مدرز ڈے

257

کچھ دن پہلے مدرز ڈے گزرا، تقریباً سب ہی لوگ فیس بک پر اپنی اپنی مدرز کی تصویریں لگاتے نظر آئے، پیار بھرے پیغامات سے فیس بک کی والز بھری ہوئی تھیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سب ہی لوگوں نے اپنی مدرز کو پھول اور تحائف و کارڈز بھیجے، مدرز ڈے وہ موقع ہوتا ہے کہ جب مدرز کو گفٹ ضرور دینا چاہیے ایسا سب ہی کو لگتا ہے لیکن شاید آپ کو جان کر حیرانی ہو گی کہ وہ انسان جس نے ’’مدرز ڈے‘‘ کاسلسلہ شروع کیا تھا وہ اس موقع پر تحفے اور کارڈز دینے کے بالکل خلاف تھی۔
ویسے تو دنیا بھر میں سینکڑوں سال سے کسی نہ کسی وقت میں ’’مائوں‘‘ کے لئے تقریبات منعقد کی جاتی لیکن ’’مدرز ڈے‘‘ کا ٹرینڈ شروع ہوا۔ 1908ء میں جب ANNA JERYSنامی خاتون نے 1908میں اپنی ماں کی یاد میں ویسٹ ورجینا کے علاقے میں ایک میموریل پروگرام ترتیب دیا، اس دن کو ’’آفیشل مدرز ڈے‘‘ بنانے کی کمپین 1905 ء میں شروع ہوئی جب ان کی والدہ کا انتقال ہوا، اینا کی والدہ ’’امن‘‘ کیلئے کام کرتی تھیں یہ زخمی سپاہیوں اور فوجیوں کی مدد کرتیں وہ اس بات کی پرواہ نہیں کرتی تھیں کہ فوجی کس طرف کا ہے ان کو صرف زخمیوں کی مدد کرنے سے مطلب تھا۔
اینا کی والدہ نے ایک کلب تشکیل دیا تھا جس کا نام ’’مدرز ڈے ورک کلب‘‘ جو پبلک ہیلتھ ایشوز پر کام کرتا تھا، اپنی والدہ کے انتقال کے بعد ان کے کام کو وہ جاری رکھنا چاہتی تھیں، اس لئے انہوں نے اس کلب کے کام کو ختم نہیں ہونے دیا اور ایک دن ایسا مقرر کیا جس دن سب اپنی مائوں کو آنر کریں۔
1908ء میں کانگریس نے اس بات کو رد کر دیا کہ مدرز ڈے پر چھٹی ہونی چاہیے۔ ارزاہ تفنن یہ بھی کہا گیا کہ اگر ہم نے مدرز ڈے کی چھٹی دے دی تو ’’مدرز ان لاء‘‘ بھی چھٹی مانگنے لگیں گی اور آہستہ آہستہ ہر رشتہ اپنے لئے چھٹی کا خواہشمند ہو گا۔
اینا کی کاوشوں سے 1911ء تک امریکہ کی تمام ریاستوں میں مدرز ڈے کو آفیشل بنا دیا گیا نہ صرف یہ بلکہ کئی ریاستوں نے اپنے اپنے طور پر اس دن چھٹی دینی بھی شروع کر دی، اس چھٹی کی روایت کو شروع کرنے والی سٹیٹ تھی ویسٹ ورجینا جہاں سے اینا کا تعلق تھا۔ 1910ء کے بعد کئی اور ایسی سٹیٹ تھیں جنہوں نے مدرز ڈے کی چھٹی دینی شروع کر دی، 1914میں یہ طے ہوا کہ مدرز ڈے ہر مئی کے دوسرے اتوار کو منایا جائے گا جبکہ اینا وہ شخصیت تھیں جن کی وجہ سے مدرز ڈے کا آغاز ہوا لیکن اس کی شہرت کی وجہ سے بہت جلد اس کے کمرشلائزڈ ہونے سے بھی وہ پریشان ہو گئیں۔ 1920ء تک ہال مارکس اور دوسری کمپنیوں نے مدرز ڈے کے موقع پر خصوصی کارڈز چھاپنے شروع کر دئیے جو بات اینا کو پسند نہیں تھی کیونکہ کمپنیوں کے پیش نظر اس دن کے تجارتی فائدے تھے۔
اینا کو لگتا تھا کہ کمپنیوں نے اس دن کو اپنے فائدے کے لئے استعمال کیا اور exploitکیا ان کا مقصد صرف اور صرف اپنے کارڈ بیچنا تھا نہ کہ اس دن کی اہمیت کو اجاگر کرنا، وہ چاہتی تھیں کہ مدرز ڈے کو کوئی منافع کمانے کا ذریعہ نہ بنائے، اینا اس دن کے کمرشلائزڈ ہونے کے اتنی خلاف تھی کہ ان کمپنیوں کے خلاف باقاعدہ مظاہرے کرتی تھیں، ساتھ ہی انہوں نے ان کمپنیوں کو SUEکرنے کی بھی دھمکی دی تھی ان کا کہنا تھا کہ یہ ایسا دن جس میں لوگوں کو اپنے ہاتھ سے خط لکھنا چاہیے جس میں اظہار ہو کہ وہ اپنی ماں سے کتنی محبت کرتے ہیں، ان کے لئے اپنے ہاتھوں سے کیک اور کھانا بنا کر انہیں کھلائیں لیکن کمپنیاں لوگوں کو اکسا رہی ہیں کہ وہ مہنگے مہنگے گفٹس خرید کر ہی اپنی مائوں کو اپنا اپنا پیار جتائیں اور کسی پریس میں چھپے کارڈز دے کر انہیں خوش کریں۔
1923ء میں اینا نے فلاڈلفیاکی ایک بیکری کے باہر مظاہرہ بھی کیا تھا اسی طرح 1925ء میں اینا نے ’’امریکن وارز مدرز‘‘ کے ایونٹ میں ہنگامہ کیا جس کا اہتمام کارنیشن کمپنی نے کیا تھا تو اینا کو گرفتار کر لیا گیا تھا ان کا جرم تھا امن کو خراب کرنا۔
مسئلہ یہ تھا کہ اینا صرف مدرز ڈے کی بانی نہیں تھیں بلکہ ان کے پاس ’’مدرز ڈے‘‘ کاٹریڈ مارک بھی تھا جو انہوں نے 1921ء میں رجسٹر کروایا تھا ان کی مرضی کے بغیر یہ کوئی بھی استعمال نہیں کر سکتا تھا لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ بڑی بڑی کمپنیوں نے اس termکو اپنا لیا۔
اینا نے یہ کہا تھا کہ یہ ’’Mother’s day‘‘ ہے ’’Mothers day‘‘ نہیں کیونکہ یہ صرف میری ماں کا دن ہے اور جو اسے منارہا ہے اس کی ماں کا دن ہے، اس لئے امریکہ میں مدرز ڈے کی Spellingوہی لکھے جاتے ہیں جو اینا نے دئیے تھے۔
1948ء میں اینا چوارسی سال کی عمر میں اس جان فانی سے رخصت ہو گئیں ان کی مہم تو ناکام ہو گئی کہ مدرز ڈے کمرشلائزڈ نہ ہو لیکن دنیا کو وہ مدرز ڈے دے گئیں جس کی وجہ سے اب ہر شخص کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنی ماں کو بہتر سے بہتر گفٹ دیں۔
وہ دن جو اب سالگرہ سے زیادہ اہم ہوتا ہے اپنی والدہ کو تحفہ دینے کے لئے وہ مدرز ڈے ہوتا ہے جو اینا بالکل نہیں چاہتی تھیں اور یہی ان کی زندگی کا سب سے بڑا دکھ تھا، اگر ہم اینا سے مل پاتے تو شاید سمجھاتے کہ اس دن کو کمرشل مدرز ڈے ہی رہنے دیں اور سال کے باقی 364دنوں کو اپنا والا مدرز ڈے بنا لیں کیونکہ چاہے وہ مئی کا دوسرا اتوار ہو یا جون کا پہلا، ماں تو ماں ہی ہوتی ہے۔
جس ماں نے کئی سال اپنے بچوں کی زندگی سنوارنے میں وقف کر دی ہوتی ہے اس کے لئے سال میں ایک دن کیا ہزار دن بھی منائے جائیں تو کم ہیں، آپ کو بھی ہیپی مدرز ڈے ’’اصل والا‘‘ وہ نہیں جو اپریل کے تیسرے ہفتے سے دوکانوں پر بک رہا ہوتا ہے۔