کرونا سے بھی بڑی سزا کا انتظار ہے؟

254

غزہ میں اسرائیلی بمباری سے تباہ گھر کے ملبے کے ڈھیر پر کھڑی دس سالہ بچی کا کہنا تھا کہ ’میں چاہتی ہوں کہ اپنے لوگوں کے لیے کچھ کروں لیکن میں کیا کرسکتی ہوں؟ میں تو صرف 10 سال کی ایک بچی ہوں۔‘۔ بچی کا کہنا تھا کہ میں خود سے کہتی ہوں کہ ہم اس سب کے اہل کیوں ہیں؟ میری فیملی کہتی ہے کہ وہ صرف ہم سے نفرت کرتے ہیں، وہ ہمیں پسند نہیں کرتے کیونکہ ہم مسلمان ہیں، آپ مسلمانوں کے ساتھ ایسا رویہ کیوں اختیار کرتے ہیں؟۔۔ غزہ پر اسرائیلی فوج کے تازہ ترین حملوں میں مزید 42 افراد شہید ہو گئے ہیں جس کے بعد یہاں حالیہ تنازعے میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی کُل تعداد 188 ہو گئی ہے۔۔فلسطین میں مسلمانوں کو 1924ء سے پہلے بہت بڑی اکثریت حاصل تھی اور یہودی کل آبادی کا چھ فیصد تھے۔ 1917ء میں برطانیہ نے اس ملک کو یہودیوں کا قومی وطن بنانے کا فیصلہ کر لیا اور دنیا کے مختلف ملکوں میں آباد یہودیوں کو ترغیب دی کہ وہ فلسطین میں آ کر آباد ہو جائیں۔ مختلف یورپی علاقوں سے وسیع پیمانے پر یہودیوں نے فلسطین کی جانب نقل مکانی کی۔ عربوں نے یہودیوں کی بڑھتی ہوئی آبادی سے خطرہ محسوس کرتے ہوئے ملکی آزادی کا مطالبہ کر دیا۔ مگر برطانیہ نے فلسطین کا مسئلہ حل کرنے کی بجائے اس ملک کو متنازعہ بنا کر چھوڑ دیا۔ ہندوستان کی تقسیم میں بھی انگریز راج نے جموں کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ یہی سلو ک کیا، فلسطین میں یہودیوں کی پشت پناہی کی اور کشمیر یوں کے خلاف ہندؤں کی حمایت کی اور جموں و کشمیر کو بھی متنازعہ بنا کر چلے گئے۔ 1948ء میں امریکہ اور اس کے حلیف ممالک نے فلسطین کو تقسیم کر دیا۔ ایک حصہ مسلمانوں کو دے دیا اور دوسرا حصہ بطور اسرائیلی ریاست تسلیم کر لیا گیا۔ عربوں کو یہ تقسیم گوارا نہ تھی اور انہوں نے یہودیوں سے آزادی کی جنگ شروع کر دی مگر امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی پشت پناہی سے اسرائیلی سلطنت مضبوط ہوتی چلی گئی اور پھر یہ زمانہ آیا کہ اسرائیلی خطہ اپنے باپ دادا فرعون کے نقش قدم پر چل رہا ہے۔ اسرائیلیوں کی قبل از مسیح تاریخ کا مطالعہ قرآن پاک سے کیا جائے تو یہودیوں کی فطرت کا صحیح طور پر اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ’’ہم نے اپنی کتاب (صحف آسمانی کا مجموعہ) میں بنی اسرائیل کو اس بات پر متنبہ کر دیا تھا کہ تم دو مرتبہ زمین میں فساد عظیم برپا کرو گے اور بڑی سرکشی دکھاؤگے۔ آخر کار جب ان میں سے پہلی سرکشی کا موقع پیش آیا، تو بنی اسرائیل ہم نے تمہارے مقابلے میں اپنے ایسے بندے اٹھائے جو نہایت زور آور تھے اور وہ تمہارے ملک میں گھس کر ہر طرف پھیل گئے۔ یہ ایک وعدہ تھا جسے پورا ہو کر ہی رہنا تھا۔ اس کے بعد ہم نے تمہیں ان پر غلبے کا موقع دے دیا اور تمہیں مال اور اولاد سے مدد دی اور تمہاری تعداد پہلے سے بڑھا دی۔ دیکھو! تم نے بھلائی کی تو وہ تمہارے اپنے ہی لئے بھلائی تھی اور برائی کی تو وہ تمہاری اپنی ذات کے لئے برائی ثابت ہوئی۔ پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے دوسروں کو تم پر مسلط کیا تاکہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور مسجد (بیت المقدس) میں اسی طرح گھس جائیں جس طرح پہلے دشمن گھسے تھے اور جس چیز پر ان کا ہاتھ پڑے اسے تباہ کرکے رکھ دیں۔ ہو سکتا ہے اب تمہارا رب تم پر رحم کرے لیکن اگر تم نے پھر اپنی سابق روش کا اعادہ کیا تو ہم بھی پھر اپنی سزا کا اعادہ کریں گے اور کفران نعمت کرنے والوں کے لئے ہم نے جہنم کو قید خانہ بنا رکھا ہے‘‘ (سورۃ بنی اسرائیل)۔ مذکورہ آیات مبارکہ کے پس منظر کے مطابق حضرت موسیٰ کی وفات کے بعد جب بنی اسرائیل فلسطین میں داخل ہوئے تو یہاں مختلف قومیں آباد تھیں۔ ان قوموں میں بدترین قسم کا شرک اور برائیاں پائی جاتی تھیں۔ تورات میں حضرت موسیٰ کے ذریعہ سے بنی اسرائیل کو جو ہدایات دی گئی تھیں ان میں صاف صاف کہہ دیا گیا تھا کہ تم ان قوموں کو ہلاک کر کے ان کے قبضے سے فلسطین کی سرزمین چھین لینا اور ان کی خرابیوں کو اپنانے سے گریز کرنا۔ لیکن اسرائیلی جب فلسطین میں داخل ہو ئے تو اللہ کے احکام بھول گئے، فلسطین کا ایک حصہ لے کر الگ ہو گئے اور یہاں موجود گمراہ اور مشرک قوم کی برائیوں میں غرق ہو گئے۔ بنی اسرائیل کی نافرمانیوں کی تفصیل خاصی طویل ہے، حضرت موسیٰ کے بعد بھی انبیاء اور نیک بادشاہ تشریف لاتے رہے مگر بنی اسرائیل اپنی نافرمانیوں اور بری روش کی بنا پر پسپائی کا شکار رہے۔ بنی اسرائیل کی دوسری ریاست جو یہودیہ کے نام سے جنوبی فلسطین میں قائم ہو چکی تھی وہ بھی حضرت سلیمان کے بعد بہت جلد شرک اور بد اخلاقی میں مبتلا ہو گئی۔ آخر 587 قبل مسیح میں بخت نصر نے ایک سخت حملہ کر کے یہودیوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، یروشلم اور ہیکل سلیمانی کا نام و نشان مٹا دیا۔ یہودیوں کی بہت بڑی تعداد کو ان کے علاقے سے نکال کر تتر بتر کر دیا۔ یہ تھا وہ پہلا فساد جس سے بنی اسرائیل کو متنبہ کیا گیا تھا اور یہ تھی وہ پہلی سزا جو ان کی نافرمانیوں کی پاداش میں انہیں دی گئی۔ آیات مبارکہ کے مطابق اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کو ایک بار پھر مہلت دی، بنی اسرائیل کو اپنے وطن واپس جانے کے مواقع پیدا کر دئے۔ ہیکل سلیمانی کی دوبارہ تعمیر کا موقع مل گیا۔ حضرت عزیر نے دین موسوی کی تجدید کا بیڑا اٹھایا۔ ڈیڑھ سو سال بعد بیت المقدس پھر سے آباد ہوا۔ اسرائیلیوں کی تباہی کا دوسرا دور رومی فاتحین کا فلسطین پر قبضہ تھا۔ انہوں نے بیت المقدس پر قبضہ کر کے یہودیوں کی آزادی کا خاتمہ کر دیا اور بزورِ شمشیر یروشلم کو فتح کر لیا۔ اس موقع پر قتل عام میں ایک لاکھ 33 ہزار آدمی مارے گئے، اس کے بعد فلسطین سے یہودی اثر و اقتدار ایسا مٹا کہ دو ہزار برس تک اس کو پھر سر اٹھانے کا موقع نہ مل سکا اور یروشلم کا ہیکل مقدس پھر تعمیر نہ ہو سکا۔ یہ تھی وہ سزا جو قرآن کے مطابق بنی اسرائیل کو دوسرے فساد عظیم کی پاداش میں ملی۔دور حاضر کی تاریخ کی طرف آتے ہیں جب یہودیوں نے انگریزوں کے ایما پر فلسطین پر قبضہ کیا اور یہو دو نصاریٰ کے گٹھ جوڑ نے اسرائیل کو بطور ایک یہودی ریاست تسلیم کرایا۔پاکستان کی بھارت سے ناچاکی کا سبب مقبوضہ کشمیر اور اسرائیل سے مخالف کی وجہ فلسطین کی حمایت ہے۔بچپن سے پڑھتے آئے ہیں پاکستان نہ مقبوضہ کشمیر سے دستبردار ہو سکتا ہے اور نہ فلسطین کو تنہا چھوڑ سکتا ہے۔لیکن آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیںہم نے کشمیر بھی چھوڑ دیا اور فلسطین کو بھی تنہا کر دیا۔ پاکستان ایٹمی قوت ہوتے ہوئے بھی فلسطین پر ہونے والے ظلم و بربریت کا خاموشی سے تماشہ دیکھ رہا ہے۔ پچپن اسلامی ریاستیں بے حسی اور بے حمیتی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ جموں کشمیر پر ہندو سامراج کے لاک ڈائون کے سنگین ظلم کی پاداش میں پوری دنیا کرونا کے لاک ڈائون کی سزا بھگت رہی ہے، فلسطین پر مظالم پر بھی دنیا خاموش ہے، شاید کرونا سے بھی بڑی کسی سزا کی منتظر ہے؟