اسرائیل کو اسلحے کی فروخت روکنے کیلئے امریکی سینیٹ میں قرار داد

286

واشنگٹن: سابق صدارتی امیدوار برنی سینڈر نے اسرائیل کو 73 کروڑ 50 لاکھ ڈالر مالیت کے اسلحے کی فروخت روکنے کے لیے امریکی سینیٹ میں قرارداد پیش کردی۔

برنی سینڈر ایک آزاد رکن ہیں اور ڈیموکریٹس کے ساتھ ووٹ دیتے ہیں۔

امریکی سینیٹر کا کہنا تھا کہ ‘ایسے وقت میں کہ جب امریکا کے بنائے گئے بم غزہ میں تباہی پھیلا رہے ہیں اور بچوں اور عورتوں کو قتل کررہے ہیں، ہم کانگریس کی بحث کے بغیر آسانی سے اسلحے کی ایک اور بڑی فروخت کی اجازت نہیں دے سکتے’۔

خیال رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیل کو رواں برس 73 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے اسلحے کی ممکنہ فروخت کی منظوری دی تھی اور باضابطہ نظرِ ثانی کے لیے اسے کانگریس کو بھجوایا تھا۔

غزہ میں جاری اسرائیل کی پُرتشدد کارروائیوں پر کچھ قانون سازوں نے اسرائیلی حملے رکوانے کے لیے مزید ٹھوس امریکی کوششوں کا مطالبہ کیا تھا۔

برنی سینڈر ڈیموکریٹس کی جانب سے صدارتی اُمیدوار بھی رہ چکے ہیں جن کا کہنا تھا کہ امریکیوں کو ‘غور سے دیکھنے’ کی ضرورت ہے کہ کیا اسلحے کی فروخت اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازع کو ہوا دے رہی ہے۔