’دھوکے سے انٹرویو‘ کرنے کا الزام ثابت ہونے پر بی بی سی کی معذرت

280

برٹش براڈکاسٹنگ کارپوریشن (بی بی سی) کی انتظامیہ نے 25 سال قبل شہزادی ڈیانا کا انٹرویو ’دھوکے‘ سے کرنے کے الزامات ثابت ہونے پر شاہی خاندان سے معذرت کرلی۔

بی بی سی اور اس کے صحافی بشیر مارٹن پر الزام تھا کہ انہوں نے 1995 میں لیڈی ڈیانا اور اس کے بھائی کو جعلی دستاویزات دکھا کر انٹرویو دینے کے لیے قائل کیا تھا۔

پاکستانی نژاد صحافی بشیر مارٹن پر الزام تھا کہ انہوں نے لیڈی ڈیانا کے بھائی کو برطانوی خفیہ اداروں کے بینک اکاؤنٹس کے ایسے دستاویزات دکھائے تھے، جن سے ثابت ہو رہا تھا کہ خفیہ ادارے شاہی خاندان کے دو اہم ترین افراد کو لیڈی ڈیانا کی ذاتی معلومات دینے کے عوض رقم دیتے آ رہے تھے۔

اور ایسے دستاویزات اور من گھڑت باتیں بتائے جانے کے بعد ہی لیڈی ڈیانا نے بشیر مارٹن کو انٹرویو دینے کے لیے رضامندی ظاہر کی تھی۔

مذکورہ انٹرویو کو ’پینوراما انٹرویو‘ بھی کہا جاتا ہے، جس میں لیڈی ڈیانا نے شہزادہ چارلس سے طلاق سمیت شاہی خاندان میں اپنی زندگی کی مشکلات پر کھل کر بات کی تھی۔