فلسطین کے حوالے سے منافقانہ امریکی پالیسی نے ڈیموکریٹس اور جوبائیڈن کا چہرہ بے نقاب کر دیا!

236

پاکستانی اور امریکی سیاست دانوں میں کم از کم یہ تو طے ہوا کہ دونوں بہت بڑے منافق ہیں۔ پاکستان میں بھی الیکشن سے پہلے ووٹ حاصل کرنے کے لئے بڑے بڑے مگر جھوٹے وعدے کئے جاتے ہیں اور ان پر عملدرآمد کرنے کی یقین دہانیاں کرائی جاتی ہیں مگر ایوان اقتدار میں پہنچتے ہی سب کی دھجیاں اڑا دی جاتی ہیں۔ حالیہ امریکی انتخابات میں ڈیموکریٹک امیدوار جوبائیڈن نے مسلم ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کیلئے بڑے بڑے وعدے کئے، انسانی قدروں کی باتیں کیں، مسلم نسل پرستی ختم کرنے کے وعدے کئے اور ان کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کے خلاف آواز اٹھانے کی یقین دہانی کرائی،کچھ کاسمیٹک اقدامات مسلم ممالک پر ویزہ پابندی اٹھانے جیسے اقدامات کئے گئے مگر وہ زیادہ تر نمائشی رہے۔ جوبائیڈن کا بھیانک چہرہ شروع شروع میں پاک افغان امریکہ مفادات اور جنگ بندی کے حوالے سے سامنے آیا جب جوبائیڈن حکومت نے پاکستان کو براہ راست یا بالواسطہ طور پر پابندیاں اور دھمکیاں دینا شروع کیں۔ ستائیس رمضان سے مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی حملے اور پھر مسلسل بمباری کے بعد جو امریکن حکومت کا دوہرا اور منافقانہ برتائو اور کردار سامنے آیا ہے اس نے نہ صرف ہم جیسے ڈیموکریٹک پارٹی کے حامیوں کو ناامید کیا ہے بلکہ پوری دنیا نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں جوبائیڈن کی حمایت کی تھی اس میں بھی زبردست کمی آرہی ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ہم نے ڈیموکریٹک امیدوار برنی سینڈر کی حمایت کی تھی نہ کہ جوبائیڈن کی۔ جوبائیڈن کے ماضی کو دیکھتے ہوئے اسرائیل کیلئے ان کی حمایت کا ہمیں علم تھا مگر کیا کیا جائے کہ امریکی الیکٹرول کالج کے طریقہ کار کو دیکھتے ہوئے برنی سینڈر کو انتخابات سے دستبردار ہونا پڑا اور ڈیفالٹ کے تحت جوبائیڈن سامنے آگئے۔ آج دس روز گزر جانے کے بعد تک امریکی انتظامیہ نے ایک لفظ بھی اسرائیل کی مقبوضہ فلسیطین پر گولہ باری اور تباہی کے خلاف نہیں نکالا۔ یہاں تک کہ اسرائیل نے ایک امریکی نشریاتی ادارے ایسوسی ایٹڈپریس( اے پی) کا نشریاتی ٹاور بھی بمباری کر کے زمین بوس کر دیا جس میں الجزیرہ ٹی وی اور دیگر اداروں کے دفاتر بھی شامل تھے۔ اب تک غزہ میں دو سو سے زائد معصوم شہری جاں بحق ہو چکے ہیں جس میں پچاس سے زائد بچے بھی شامل ہیں۔ اس معاملے میں امریکی دفتر خارجہ کی مزید ڈھٹائی یہ ہے کہ وہ الٹا فلسطینیوں اور حماس کے راکٹ حملوں پر مورد الزام ٹھہرارہا ہے جس کو کسی بھی طرح سے مناسب قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ یوں تو امریکی دفتر خارجہ پوری دنیا میں انسانی حقوق کا بہت بڑا جھوٹا علمبردار بنتا ہے اور وقتا فوقتاً ان کے حقوق کی پامالی کو ایشو بناتا ہے اور پابندیاں عائد کرتا ہے۔ اسے چین میں ان ہی مسلمانوں کے ایغور میں حقوق کی پامالی تو نظر آتی ہے مگر ان ہی مسلمانوں کی فلسطین میں اسرائیل کے ہاتھوں حقوق کی پامالی اور ہلاکتیں اور بمباری نظر نہیں آتی۔ انہیں غزہ میں پانچ پانچ چھ چھ ماہ کے زخمی بچوں کی تصاویر نظر نہیں آتی۔ کیا ایغور اور غزہ کے مسلمانوں اور انسانوں کے خون کا رنگ الگ الگ ہے یا امریکیوں نے ان دو مختلف انسانوں کی خون کی الگ الگ قیمت مقرر کی ہوئی ہے؟ پس ثابت یہ ہوا کہ انسانی حقوق بھی امریکہ اور یورپ اور مغرب کے اپنے اپنے مفادات سے وابستہ ہیں۔ امریکہ کو کبھی روس میں، کبھی ایران میں، ،کبھی چائنہ میں، کبھی نیپال میں، کبھی پاکستان میں تو کبھی افغانستان میں انسانی حقوق، عورتوں کے حقوق، بچوں کے حقوق اور کبھی ان کے قوانین کو تنقید کر نشانہ بنانے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتی مگر دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد ملک اور دہشت گرد ریاست اسرائیل کی طرف سے فلسطین میں انسانی نسل کشی نظر نہیں آتی؟ تو کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ امریکی حکومت جب چاہے اندھی ہو جاتی ہے اور جب چاہے دیکھنے لگتی ہے؟ مگر اب دنیا تبدیل ہو چکی ہے۔ مغربی میڈیا لاکھ یہودیت اور صہونیت کے کنٹرول میں رہے مگر اب نیو ورلڈ آرڈر انٹرنیٹ کے حوالے سے مکمل طور پر نام نہاد میڈیا کا مرہون منت نہیں رہا، دنیا اسرائیلی مظالم اب ٹی وی پر نہیں خالی بلکہ اپنے سیل فونز پر براہ راست دیکھ رہے ہیں۔سوشل میڈیا نے دنیا بھر کی حکومتوں کی آنکھیں کھول دی ہیں اور یہ ہی وجہ ہے کہ روس سے لیکر چائنہ تک اور انڈونیشیا سے لیکر ملائیشیا تک نہ صرف حکومتیں اور ریاستیں بلکہ ان کے عوام بھی واقف ہو چکے ہیں اور اسرائیل اب مزید دھول نہیں جھونک سکتا اور نہ ہی امریکہ کے نابینا اور بینا ہونے سے کوئی فرق پڑنے والا ہے۔