اس دیس کا منشی’’ قاضی‘‘ بھی،مجرم سے پوچھ کے لکھتا ہے!

309

قابل صد ستائش ہیں یہ عدالتیں جو قاتلوں کو بھی ضمانتیں دیتی ہیں۔ پوری دنیا میں کہیں بھی قاتلوں کو ضمانت نہیں ملتی، ہر قسم کے سنگین جرائم میں ملوث لوگ مونچھوں پر تائو دیتے پھرتے ہیں اور کہتے ہیں ’’ دیکھئے ہم پر ایک دھیلے کی کرپشن بھی ثابت نہیں ہوئی اور ہمیں باعزت رہائی مل گئی‘‘ معصوم اور بھولے بھالے عوام بھی سر پیٹنے لگتے ہیں کہ لو جی خوامخواہ بدنام کر دیا۔ اس ملک کو کسی اور طرف سے ترقی ملی ہو نہ ملی ہو( اب کون ان بے شمار دروغ گوئیوں پر سر کھپائے) لیکن کرپشن میں نمبرون ہے۔ ’’بدنام ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا‘‘۔تو جو لوگ اپنا ضمیر فروخت کر چکے شرم و حیا کا سودا کر لیا تو اب کس بات سے ڈریں۔
قابل افسوس تو یہ بات ہے کہ انصاف دلانے والے حفاظت کرنے والے کسی کا بھی دامن پاک نہ رہا اور اب افتخار چودھری اور قاضی فائز عیسیٰ نے نظام عدل کی باگ دوڑ موڑ دی ہے۔ اس کا سیدھا کرنا اور سدباب کرنا شاید اب صدیوں تک ممکن نہ ہو سکے۔ یونان کے بادشاہ کے دور حکومت میں ایک جج نے کرپشن کی تھی۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ اس کی زندہ کھال اتاری جائے۔ حکم پر عملدرآمد ہوا اور اس کی کھال میں بھوسا بھروا کر سرعام لٹکا دیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے بعد سو سال تک یونان میں کوئی کرپٹ جج پیدا نہ ہوا۔ یہ ہوتا ہے عبرتناک سزا کا نتیجہ، یہاں پر تو ہم آہنی ہاتھوں سے نمٹتے ہی رہ گئے ۔ مجرم کے ہاتھ آہنی ہو گئے۔ اب پنجہ آزمائی کرتے رہئیے کچھ حاصل نہ ہو گا مجرم جرم کر کے مکھن سے بال کی طرح نکلتے رہیں گے۔
کہتے ہیں پانچ عیب شرعی ہیں اس میں ایک عیب کانا بھی ہے۔ افتخار چودھری میں تو ایک شرعی عیب بھی موجود ہے۔ تو صاحبو! سونے پر سہاگہ ہو گیا۔ لوٹ کا مال ہضم کرنے میں میدہ کافی مضبوط ہے۔ لکڑ ہضم، پتھر ہضم والا معاملہ ہے۔ اب آئیے جسٹس فائز عیسیٰ کے بارے میں۔
موصوف 3جنوری 1983میں بلوچستان ہائیکورٹ کے وکیل بنے۔ موکلوں کو خوب لوٹتے رہے۔ پھر سپریم کورٹ کی وکالت سنبھالی۔ کوئی قسمت کا مارا اپنا کیس ان کے حوالے کرتا تو جائیدادیں فروخت ہو جاتیں لیکن کیس چلتا رہتا لوگ دوسری دنیا کے سفر پر روانہ ہو جاتے لواحقین بھگتے رہتے۔ آخر فائز عیسیٰ نے سوچا اس طرح تو ایک ہی پارٹی پر ہاتھ رکھا جا سکتا ہے کیوں نہ دونوں پارٹیوں سے مال گھسیٹا جائے،انہوں نے بڑے جوڑ توڑ ملائے اور سپریم کورٹ کے جج بن گئے اور دولت برسنے لگی۔ اب مسئلہ اس دولت کو چھپانا مقصود تھا۔ لوگ رات کی تاریکی میں بوریاں، بریف کیس بھر کر دولت لاتے من پسند فیصلے کرواتے، اس دولت کو دفن کرنے کا ایک ہی طریقہ سوچا کہ اپنی اہلیہ اور بچوں کے نام سے لندن میں مہنگے علاقوں میں گھر خرید لئے۔ منی ٹریل نہ دے سکے۔ سرینا فائز سے پوچھا گیا تو انہوں نے بڑی ڈھٹائی سے کہا یہ سب ان لوگوں نے زرعی اراضی سے حاصل کیا ہے اور فائز عیسیٰ خود ایک نیا قانون منوانے میں کامیاب ہو گئے کہ اب کسی جج کی بیوی بچوں سے ان کے اثاثوں کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا۔ یہ چاہیے ملک بھی بیچ کر کھا جائیں ان کا محاسبہ نہیں ہو گا۔
افتخار چودھری تو شرعی عیبی ہیں انہوں نے اور فائز عیسیٰ نے پاکستان کے نظام عدل کو اس طرح ریزہ ریزہ کیا ہے جس کی نہ ماضی میں مثال ہے نہ آئندہ ہو گی۔ ایسے منصفوں کو جینے کا کوئی حق نہیں جنہوں نے انصاف کا گلا گھونٹا ہے ہزاروں لوگوں کو بے موت مارا ہے۔ کوئی انصاف کا علمبردار بتائے کیا انہیں اور ان کے بیوی بچوں کو جینے کا حق ہے؟
؎مجھے اندھے یقین کا آج خمیازہ بھگتنا ہے
شعور وفہم کی بے حسی نے اڑا کر دھجیاں رکھ دیں
دیکھئے فیض احمد فیض کیا کہتے ہیں؎
جس دیس میں قاتل غنڈوں کو
اشراف چھڑا کر لے جائیں
جس دیس کے کورٹ کچہری میں
انصاف ٹکوں پر بکتا ہو
جس دیس کا منشی قاضی بھی
مجرم سے پوچھ کے لکھتا ہو!
یہاں پر مظلوم کو وعدوں پر ٹرخا دیا جاتا ہے۔ دولت مندوں کے آگے سر تسلیم خم ہے۔ چھٹی والے دن بھی عدالتیں کھل جاتی ہیں۔ شرفا سے بھی ناجائز کام کروا لیے جاتے ہیں۔
سپہ سالار نے پھولن دیوی کو کوئی تنبیہ وغیرہ کر دی ہے۔ دیوی جی تو آپے سے باہر ہو گئیں۔ یہ شتر بے مہار جسے باپ نکیل ڈال سکا اور نہ شوہر کے قابو میں آئیں ۔عشق کا بخار اتر گیا تو شوہر کو کاغذ کا پرزہ سمجھ کر مسل کر پھینک دیا۔ وہ کس کے قابو میں آسکتی ہیں۔ قمر جاوید باجوہ کو بھی حدود میں رہنے کی تلقین کر دی ہے۔ آخر اتنے بڑے ڈاکو، ڈکیت کی دختر بداختر ہیں۔ بائو جی کرپشن کے موجد ہیں۔ اتنے بڑے مافیا کے سردار ہیں۔ آپ کچھ بھی کہہ لیں یہ اتنے ڈھیٹ ہیں کہ شرم و حیا قریب سے بھی نہیں گزری۔ پھولن دیوی کے پاس مراثیوں اور بھانڈوں کی فوج ظفر موج ہے۔ جس کی سربراہ پوپلی اورنگزیب ہر وقت ’’کیا حکم ہے میری آقا زادی‘‘ جناتنی موجود ہے۔ دن رات آپکی ڈیوتی پر حاضر!جب چاہیں پتھر بھرے ٹرک حاضر ہو جائیں گے، بھنگڑا بھی ہو گا، پھولوں کی پتیوں کی بارش بھی ہو گی۔ ارے کمبختوں، منحوسوں کچھ پھول ان کے جنازے کے لئے بھی رہنے دو، اتنے بیمار ہیں کسی وقت بھی بلاوا آسکتا ہے۔
یہ ملک کو برباد کرنے والے، رشوت کا چسکہ لگانے والے، انہوں نے سارے اداروں کا ستیاناس کیا بلکہ سوا ستیاناس کر دیا۔ جس طرح شیر کے منہ کو خون لگ جائے تو انسانی جان محفوظ نہیں رہتی اسی طرح رشوت خور بھی اب صحیح راہ پر نہیں آسکتا۔ دولت کا نشہ سب پر چھایا ہوا ہے ۔کسی بھی ادارے کا نام لیں جو اس مرض سے خالی چھوڑا ہے انہوں نے۔