چین کا ’ژورونگ روور‘ مریخ پر پانی اور زندگی ڈھونڈنے کےلیے تیار

350

بیجنگ: ہفتے کے روز مریخ پر اُترنے والا، چین کا ’’ژورونگ روور‘‘ اپنے لیزر آلے اور ریڈار کی مدد سے وہاں زندگی کے آثار اور زیرِ سطح پانی تلاش کرنے کےلیے تیار ہوچکا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، چھ پہیوں والی نیم خودکار گاڑی ’’ژورونگ روور‘‘ چین کے ’’تیانوین اوّ مشن کا حصہ ہے جسے گزشتہ سال جولائی میں روانہ کیا گیا تھا اور جو اس سال فروری میں مریخ کے گرد اپنے مدار میں کامیابی سے داخل ہوگیا تھا۔

چینی دیومالائی داستانوں میں ’’ژورونگ‘‘ ایک دیوتا تھا جس کا چہرہ انسان کا اور جسم کسی عفریت کی مانند تھا جبکہ وہ دو ڈریگنوں پر سواری کیا کرتا تھا۔

ژورونگ روور کو پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت ایک حفاظتی کیپسول میں بند کیا گیا تھا جسے ایک بڑے ایک پیراشوٹ کے ذریعے ’’یوٹوپیا پلینیشیا‘‘ کہلانے والے ایک مقام پر اتارا گیا۔ یہ وہی علاقہ ہے جہاں 1976 میں ’’ناسا‘‘ نے اپنا ساکن لینڈر ’’وائکنگ دوم‘‘ اتارا تھا۔

’’یوٹو پلینیشیا‘‘ ایک قدرے ہموار میدانی علاقہ ہے جو تقریباً تین ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ یہاں پچھلے کئی عشروں سے تحقیق ہورہی ہے جس سے اندازہ ہوا ہے کہ شاید یہاں زیرِ سطح پانی موجود ہے۔

مریخ پر سطح کے نیچے پانی کی تلاش کےلیے ’’ژورونگ‘‘ پر ایک خاص ’’گراؤنڈ پینیٹریشن ریڈار‘‘ نصب ہے جس سے خارج ہونے والی ریڈیو لہریں مریخی سطح کے اندر، خاصی گہرائی تک پہنچ سکتی ہیں جن کی مدد سے وہاں پانی/ برف کی موجودگی یا عدم موجودگی کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔