جنرل باجوہ اور عمران خان کا دورہ سعودی عرب، سعودی حکمرانوں کو پاکستان یاد آہی گیا

244

محمد بن سلمان کی دعوت پر عمران خان اپنا چھٹا دورہ سعودی عرب کرنے کے بعد پاکستان پہنچ گئے۔ اس دورہ میں اپنی وائف کے ساتھ انہوں نے عمرہ بھی کیا شاید پہلی مرتبہ ان کی اہلیہ خانہ کعبہ کے اندر گئیں ہوں گی، حجر اسود کا بوسہ دنیا جو کہ ہر مسلمان کے دل کی آرزو ہوتی ہے یہ خواہش وفد میں شامل ہر شخص کی پوری ہوئی، روضہ رسول پر حاضری اور ریاض الجنہ میں نوافل ادا کرنا اور روزہ افطار کرنا ہر مسلمان کی قسمت میں نہیں ہوتا، خوش نصیب تھا وفد میں شامل ہر شخص جس نے وہاں بیٹھ کر یہ وقت گزارا، عمران خان نے اس مرتبہ بھی مدینہ کی سرزمین پر ننگے پیر قدم رکھا، ان اسلامی مشغولیات سے ہٹ کر اگر آپ غور سے اس وزٹ کا جائزہ لیں اور تجزیہ کریں تو بات بہت دور تک چلی جاتی ہے۔
بظاہر عمران خان نے اس دورہ میں پانچ معاہدے کئے سب سے اہم سعودی پاکستان سپریم کوآرڈینیشن کونسل کا قیام ہے اس پر عمران خان اور ایم بی ایس نے دستخط کئے دوسرا اہم ایگریمنٹ سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ کا ہے جس سے پاکستان کو 500ملین ڈالر ملیں گے جس کو وہ تعلیم اور فلاحی کاموں پر خرچ کرے گا، دوسرے لفظوں میں پاکستان کو 500ملین ڈالر کا تحفہ ہے جو پاکستانی حکومت اپنی صوابدید کے مطابق خرچ کرے گی، یہ خالی امداد ہے، عید کے بعد سعودی وفد پاکستان کا دورہ کرے گا اور اور ان معاہدوں کی تفصیلات طے کرے گا، سب سے اہم بات سعودی عرب کے آنے والے منصوبوں میں پاکستانی ہنر مندوں اور مزدوروں کو نوکریاں دینے کا وعدہ کیا جارہا ہے۔ سعودی عرب کو آئندہ دس سالوں میں مختلف منصوبوں میں ایک کروڑ سے زیادہ لوگوں کی ضرورت پڑے گی۔ ان ایک کروڑ نوکریوں میں سب سے زیادہ حصہ پاکستان کا ہو گا۔ تیل کی اہمیت آہستہ آہستہ ختم ہوتی جارہی ہے الیکٹرانک کاروں کے آنے کے بعد پٹرول کی مانگ پوری دنیا میں کم ہو جائے گی، اب تک سعودی عرب سمیت عرب ممالک کی آمدنی کا انحصار تیل پر تھا، اب پوری عرب دنیا کو نئے طریقوں سے اپنی آمدنی کو بڑھانا ہو گا، اس وقت تقریباً 24لاکھ پاکستانی سعودی عرب میں کام کررہے ہیں اگر پاکستانی ہنر مندوں کی تعداد سعودیہ میں دوگنی ہو جاتی ہے تو زرمبادلہ کی ترسیل پاکستان میں دگنی ہو جائے گی جس سے پاکستانی معاشی نظام بہتر ہو جائیگا۔
سب سے اہم دو سوال رہ گئے ہیں؟ پہلا جنرل باجوہ اتنے دن سے سعودی عرب میں کیوں ہیں اور سعودی رویے اور مہربانیوں میں تبدیلی کیوں آئی ہے؟۔ محمد بن سلمان عمران خان کو لینے خود ایئرپورٹ کیوں آئے اور پرپل کارپٹ عمران خان کے لئے کیوں بچھائی گئی؟۔سعودی حکمران بہت ہی خاص مہمانوں کے لئے بجائے لال کارپٹ کے پرپل کارپٹ بچھاتے ہیں۔ اس کی وجہ جو بائیڈن کا انداز فکر اور پالیسیاں ہیں۔ ابھی تک امریکہ سعودی عرب کی حفاظت کا ذمہ دار تھا، سارا اسلحہ بھی امریکہ سے آتا تھا، جوبائیڈن نے امریکہ کا صدر بنتے ہی امریکی پالیسیوں کو سعودی عرب کے لئے تبدیل کر دیا ایم بی ایس چند ہفتے بہت پریشان رہے پھر انہوں نے یہ تسلیم کر لیا کہ آئندہ آنے والا وقت چائنہ کا ہے اور چین آئندہ کی سپرپاور ہے چین سے رابطہ پاکستان کے بغیر ممکن نہیں ہے، اگر آپ کو یاد ہو جنرل یحییٰ خان کے زمانے میں ہنری کسنجر پاکستان کے راستے ہی پہلی مرتبہ چین گئے تھے جہاں چواین لائی اور ماوزے تنگ سے ملاقات ہوئی تھی۔ اب سعودی عرب کو بھی چین سے ہاتھ ملانے کے لئے پاکستان کی ضرورت ہے ورنہ شاہ محمود قریشی کے اس بیان کے بعد جو انہوں نے کاشف عباسی کو دیا تھا تو سعودی عرب میں ہنگامہ مچ گیا تھا اور تعلقات انتہائی خراب ہو گئے تھے ۔سعودی عرب پاکستان سے ایک لاکھ فوجی بھی اپنی حفاظت کے لئے مانگ رہا ہے۔ ان ہی کی تفصیلات اور منظوری کے لئے جنرل باجوہ سعودی عرب پہلے گئے اور عمران خان کے وفد میں موجود رہے۔ دوسرا اہم سوال وفد میں شامل پنجاب کے منسٹر علیم خان تھے، وہ کیوں اس وفد میں ساتھ گئے حالانکہ پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو ساتھ ہونا چاہیے تھا یا پنجاب کے گورنر ساتھ ہوتے۔ لوگ یہ قیاس کررہے ہیں کہ شاید عثمان بزدار کوعلیم خان سے تبدیل کیا جارہا ہے۔ حالات جو بھی ہوں پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات بہت بہتر ہونے جارہے ہیں۔ سعودی عرب سی پیک میں بھی سرمایہ کاری کرے گا، آہستہ آہستہ وہ بھارت سے الگ ہو جائے گا اور چائنہ سے بہت قریب ہو جائے گا جو معاشی طور پر پاکستان کے لئے بہتر ہو گا۔