عقل اور ڈپلومیسی کا فقدان!!!

329

عمران سعودیہ سے واپسی کا سفر اختیار کر چکے، شاہ نے بلایا تھا، پاکستانی میڈیا نے بتایا والہانہ اور شاندار استقبال ہوا، ویسے سعودی والہانہ استقبال کرتے نہیں، عمران سے محبت ہے تو بڑی بات ہے، عمران ارض مدینہ پر پیدل چلے اور ان کے لئے کعبہ کا دروازہ بھی کھول دیا گیا، یہ بڑے نصیب کے ہیں فیصلے یہ بڑے کرم کی بات ہے مگر یہ نصیب کے فیصلے اور کرم سعودی حکمرانوں کی اپنی مرضی پر موقوف ہے، جنرل ضیاء کے لئے بھی نہ صرف کعبے بلکہ روضہ ء رسول ﷺ کے در بھی کھول دئیے گئے تھے، جنرل ضیاء کی یہ خاطر داری اس لئے کی گئی تھی کہ پاکستان کے عوام کو یقین دلایا جائے کہ جنرل ضیاء کو خدا نے پاکستان کے لئے چن لیا ہے تبھی تو کعبہ اور روضہء رسول کے دروازے کھولے گئے، یہ بھی بتانا مقصود ہوتا ہے کہ یہ حکمران خدا کی طرف سے تمہارا حاکم بنا دیا گیا ہے، عمران کے بارے میں بھی کچھ ایسا ہی تاثر دیا گیا ہے، ہم اس کا مطلب یہ بھی لیتے ہیں کہ پاکستان کو تا دیر مذہب کی گرفت میں رکھا جائے گا، جہاں تک ارضِ مدینہ میں پیدل چلنے کی بات ہے قصص الاولیاء میں لکھا ہے کہ جنید بغدادی نے جب کعبہ کا رخ کیا تھا تو ہر قدم پر دو رکعت نماز نفل ادا کی تھی، مگر خلیفہ کے معتمد بھی تھے اور منصور کے قتل کا فتویٰ بھی جاری کیا تھا، جنید بغدادی اپنی ریاضت اور خلیفہ کے اعتماد کے باوجود بغداد کے عوام کی اذیتیں کم نہ کر سکے، عمران سے بھی یہ امید کم ہی ہے، سیاسی کرتب دکھانا بھی بڑی فنکاری ہے وہ اسٹیبلشمنٹ حکمرانوں کو سکھا دیتی ہے، میڈیا کب سے ڈھول پیٹ رہا ہے کہ عمران ایماندار ہے ایسا ہی ڈھول جنرل ضیاء کے لئے پیٹا گیا تھا کہ وہ تہجد گزار ہے، ان کو کون سمجھائے کہ ایمان داری اور تہجد گزاری سے ملک نہیں بنتے، ملک عقل اور منصوبہ بندی سے بنتے ہیں، جن کو مسائل کا ادراک ہی نہ ہو وہ ملک کی شریانوں میں مذہب ہی انجیکٹ کرتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ عمران سعودیہ کیوں گئے تھے؟ بات یہ ہے تحریک لبیک کا دھرنا اس لئے تھا کہ عمران حکومت نے تحریک لبیک سے یہ معاہدہ کیا تھا فرانس میں کارٹون بنا کر توہینِ رسالت کا ارتکاب کیا گیا ہے فرانسیسی صدر نے اس کا دفاع کیا ہے لہٰذا پاکستان سے فرنچ سفیر کو ملک بدر کیا جائے، اس معاہدے کے desighnerکی عقل کا ماتم ہی کیا جا سکتا ہے، کسی سفیر کو ملک بدر کرنے کا مطلب سفارتی تعلقات کا خاتمہ یا اعلان جنگ ہوتا ہے مگر عمران تو اقوام میں اسلامو فوبیا کے خلاف اعلان کر چکے تھے سو یہ معاہدہ اس پس منظر میں تو منطقی ہی کہا جائے گا دھرنے کے دوران فرانس کے خلاف نعرے لگائے گئے، چار پولیس اہلکاروں کو یہ کہہ کر مار دیا گیا کہ یہ فرانس کے ایجنٹ ہیں، اس ہنگامے میں درجن بھر رینجرز بھی زخمی ہوئے اور بلوائیوں نے اتنے ہی اغواء بھی کر لئے تھے، پھر بھی مذاکرات ہوتے رہے، بعدازاں لبیک پر پابندی لگا دی گئی ریفرنس نہ سپریم کورٹ کو بھیجا گیا نہ الیکشن کمیشن کو، لبیک پر پابندی ایک دکھاوے کی کارروائی تھی اس سے زیادہ کچھ نہیں، آرمی چیف نے تو برملا کہا کہ لبیک کی واپسی ہو گی، یہ جماعت ایجنسیوں نے ہی بنوائی تھی اور اس کا مقصد دیو بندیوں کو آنکھیں دکھانا تھا، عالمی طاقتیں یہ کھیل دیکھ رہی تھیں لہٰذا یورپی یونین نے پاکستان کے خلاف ایک قرارداد اکثریت سے منظور کی اور کہا پاکستان اپنا گھر درست کرے، ناموس رسالت کے قانون کے کچھ شقیں منسوخ کرے اور اس کے علاوہ صحافت کی آزادی، مسنگ پرسنز، مذہبی آزادی، صحافیوں کے اغواء اور قتل کئے جانے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا، انسانی حقوق کے حوالے سے شیریں مزاری نے عجلت میں دو بل متعارف کروائے مگر دہشت گردوں کو مطمئن کرنا بھی ضروری تھا، عمران جن کو ڈپلومیسی کی ابجد سے بھی واقفیت نہیں، مسلم ممالک کے تمام سفیروں کو بلا کر اسلاموفوبیا کے بارے میں لیکچر دیا، مسلم ممالک کے سفیروں نے اجلاس کی رپورٹ اپنے اپنے ملکوں کو روانہ کی ہو گی کہ پاکستان کا وزیراعظم یورپی منڈی کی پراڈکٹس کے بائیکاٹ کی بات کررہا ہے اور ایک متفقہ لائحہ عمل بنانے کی بات کررہا ہے، قیاس کیا جا سکتا ہے کہ یورپی یونین نے اس کا نوٹس لیا ہو گا اور مسلم ممالک کو اس کے ممکنہ نتائج سے آگاہ کر دیا ہو گا۔
ایک ٹی وی پروگرام میں ایک سعودی صحافی خالد المعینا موجود تھے خالد المعینا بہت اچھی اردو بولتے ہیں، انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ بدل رہا ہے اور ہمیں اپنا گھر درست کرنے کی ضرورت ہے اور ہمیں دنیا کے ساتھ چلنا ہے، ظاہر ہے کہ خالد المعینا اپنے ملک کی پالیسی سے واقف ہوں گے اور غالب خیال یہی ہے کہ عمران کا سافٹ ویئر درست کرنے کے لئے ان کو بلایا گیا ہو گا کہ یہ پکڑو پچاس کروڑ اور اپنا منہ بند رکھو، اس کے بعد عمران نے روشن ڈیجیٹل اکائونٹ کی تقریب سے جو خطاب کیا اس میں نہ ریاست مدینہ کی بات کی اور نہ ہی اسلاموفوبیا کی بلکہ کئی بار نئے پاکستان کی بار کی، عمران کا دورہ دو دن کا تھا اور یہ زیادہ تر عمرے اور مدینے کی زیارت میں گزر گیا، آرمی چیف قمر باجوہ عمران کی روانگی سے قبل ہی سعودیہ میں موجود تھے اور تمام معاملات طے کر چکے تھے، دو ایک معاہدات ہوئے جن پر عمران نے فقط دستخط کرنے تھے جن کی تفصیل منظر عام پر نہ آسکی، قمر باجوہ وزیر خارجہ بھی ہیں، شاہ محمود قریشی کو اس سارے عمل سے دور رکھا گیا۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اب عمران کا رویہ واپسی پر کیا ہوگا، تحریک لبیک کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے اور معاشی معاملات پر کتنی توجہ دی جاتی ہے، ملک کو جنرل ضیاء کی پالیسیوں نے ایک اذیت میں مبتلا کر دیا ہے اور فوج نے کسی نہ کسی بہانے سے اس تسلسل کو برقرار رکھا ہے اور گزشتہ چالیس سال سے مذہب کو اولیت دی گئی اور معیشت کو بری طرح نظر انداز کیا گیا ہے، عمران کے بیانئے پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے جب وہ کہتے ہیں کہ افغانستان سے تجارت ہو گی تو پاکستان خوشحال ہو گا، ساری دنیا مغرب ،امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ سے تجارت کو ترجیح دیتی ہے، یہ بس پاکستان کہتا ہے کہ افغانستان میں امن ہو گا تو پاکستان میں امن ہو گا۔ اس کا مطلب ہے کہ عمران حکومت معیشت کی بحالی اور ترقی کیلئے سنجیدہ نہیں ہے، پاکستان میں مذہب اور سیاست ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کو نکیل ڈالنی ہی پڑے گی، ایک افواہ تو یہ بھی گردش کررہی ہے کہ طالبان سے عمران کی محبت کا یہ عالم ہے کہ آٹے اور چینی کے تین سو ٹرک افغانستان روانہ کر دئیے گئے اور ملک میں آٹے اور چینی کا بحران پیدا ہو گیا اگر یہ سچ ہے تو یہ عوام کے ساتھ بڑا ظلم ہے۔