امریکہ کی Endgame اور پاکستان ( آخری حصہ)

246

امریکہ پاکستان تعلقات ایک مرتبہ پھر ایسے پراسرار منطقے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں سے انکے بارے میں بہت کم خبریں آ رہی ہیں عالمی منظر نامے میں کیونکہ غیر معمولی واقعات کی بھرمار ہے اسلئے واشنگٹن اور اسلام آباد کے باہمی معاملات کو اس بڑے تناظر میں زیادہ آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے اس حوالے سے گذشتہ ہفتے کی بڑی خبر امریکی سنٹرل کمانڈ کے چیف جنرل کینتھ میکنزی کی پینٹا گون میں پریس بریفنگ تھی اس گفتگو میں انہوں نے یہ انکشاف کیا تھا کہ امریکی سفارتکار وسط ایشیا کی چار ریاستوں کیساتھ مذاکرات کر رہے ہیں تاکہ اس بات کا جائزہ لیا جا سکے کہ ان سے کن شرائط پر ہوائی اڈے اور عسکری نوعیت کی دوسری سہولیات لی جا سکتی ہیںجنرل میکنزی نے کہا تھا کہ امریکہ کو ان ریاستوں کے تعاون کی اسلئے ضرورت ہے کہ وہ افغانستان سے انخلا کے بعد انکے اڈوں کو افغان فوج کو بر وقت فضائی امداد مہیا کرنے کیلئے استعمال کر سکے اس پریس بریفنگ کی حیران کن بات یہ تھی کہ اسمیں کسی صحافی نے یہ نہ پوچھا کہ کیا پاکستان سے بھی اس سلسلے میں کوئی بات چیت ہو رہی ہے یا نہیںامریکی نیوز میڈیا نے جنرل میکنزی کے امریکی اور عرب ممالک کے صحافیوں سے ہونے والے اس مکالمے کو خاصی تفصیل سے شائع کیا مگر جنگ و جدل کی اس روداد میں افغان جنگ میں فرنٹ لائن سٹیٹ کا کردار ادا کرنے والے ملک پاکستان کا صرف اتنا ذکر تھاکہ اگر گیارہ ستمبر کے بعد خطے کے حالات خراب ہوے تو اسکا زیادہ اثر پاکستان پر پڑیگا میرا خیال تھا کہ پاکستان کا تندو تیز میڈیا اپنی حکومت سے یہ سوال ضرور پوچھے گا کہ امریکہ نے ایک مرتبہ پھر اسلام آباد سے ہوائی اڈے استعمال کرنے کا مطالبہ کیا ہے یا نہیں مجھے پاکستان کے پرنٹ میڈیا میں ایسی کوئی خبر نظر نہیں آئی ہو سکتا ہے کہ اس نوعیت کی کوئی خبر شائع ہوئی ہو اور میری نظر سے نہ گذری ہو اس اہم معاملے پر سینئر تجزیہ نگار ہارون الرشید صاحب نے یکم مئی کے ٹاک شو ’’ مقابل‘‘ میں کہا کہ امریکہ نے پاکستان سے ہوائی اڈوں کا مطالبہ کیا ہے مگر اسے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا گیا ہارون صاحب نے یہ بھی کہا کہ اگر امریکہ سے ایسا کوئی معاہدہ کیا گیا تو ملک میں اس فیصلے کے خلاف کسی تحریک کے اٹھنے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا
نظر یہی آرہا ہے کہ ماضی کے تلخ تجربات کی روشنی میں پاکستان نے ایک ہولناک اور خون آلود غلطی کو دہرانے سے گریز کیا ہے اسکے بعد امریکہ نے اسلام آباد کے ذکر کو اپنی خارجہ پالیسی سے متعلق بیانات سے خارج کردیا ہے گذشتہ ماہ سیکرٹری آف ڈیفنس لائیڈ آسٹن دہلی سے سیدھا کابل چلے گئے اور وہاں سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے فون پر بات چیت کی مگر اسلام آباد آنا گوارا نہ کیا امریکہ پاکستان تعلقات کے پر اسرار منطقے کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ اسلام آباد کے ایک اخبار کے مطابق امریکی حکام نے پاکستان اور افغانستان کے لئے ایک معاشی پیکج تیار کیا ہے جسے جلد ہی ہائوس اور سینٹ میں منظوری کیلئے پیش کر دیا جائیگا اس خوش آئند خبر میں اس پیکج کے حجم کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی دو مئی کو روزنامہ 92 میں شائع ہونیوالی اس خبر کے مطابق ’’ معاشی پیکج تیار کرنے والے ایک سینیٹر نے امریکی صدر کو وزیر اعظم پاکستان کو کال کرنے اور تعلقات بحال کرنے کا مشورہ دیا ہے‘‘ اس پراسرار خبر نے امریکہ پاکستان تعلقات کے بارے میں پہلے سے موجود سوالات کے جواب دینے کی بجائے یہ نیاسوال پیدا کر دیا ہے کہ کیا دونوں ممالک کے درمیان تعلقات منقطع ہو چکے ہیں کہ جنہیں اب بحال کر نے کا مشورہ ایک امریکی سینیٹر نے اپنے صدر کو دیا ہے اسکے ساتھ یہ سوال بھی اہمیت رکھتا ہے کہ اگر صدر بائیڈن نے اپنی صدارت کے سو دن گذر جانے کے بعد بھی وزیر اعظم پاکستان سے بات نہیں کی تو پھر تعلقات منقطع نہ سہی سرد مہری کا شکار ضرور ہوں گے اس تنائو کی وجوہات اتنی مخفی بھی نہیں‘ پاکستان امریکہ کی نئی افغان حکمت عملی کا مہرہ بننے پر آمادہ نہیں دوسرا یہ بھی کہ چین سے اسکی قربتیں امریکہ کو ایک آنکھ نہیں بھاتیںمگرچین اپنے تمام تر تعاون کے باوجود پاکستان کی ضروریات پوری نہیں کر سکتا اسی لئے اسلام آباد کو آئی ایم ایف سے کڑی شرائط پر قرضے لینے پڑ ے ہیں دوسری طرف FATF (فنانشل ایکشن ٹاسک فورس) بھی کسی صورت راضی نہیں ہو رہا اس نے ابھی تک پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھا ہوا ہے اس پر مستزاد یورپی یونین نے چند روز پہلے یہ قضیہ کھڑا کیا ہے کہ پاکستان میں اقلیتیں غیر محفوظ ہیں انہیں تحفظ دینے کیلئے اسلام آباد کو مذہبی قوانین میں ترامیم کرنا چاہیے ایسا اگر نہ کیا گیا تو یورپی پارلیمنٹ پاکستان کو حاصل جی ایس پی پلس ( Generalised system of preference) اسٹیٹس پر نظر ثانی کرے گی فی الحال تو یہ ایک Non Bindingقرارداد ہے مگر اس نے کوئی حتمی شکل اختیار کر لی تو پاکستان یورپی یونین کے ممالک کو جو اشیاء برآمد کر رہا ہے ان میں کم از کم تین ارب ڈالر کی کمی ہو جائیگی ایک خبر یہ بھی ہے کہ برطانیہ نے کوئی وجہ بتائے بغیر پاکستان کو ترسیلات زر پر پابندی عائدکرتے ہوے تمام فلاحی اکا ئونٹس بند کر دئے ہیں اس فیصلے کی رو سے برطانیہ میں پاکستانی ادارے اور افراد پاکستان میں کسی مسجد‘ مدرسے‘ اسپتال اور فلاحی ادارے کی مالی معاونت نہ کر سکیں گے لگتا ہے کہ پاکستان سے ایک مرتبہ پھر جس تابع فرمان کردار ادا کرنیکا مطالبہ کیا جا رہا ہے اسکا خاطر خواہ جواب نہ ملنے پر مغربی ممالک نے تا دیبی کاروائیوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے !!