۔۔۔ خبر لیجئے دہن بگڑا !

301

بیرونِ ملک تعینات پاکستانی سفراء سے اپنے آن لائن خطاب میں، جو ملک بھر کی ٹیلی ویثرن چینلز نے براہِ راست، یعنی لائیو، دکھایا وزیرِ اعظم عمران خان نے حد کردی! عمرا ن خان جب اردو بولتے ہیں تو ان کے لہجہ سے یہ تو فوری پتہ چل جاتا ہے کہ انہوں نے دنیا کی یہ سب سے مہذب اور شائستہ زبان باقاعدہ پڑھنے کی شاید کبھی ضرورت محسوس نہیں کی۔ شہیدِ ملت لیاقت علی خان کے بعد آنے والے زیادہ تر حکمرانوں کا یہ حال رہا۔ انہوں نے ہماری گنگ و جمن میں دھلی ہوئی شیریں زبان کے ساتھ جو کھردرا رویہ رکھا اسے ہم نے قہرِ درویش بر جانِ درویش سمجھ کر قبول کیا۔ عمران خان کے ساتھ ایک یہ بھی مسئلہ ہے کہ ان کی اسکول کی تعلیم اس ادارے میں ہوئی، لاہور کے اس ایچی سن اسکول میں، جو فرنگی استعمار اور نو آبادیاتی دور کی علامت ہے لیکن استعمار سے بظاہر آزاد اور خود مختار پاکستان میں آج بھی اس ادارے میں تعلیم حاصل کرنا بڑے ہونے کے ثبوت کے طور پہ پیش کیا جاتا ہے۔ بڑے فخر سے یہ کہا جاتا ہے کہ ہمارا بچہ چیفس کالج میں پڑھا ہے!
تو اسی چیفس کالج کے فارغ التحصیل عمران خان نے اپنے خطاب میں سفراء کو، انتہائی درشت اور تضحیک آمیز لہجہ میں، یہ طعنہ دیا کہ وہ، یعنی سفیر، نو آبادیاتی دور کی ذہنیت کو ترک کردیں کیونکہ ، بقول ان کے، اکیسویں صدی میں، یہ رویہ نہیں چل سکتا! بالکل نہیں چل سکتا، صاحب، اور چلنا بھی نہیں چاہئے لیکن ایک سوال آپ سے بھی ہے کہ کیا آپ کو آپ کے اس نوآبادیاتی چیفس کالج میں یہی سکھایا گیا تھا کہ آپ جب اپنے سفراء سے، جو بیرونی دنیا میں پاکستان کی نمائندگی کرنے کا بارِ گراں اٹھائے ہوئے ہوتے ہیں، خطاب کریں، کلام کریں تو ایسے درشت لہجہ میں جیسے وہ سفیر نہ ہوں آپ کے گھریلو ملازم ہوں جنہیں آپ جس طرح چاہیں مخاطب کریں اور بلا روک ٹوک، بلا جھجک، ان کی بے عزتی کرڈالیں؟ سفیروں کو آپ نوآبادیاتی ذہنیت کا طعنہ دیکے مطعون کررہے تھے لیکن بذاتِ خود آپ کا اندازِ تکلم ان سے ایسا ہی جارحانہ تھا جیسے فرنگی آقا اپنے ہندوستانی ملازمین کے خلاف روا رکھا کرتے تھے۔ سفیر ہیں وہ، ملک کی نمائندگی کرتے ہیں، پاکستان کی بیرونِ ملک عزت اور ساکھ ان سفیروں کی ذات سے ہوتی ہے لیکن آپ ان کو ایسے بے توقیر اور ذلیل کررہے تھے جیسے وہ آپ کے گھر کے ملازم ہوں! شریف گھرانوں میں تو آج بھی بچوں کو یہی تعلیم دی جاتی ہے کہ گھرمیں کام کرنے والوں کی بھی عزت ہوتی ہے لہٰذا ہمیشہ خیال رکھا جائے کہ ان کی عزتِ نفس نہ مجروح ہو لیکن یہاں ملک کا وزیر اعظم اس طنطنہ کے ساتھ اپنے سفراء کو جھاڑ پھٹکار رہا تھا جیسے وہ اس کے زرخرید غلام ہوں!
ویسے یہ تو ہمارے جاگیردارانہ سیاسی کلچر میں بہت عام بات ہے کہ جاگیرداری کے مرض میں مبتلا سرکاری عمال کو اپنے ذاتی ملازم سمجھتے ہیں۔ اور یہ زہر اتنا پھیل چکا ہے کہ وہ جو لوہار کے خاندان میں آنکھ کھولتے ہیں لیکن پاکستان کے بادشاہ گروں کا فیض انہیں مسندِ اقتدار پر بٹھا دیتا ہے ان کے دماغ کا خناس انہیں فرعون بنادیتا ہے اور وہ سرکاری ملامین کو سرِ عام ذلیل اور رسوا کرنے میں ہی اپنی بڑائی سمجھتے ہیں! نواز شریف جیسا نیم خواندہ اور نیم مہذب شخص خود کو بادشاہ سمجھتا تھا اور سفیروں سے ناراض ہوجاتا تو انہیں کھڑے کھڑے بے عزت کردیتا۔ اور وہ جو اپنے آپ کو خادمِ اعلیٰ کہلواتے تھے ان کی فرعونیت تو پنجاب میں ضرب المثال بن گئی تھی۔ اصل وجہ یہ ہے کہ جو خود بے توقیر اور کم نسب ہوتے ہیں، جن کی اپنی کوئی عزت نہیں ہوتی وہ دوسروں کی عزت کرنا نہیں جانتے لیکن عمران خان سے یہ توقع شاید ان کے بدترین دشمن کو بھی نہیں رہی ہوگی کہ وہ بھی ہماری رسوائے زمانہ اشرافیہ کے رنگ میں رنگ جائینگے ! لیکن ہوا یہی کہ وہ کہاوت سچ ثابت ہوگئی کہ ہر کہ در کانِ نمک رفت، نمک شد! بات اتنی تھی کہ وزیر اعظم کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہمارے سفارت خانے کے خلاف کچھ شکایات موصول ہوئی تھیں۔ سفارت خانوں کے خلاف شکایت کرنے میں ہمارے لوگ بڑے حاتم ہیں۔ جس کا بھی کام نہ ہو وہ سفارت خانے کو ناکارہ اور بیکار قرار دینے میں دیر نہیں لگاتا اور یہ عام طور سے وہی لوگ ہوتے ہیں جن کی خلافِ ضابطہ فرمائشیں سفارت کانہ پوری کرنے سے قاصر ہوتا ہے۔ ٹھیک ہے کہ گزشتہ برس سے دنیا بھر میں جو حالات چلے آرہے ہیں انہوں نے ہر ملک کو متاثر کیا ہے۔ سعودی عرب میں بھی ہمارے ہزارہا لوگ بیکار ہوگئے ہیں۔ غریب لوگ ہیں بیچارے جن کو ملک واپس لانا حکومت کا اخلاقی فریضہ ہے اور سفارت خانے نے اس ذمہ داری کو ہر ممکنہ حد تک پورا کرنے کی کوشش بھی کی لیکن کمزوریاں ہوتی ہیں، ہرسفارت خانے میں ہوتی ہیں!
وزیر اعظم کو یہ زعم ہے کہ وہ برسوں مغرب میں رہے ہیں، بلاشبہ رہے ہیں لیکن سفارتخانے کیسے کام کرتے ہیں اس کا انہیں کوئی ادراک نہیں ہے۔ ایک سفارت خانے میں صرف دفترِ خارجہ کے افسران نہیں ہوتے دیگر وزارتوں اور شعبوں کے نمائندے بھی ہوتے ہیں بلکہ ریاض، سعودی عرب جیسے سفارت خانے میں تو دوسرے شعبوں کے اہلکار زیادہ اور دفترِ خارجہ کے لوگ کم ہوتے ہیں۔
پاکستان میں جو مطلق العنانی ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ ہر محکمہ کا افسر اپنے آپ کو سفیر سے کم نہیں سمجھتا اور اکثرسفارت خانوں میں اسی سبب سے کشمکش کی صورت رہتی ہے۔ دفترِ خارجہ کے افسران تو تربیت یافتہ ہوتے ہیں انہیں معلوم ہوتا ہے کہ سفیر کی نافرمانی انہیں بھاری پڑسکتی ہے لیکن دیگر وزارتوں کے نمائندے اس زعم میں ہوتے ہیں کہ سفیر ان کا کچھ نہیں بگاڑسکتا۔ پھر وہ زیادہ تر سفارشی ہوتے ہیں اور انہیں اطمینان ہوتا ہے کہ سفیر اگر ان سے ناراض بھی ہوگا تو ان کی پشت پناہی کرنے والے، جو زیادہ تر سیاستدان ہوتے ہیں انہیں ہر مشکل سے نکال لینگے، ہر بلا کو ٹال دینگے! سعودی عرب میں ایک اور بڑی مشکل سعودی حکومت ہے جس کے فیصلے اور فرمان اکثر الل ٹپ ہوتے ہیں اور منطق سے عاری ہوتے ہیں لیکن ان سے مفر ممکن نہیں۔ کڑی کمان کے تیر ایک بار چل گئے تو چل گئے۔ ریاض میں ہمارے سفیر راجہ علی اعجاز پر وزیر اعظم کا نزلہ گرا اور انہیں وہاں سے واپس اسلام آباد بلالیا گیا ہے جبکہ شاہِ وقت کے فرمان کے مطابق ان کے خلاف تحقیقات بھی ہورہی ہیں۔ علی اعجاز کو ہمارے بہت سے قارئین جانتے ہونگے۔ ریاض جانے سے پہلے وہ نیویارک میں قونصل جنرل تھے۔ نستعلیق، مہذب ، فرض شناس اور لائق سفرء ا میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ لیکن ان پر الزام یہ ہے، سب سے بڑا اور مضحکہ خیز کہ انہوں نے پاکستانی محنت کشوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ان کیلئے سفارت خانے تک پہنچنے کا راستہ بند کروادیا تھا!
اس الزام سے بڑا جھوٹ کوئی نہیں ہوسکتا۔ ریاض میں بڑا علاقہ ہے جو سفارت خانوں کیلئے مخصوص ہے، ڈپلومیٹک انکلیو کے نام سے جس کے گرد سعودی پولیس اور فوج کا پہرا رہتا ہے۔ راستے کھولنے یا بند کرنے کا فیصلہ سعودی حکومت کا ہوتا ہے۔ کرونا کی وبا نے سعودی حکام کو بھی ایسے ہی بوکھلادیا تھا جیسے اور حکومتوں کے ساتھ ہوا۔ وہ اکثر بھیڑ بھاڑ کے خلاف حفاظتی اقدام کے طور پہ سفارت خانوں کو جانے والے راستوں پر نگہداشت بڑھا دیتے تھے اور سعودی شرطوں کا اپنا مزاج الگ ہے وہ غریب پاکستانیوں کو کہاں خاطر میں لاتے ہیں۔ گذشتہ برس جب وبا پھوٹی ہے تو میں خود سعودی عرب میں اپنی بیٹی کے پاس دہران میں تھا جو ریاض سے چار گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ دہران میں بھی ایسی ہی سختیاں تھیں، ایسی ہی پابندیاں تھیں۔ تین مہینے دہران میں رہنے کے بعد مجھے ٹورنٹو واپسی کی جو فلائٹ ملی وہ ریاض سے تھی۔ ریاض تک پہنچنا مسئلہ نہیں تھا لیکن مشکل یہ تھی کہ میری فلائٹ دو بجے رات کو تھی اور ریاض میں دس بجے رات سے کرفیو لگ جاتا تھا۔ راجہ علی اعجاز کا خدا بھلا کرے کہ انہوں نے مجھے اپنی گاڑی میں ہوائی اڈے پہنچایا۔ وزیر اعظم کی بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ کانوں کے بہت کچے ہیں۔ مجھے اس کا ذاتی تجربہ ہے۔ ان کے کان راجہ علی اعجاز کے خلاف بھرے گئے اور انہوں نے راجہ سمیت ہر سفیر پر استعماری ذہنیت رکھنے کا الزام عائد کردیا جبکہ اس معاملہ میں ان کی سوچ اور عمل پر نوآبادیاتی ذہنیت کی واضح چھاپ دکھائی دے رہی ہے۔
ریاض میں سفیر کی آسامی خالی کروانے میں ان کی دلچسپی تھی جو پاکستان میں ریاست کے اندر ریاست بنائے ہوئے ہیں، آج سے نہیں برسہا برس سے۔ وہ اپنا بندہ ریاض بھیجنا چاہتے تھے اور اس میں کامیاب ہوگئے۔ راجہ اعجاز کو بلا لیا گیا اور ان کی جگہ ایک جرنیل سفیر نامزد کردئیے گئے اور انہوں نے وہاں پہنچنے میں دیر نہیں لگائی۔
ہم خود بالکل ایسے ہی تجربے سے گذرے ہیں۔ ہمیں ترکی میں ایک برس ہی ہوا تھا جب جنرل مشرف کے ایک دستِ راست جرنیل نے ہماری جگہ اپنے ایک بندے کو انقرہ بھجوانے کا فیصلہ دفترِ خارجہ پہ مسلط کیا۔ بیچارے راجہ اعجاز کو بھی ریاض میں یہی کوئی سال سوا برس ہوا تھا جوانہیں قربانی کا بکرا بنادیا گیا۔ ہم پر اللہ کا شکر ہے کوئی الزام نہیں تھا بلکہ جواز یہ بنایا گیا تھا کہ بہر تعیناتی کا ہمارا عرصہ طویل ہوگیا تھا۔ تو پاکستان میں یہ محلاتی سازشیں ہوتی رہتی ہیں اور جس افسر کی پیٹھ پر کوئی سہارا دینے والا نہیں ہوتا اور جس کی گردن پتلی ہوتی ہے اس میں پھندہ آسانی سے ڈال دیا جاتا ہے! عمران خان کا اپنا مفاد اسمیں یہ ہے کہ انہیں بیرونِ ملک نوے لاکھ پاکستانی نظر آرہے ہیں جن کے ووٹ وہ اگلے انتخاب میں اپنے حق میں چاہتے ہیں۔ ان نوے لاکھ میں سے چالیس لاکھ یا چار ملین صرف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں ہیں تو ان کے دل جیتنے کا یہ سہل نسخہ نظر آیا کہ اپنی حکومتی کمزوریوں کا ملبہ ان دو ممالک میں پاکستانی سفارت کاروں پر ڈال دیا جائے۔ اسی لئے وزیرِ اعظم نے سعودی عرب کے ساتھ ساتھ ایک ہی سانس میں متحدہ عرب امارات کا بھی ذکر کیا، کویت کا نام بھی لیا۔ ممکن ہے اگلا نزلہ ان دو ممالک میں پاکستانی سفیروں پر گرے! تو اس جارحیت میں عمران خان کو مشورہ دینے والوں نے اپنی دانست میں ایک تیر سے دو شکار کئے ہیں۔ ایک طرف سفراء کو مطعون کرکے پاکستانی محنت کشوں کے دل جیت لئے دوسرے ان کو یہ ڈھارس دلوائی کہ ان کے ووٹ دینے کے حق کو حکومت ترجیحی بنیاد پرقانون کی قبا پہنانا چاہتی ہے جس کیلئے ایک صدارتی آرڈی نینس بھی جاری ہوگیا ہے!
لیکن سب سے قبیح حرکت جو عمران خان نے کی وہ یہ کہ ایک طرف اپنے سفیروں کو دنیا کی نظروں میں ذلیل کیا تو اس کے ساتھ ساتھ بھارتی سفارت کاروں کو خراجِ تحسین بھی پیش کیا کہ ان کی کارکردگی مثالی ہے جو پاکستانیوں کو آئینہ دکھاتی ہے! اب کوئی ریاستِ مدینہ بنانے کا سبز باغ دکھانے والے سے پوچھے کہ اپنوں کو ذلیل کرنا اور دشمنوں کو عزت و توقیر دینا کہاں کا انصاف ہے اور پاکستانی سفارت کاری کو دنیا کیلئے جگ ہنسائی کا موضوع بنوا کر وہ ملک کی کیا اعلیٰ خدمت کررہے ہیں؟ یہ نئے پاکستان کی سوچ نہیں ہے بلکہ اسی دقیانوسی جاگیردارانہ غلبہ والے پاکستان کی بیمار سوچ ہے جسے آج بھی عمران کے طعنے سننے پڑتے ہیں لیکن یہ سب محض زبانی جمع خرچ ہے۔ بیماری اور انصاف پر یاد آیا کہ اس بہانے سے نواز شریف تو پہلے ہی حکومت کی رضا سے فرار ہوچکے ہیں اور چھہ ہفتے کے بجائے انہیں لندن میں آرام کرتے ہوئے ڈیڑھ برس سے زیادہ مدت ہوچکی ہے۔ تو اب ان کے برادرِ خورد بھی اسی بہانے لندن فرار ہونے کیلئے پر تول رہے ہیں اور ان کے غلام لاہور ہائی کورٹ نے، جسے اب لوگ مذاق میں لوہار کورٹ کہنے لگے ہیں، انہیں پروانہ بھی عطا کردیا ہے! دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیر اعظم جس دن سعودی حکومت کی دعوت پر جدہ پہنچے اسی دن لوہار ہائی کورٹ نے شہباز شریف کیلئے دل و جان قربان کرنے کا ثبوت دیا۔ تو کیا حرمین کے خادموں کا اشارہ خادم اعلیٰ شہباز کیلئے بھی ہوگیا ہے؟ تو اب شہباز بھی جائینگے، کیوں نہیں جائینگے، عمران حکومت دیکھتی رہ جائیگی کیونکہ بادشاہ گر اس کے حق میں ہیں۔ وہاں بھی اس نام کے شریف خاندان کیلئے بہت نرم گوشے ہیں اور یہ نعرہ جاری ہے کہ جو شریف آئے آئے کہ ہم دل کشادہ رکھتے ہیں!
چلئے اب اور کتنا دل جلائیں۔ پاکستان کا حال تو آج بھی وہی ہے جو برسوں سے چلا آرہا ہے۔ اور اب نعرے لگانے والوں کے نعروں کا پول بھی کھل چکا ہے۔ نیا پاکستان ایک گھٹیا مذاق بن گیا ہے۔ تکلیف ہوتی ہے کہ ہمارے حکمراں نہ جانے کس دنیا کے باسی ہیں ، کہاں رہتے ہیں؟ رمضان المبارک ختم ہونے کو آئے لیکن پاکستان کے شب و روز نہ آجتک بدلے ہیں نہ بدلنے کے کوئی آثار ہیں۔ وہی ہے چال بے ڈھنگی جو پہلے تھی وہ اب بھی ہے! آپ سب کو عید مبارک اگرچہ یہ دوسری عید ہے جو کرونا کے حصار میں ہی بیتے گی۔ یہ عذاب نہ جانے کب ٹلے گا کچھ پتہ نہیں۔ دعا میں بھی اثر شاید کم ہوگیا ہے!