہا کر دی جو ناقابل بیان ہے جن کو بعد انھیں کورونا کے ہاتھوں مار دیا گیا۔ پھر جب سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی عیسیٰ کیس کو ردی کی ٹوکری میں ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ کیس بدنیتی پر مبنی ہے لہٰذا آئندہ کسی جج کے خلاف کسی قسم کا انتقام پر مبنی مقدمہ مت بنایا جائے تو ان ہی ہرکاروں اور اہلکاروں نے ججوں کی کردار کشی کی موومنٹ کا آغاز کیا جو اب تک جاری ہے جس پر عدالت عظمیٰ خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے جبکہ اسی عدالت نے پانامہ کی کوکھ سے جنم لینے والے اقامہ کیس میں وزیراعظم نواز شریف کو نہ صرف برطرف کیا بلکہ تاحیات نااہل قرار دیا تھا جس کو آج پھر سپریم کورٹ نے پارلیمنٹرین شمعونہ قیصرانی کے کیس میں اپنے ہی فیصلے کو رد کرتے ہوئے حکم دیا کہ ماضی کے اثاثے ظاہر نہ کرنا نااہلیت کا باعث نہیں بن سکتا ہے جن کو ظاہر کرنے میں معصومانہ غلطی ہو سکتی ہے مگر بدنیتی نہیں۔ سپریم کورٹ نے خواجہ سعد رفیق برادران کیس میں نیب کو مجرم قرار دیتے ہوئے حکم دیا کہ نیب کا ادارہ انتقام گاہ بن چکا ہے جو بنا ثبوت لوگوں کو عرصہ دراز اپنے عقوبت خانوں میں بند رکھتا ہے جب ملزمان کو عدالتوں میں پیش کیا جاتا ہے تو کوئی مقدمہ تک درج نہیں ہوتا ہے نہ ہی کوئی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آتی ہے جس کے بعد خواجہ برادران کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
حال ہی میں لاہور ہائیکورٹ نے شہباز شریف کی ضمانت اور بیرون ملک جانے کی پابندی کے خلاف فیصلہ دیا کہ نیب نے ابھی تک کوئی مقدمہ درج نہیں کیا نہ ہی تحقیقاتی رپورٹ پیش کی جس کی بنا پر عدلیہ نے انہیں ضمانت پر رہا کیا بعدازاں شہباز شریف کو بیرون ملک علاج کے لئے بھی اجازت دی جس کی مخالفت کرتے ہوئے حکومت نے انہیں ایئرپورٹ پر روک دیا جو کہ توہین عدالت کے مرتکب ہونے کے مترادف ہے۔ بشرطیکہ عدالت عظمیٰ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، وزیراعظم نواز شریف یا پھر پارلیمنٹرین نہال، دنیال اور طلال کی طرح توہین عدالت پر ایکشن لے جو کہ شاید ناممکن ہے کہ جس میں عدلیہ کی مسلسل توہین عدالت میں خاموشی نظر آرہی ہے حالانکہ حکومتی وزیر اور مشیر مسلسل توہین عدالت کے مرتکب ہورہے ہیں۔ علاوہ ازیں لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس قاسم خان نے پچھلے دنوں فوجی اہلکاروں اور اداروں کے زمینوں پر قبضوں پر حکم دیا کہ فوجی اہلکار اپنی مختلف سوسائٹیوں کے سلسلے میں عام لوگوں کی زمینوں پر قبضے کررہے ہیں جس میں لاہور ہائیکورٹ کی 50کنال زمین بھی شامل ہے جو قانون پاکستان کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے اور ناقابل برداشت ہو چکی ہے کہ آئے دن فوجی اداروں کے زمینوں پر قبضوں کے سلسلے میں سکینڈلز سامنے آرہے ہیں جس سے فوج بدنام ہو چکی ہے جس کی مثال ملتان میں ڈیفنس ہائوسنگ سکیم میں ایک لاکھ آموں کے درخت کا کاٹ کر پھینک دیا جس سے زرعی، تجارتی اور ماحولیاتی نقصان ہوا ہے مگر فوجی ادارے کے دن بدن زمینوں پر قبضوں سے پوری فوج بدنام ہو چکی ہے جبکہ نوے فیصد فوج کے پاس رہنے کو گھر کھانے کو روٹی تک میسر نہیں ہے۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ آزادیٔ پاکستان کے بعد بھی انگریزوں کے غاصبانہ روایات قائم ہیں جنہوں نے ہر پچاس میل کے فاصلے پر ایک کنٹونمنٹ بنارکھی تھی جس کو فوجی چھائونی کہا جاتا ہے جو اب فوجی رہائشی سکیموں میں بدل چکا ہے جس کی وجہ سے ہر شہر میں ڈیفنس سوسائٹی تعمیر ہو چکی ہے جس کی مالیت کھربوں میں ہے یہاں لاقانونیت کی وجہ سے امرا ٔسویلین آباد ہوتے ہیں یا پھر جنرل، کرنل آباد ہوتے ہیں جو ریٹائرمنٹ کے بعد اربوں، کھربوں کے مالکان ہیں مزید برآں فوجی اداروں کے پاس زرعی، تجارتی، مالیاتی، صنعتی اور دفتری کاروبار ہیں جس سے پاکستان کے صدیوں کے غلام کسان، ہاری اور مزراع اور ماہی گیر بری طرح متاثر ہوئے ہیں کہ جن کو بھارت کی طرح کبھی کاشتکاری کے حقوق ملنا ناممکن ہے حالانکہ زرعی زمین صرف اور صرف اس شخص کو دی جائے جو ہل چلاتا ہے جس طرح بھارت میں جاگیرداری اور نوابیت ختم کرنے سے زرعی، صنعتی اور تجارتی انقلاب برپا ہوا ہے کہ آج بھارت دنیا کی ترقی یافتہ ریاستوں میں شمار ہورہا ہے جبکہ پاکستان جیسے زرعی ملک کے پاس گندم، چینی، آلو، ٹماٹر تک نہیں ہیں۔ عہد عمرانیت کے وزیر اور مشیر کے سامنے عدالتیں بے بس نظر آرہی ہیں جن پر عمرانی ٹولہ بھاری پڑ چکا ہے شاید یہی وجوہات ہیں کہ آج تک کسی بھی عدالت نے عمران خان اور ان کے دوسرے حواریوں کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا ہے جس میں شہرہ آفاق فارن فنڈنگ کیس بھی موجود ہے جو گزشتہ چھ برسوں سے التواء کا شکار ہے جس پر کوئی فیصلہ نہیں ہو پایا ہے حالانکہ صرف فارن فنڈنگ کیس میں پوری حکومت برطرف اور قیادت نااہل قرار دی جا سکتی ہے جو الیکشن کمیشن کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے مگر عدلیہ نہ جانے اپنے اختیارات سے محروم اور مظلوم ہے۔
بہرحال پاکستان کی عدلیہ عمرانیت کی زد میں آ کر رسوا ہورہی ہے جس میں عمران خان کے اہلکارے اور ہرکارے عدلیہ کی کردار کشی کرتے نظر آتے ہیں جس میں عمرانی ٹولہ نے جنرل مشرف کے خلاف فیصلے پر چیف جسٹس وقار سیٹھ مرحوم کے خلاف طرح طرح کے الفاظ استعمال کئے۔ خواجہ برادران کے فیصلے میں سپریم کورٹ کے ججوں کو اپنی نفرت اور حقارت کا نشانہ بنایا گیا۔ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلوں کے خلاف غلیظ زبان استعمال کی گئی۔ چیف جسٹس قاسم خان کے عزت و وقار کو مجروح کیا گیا جس سے لگتا ہے کہ عمرانی ٹولہ عدلیہ کے ان ججوں کے پیچھے پڑ چکے ہیں جو ملک میں آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کررہے ہیں جن کے ضمیر زندہ ہیں جو پاکستان میں آئین اور قانون کی بالادستی چاہتے ہیں مگر عمرانی ٹولہ عدلیہ کے ججوں کو ڈرادھمکا کر خوف زدہ کررہے ہیں جن کی اولادیں پہلے ہی گسٹاپوزم کاشکار ہیں کبھی چیف جسٹس گلزار کے بیٹے پر گولی چلا کر خوف زدہ کیا جاتا ہے کبھی جسٹس منصور علی شاہ کے بیٹے کو اغوا کر لیا جاتا ہے۔ کبھی جسٹس مقبول باقر پر دہشت گردوں کے ہاتھوں حملہ ہوتا ہے جس سے وہ بری طرح زخمی ہوتے ہیں ۔کبھی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو سال بھر رسوا کیا جاتا ہے جن کے بال بچوں پر من گھڑت الزامات لگا کر ریفرنس بنایا جاتا ہے جو نہیں چاہتے کہ پاکستان کی عدلیہ آزاد اور خودمختار ہو پائے۔