تحریک لبیک کو فساد کرنے کا حکم اورفنڈز کہاں سے ملے؟

274

پاکستان ایک دفعہ پھر اپنوں اور پرایوں کی زد میں ہے۔امریکی ضرب المثل ہے کہ ُدم کتے کو ہلا رہی ہے۔یہ اس وقت بولا جاتا ہے جب کسی اہم یا طاقتور چیز کو کوئی معمولی اور غیر اہم چیز کنٹرول کرے۔ کچھ ایسی ہی صورت حال پاکستان میں دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان کی 23کڑوڑ کی آبادی کے حال اور مستقبل کا فیصلہ ملائوں کے ہاتھ میں ہے جن کے چند قائدین پاکستان کی خارجہ پالیسی بنا رہے ہیں، اور پاکستان کی حکومت ان کے سامنے بے بس نظر آتی ہے۔ یہ سلسلہ برسوں سے چل رہا ہے۔ ہر پاکستانی حکومت اس گروہ کے سامنے بلیک میل ہوتی دکھائی دیتی ہے۔یہ مسئلہ اس لیے پریشان کن ہے کہ یہ گروہ علماء کا نہیں جو اسلام کی روح سے آشنا ہیں۔ یہ ان قائدین کا ہے جوسب کچھ جانتے ہوئے بھی ،اور یہ کہ ان کی حرکات اور مطالبوں سے پاکستان کو نقصان پہنچے گا، اس گروہ کو استعمال کرتے ہیں کیونکہ ان کے پاس سیاسی دبائو بڑھانے کے وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں۔ لے دے کر توہین رسالت کے قانون سے ہی انہیں گیس ملتی ہے۔ورنہ ان کے غبارے میں ہوا کہاں سے آئے؟ توجہ فرمائیں۔
واشنگٹن پوسٹ کی ۳۰ اپریل کی خبر ہے کہ’’ پاکستان نے یوروپین پارلیمنٹ کی قرارداد کی مذمت کی ہے جس میں ای یو نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقلیتوں کو مذہبی آزادی دے، اور یہ کہ جو جنوبی ایشیا کے ممالک کو ترجیحی تجارتی مرتبہ دیا گیا ہے اس پر نظر ثانی کی جائے۔ ا ی یو نے اسلام آباد سے درخواست کی ہے کہ ایک عیسائی جوڑے، شگفتہ کوثر اور اس کے خاوند شفقت ایمینول کو جو سن2014سے ، توہین رسالت کے جرم میں،موت کی سزا میں قید ہیں، آزاد کر دے۔ اے پی کے نمائندے منیر احمد کی رپورٹ میں کہا گیا ہے ، کہ پاکستان کے توہین رسالت کے قانون کے مطابق، جو کوئی بھی اسلام کی توہین کرے گا اس کو جرم ثابت ہونے پر موت کی سزا دی جائے گی۔ صرف توہین رسالت کا الزام لگانے پر بلوے اور فسادات ہو سکتے ہیں اور ہلاکتیں ہو جاتی ہیں۔وزارت خارجہ اسلام آباد نے اپنے اعلامیہ میں یوروپین قرارداد پر حکومت کی طرف سے افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس قرار داد سے توہین رسالت کے قانون اور اس سے متعلقہ مذہبی جذبات سے بے خبری کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔بہر حال ایسا لگتا نہیں کہ اسلام آباد اپنے اوپر اس الزام تراشی پر کوئی عمل کرے گا۔ یاد رہے کہ کوثر اور ایمینول کو2013میں مشرقی پنجاب کے صوبہ میں کسی ملا کو توہین آمیز مراسلہ بھیجا تھا۔لیکن وہ اس الزام کو جھٹلاتے ہیں۔ان دونوں پر مقدمہ چلا اور اور انہیں پھانسی کی سزا سنائی گئی۔تب سے ان کی اپیل لاہور ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ملکی اور غیر ملکی انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ ایسے مقدمے عموماً اقلیتوں پر دبائو ڈالنے اور ذاتی عناد پر کیے جاتے ہیں۔‘‘
قطع نظر یوروپی یونین کی قرار داد کے، توہین رسالت کے اس قانون میں کچھ سوالیہ نشان بنتے ہیں جن کی نشاندہی مرحوم گورنر پنجاب سلمان تاثیر کرنا چاہتے تھے لیکن انہیں ہلاک کر دیا گیا۔ اس قانون کی وجہ سے ابتک زیادہ تر ہدف عیسائیوں کو بنایا گیا اور وہ بھی جو نچلے طبقہ کے تھے۔اور اپنا دفاع بھی صحیح نہیں کر سکتے تھے۔کہنے والے بہت کچھ کہتے ہیں، کہ اصل محرکات کچھ اور ہوتے ہیں اور الزام توہین رسالت کا لگایا جاتا ہے۔ وہ اس لیے کہ اس قانون کے تحت کوئی رعایت نہیں اور گواہان پر کوئی پابندی نہیں۔ معاملہ کو فوراً مذہبی رنگ دے کر فرقہ وارانہ چپقلش کا ماحول بنا دیا جاتا ہے جس سے کوئی حکومت الجھنا نہیں چاہتی۔ سچ تو یہ ہے کہ ملک کے ہوش مند لوگ اور اہل دانش سب ہی اس قانون کے اطلاق پر سوال اٹھاتے ہیں لیکن کسی نے بھی ابتک اس کا کوئی مناسب حل نہیں سوچا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یوروپی یونین کی قرار داد(دھمکی) کے مد نظر کیا عمران خان کی حکومت اس عیسائی جوڑے کو رہائی دلوا سکے گی؟ شاید۔ مگر اس کے لیے حکومت کو ان انتہا پسند مذہبی ٹولوں اور سیاسی جماعتوں سے رعایت لینی ہو گی جو اس قانون کو عطیۂ خداوندی سمجھتے ہیں اور وہ اکلوتا ہتھیار جس کے استعمال پر انہیں خاصا ملکہ حاصل ہو چکا ہے۔اس معاملے میںمسلمان صرف دل سے کام لیتے ہیں، دماغ سے نہیں۔
ایک عام مسلمان کی حیثیت سے یہ سوال تو بنتا ہے کہ کیا ایسا قانون بنا کر اسکو غیر مسلموں پر لاگو کرنا کس حد تک جائز ہے؟ کیوں نہ اسے صرف مسلمانوں پر لاگو کیا جائے اور خصوصاً ان مسلمانوں پر جو مذہب کو بخوبی جانتے ہیں اور اس کی تعلیمات سے بھی بخوبی واقف ہیں، تو بات بنتی بھی ہے ۔ لیکن ان لوگوں پر جو غیر مسلم ہیں یا ان پڑھ ہیں یا مذہب کی شدھ بدھ بھی نہیں جانتے، اس کا اطلاق اسلامی طریقہ نہیں لگتا۔ جب کہ سب مذہب شناس اور مذہب کی تعلیم سے بہرہ ور حضرات جو رسول کریم کی ذات اقدس کی سوانح حیات سے واقف ہیں، وہ جانتے ہیں کہ حضور نے ان کافروں کے ساتھ کیا سلوک کیا جو ان پر پتھر پھینکتے تھے، مغلظات بکتے تھے اور ان کی راہ میںکانٹے بچھا تے تھے۔ ان کی رحمدلی اور بخشش کا طریقہ سب جانتے ہیں اور وہ کیوں؟ وہ رحمت العلمین تھے اور سوچتے تھے کہ یہ لوگ نا سمجھ ہیں ، کیا پتہ ، اگر ان کی بری حرکت کو وہ نظر انداز کر دیں، تواللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو پھیر دے اور وہ اسلام لے آئیں؟ ۔ لیکن ہمارے ہاں کے مسلمانوں کی بد قسمتی ہے کہ نہ وہ قران سمجھ کر پڑھتے ہیں اور نا حضورﷺ کی حیات طیبہ سے کچھ سبق حاصل کرتے ہیں۔ جس کے نتیجہ میں یورپ والے ان کو گاہے بگاہے چھیڑتے ہیں اور انکی جنجھلاہٹ سے محظوظ ہوتے ہیں، اور خصوصاً جب پاکستانی ملا اپنے ہی ملک کی املاک تباہ کرتے ہیں اور امن کو تاراج۔یہ کام کوئی اور مسلمان ملک نہیں کرتا۔ نہ سعودی عرب والے، نا مصر والے، نا ایران والے اور نہ ہی پچاس کے لگ بھگ اور ممالک۔بھلا کیوں؟ وہ اس لیے کہ دنیا کے مسلمان اسلام کی روح کو ہم سے بہتر جانتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ہمارے نبی نے اسلام شفقت، رواداری اور محبت سے پھیلایا نہ کہ ہر کسی مخالف کو تہہ تیغ کر کے۔ نہ ہی قران مجید مسلمانوں کو اس کا حکم دیتا ہے۔اگر کچھ حدیثوں سے ایسی مثالیں ملتی ہیں تو وہ یقینا ضعیف ہونگی کیونکہ وہ قرآن مجید سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ہمارے پیغمبر کی حیاتِ طیبہ سے ہمیں انسانی رواداری، در گذر، اور ہمدردی کا سبق تو ملتا ہے لیکن گالیاں دینے والوں، اور تکلیف پہنچانے والوں کو قتل کرنے کا حکم کہیں نہیں ملتا نہ سیرت النبی میں اور قران مجید میں۔
یوروپی یونین نے، پاکستان کے ساتھ جو تجارت ہوتی ہے اسپر جو ترجیحی حیثیت پاکستان کو دی گئی ہے، اس پر نظر ثانی کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔اگر پاکستان نے اس مسیحی جوڑے کی اپیل پر انہیں رہا نہ کیا تو اس ترجیحی حیثیت ختم ہونے کا فیصلہ سمجھنا ہو گا۔ اس سے پاکستان کی اربوں ڈالر کی یورپ میںبرآمدات کو جو دھچکا لگے گا اس سے ملک میں بیروزگاری کی ایک نا قابل تلافی لہر اٹھے گی۔ عمران خان کو جلد ہی کوئی فیصلہ کرنا ہو گا، کیونکہ ساری دنیا اس معاملہ میں یوروپی یونین کے ساتھ ہے۔یہ فیصلہ اتنا مشکل بھی نہیں۔ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ پاکستان کے آئین میں یقینی بنایا گیا ہے۔ اسی پہلو سے ان عیسائیوں کی جان بخشی کر دینا کوئی اتنا بڑا مسئلہ تو نہیں ہونا چاہیے؟
پاکستان کی مذہبی جماعتیں اور ان کے قائدین کی پاکستان سے کیا ہمدردی ہو سکتی ہے؟ یہ لوگ تو پاکستان کے قیام کے ہی مخالف تھے۔ مودودی تو اس کو ’ناپاکستان‘ کہتا تھا۔اور پھر بے شرموں کی طرح پاکستان چلا آیا۔ابھی حال میں، جسٹس جاوید اقبال نے اپنے ایک خطاب میں کہا: ’’ اقبال نے کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ میں عالم ہوں۔مگر اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان سے ایسی خدمات کیوں لیں؟ اللہ میاں نے قائد اعظم جیسی شخصیت سے یہ خدمات کیوں لیں؟ اسوقت اتنے زیادہ علماء بر صغیر میں موجود تھے ، وہ کہاں تھے؟ کیا وہ ہماری مدد کو آئے؟وہ تو سیکولر ہندوستان میں رہنا پسند کرتے تھے۔ پاکستان کو تو وہ اسلام کے خلاف سمجھتے تھے۔علماء حضرات نے ہمیں لیٹ ڈائون کیا۔ اگر وہ ہمارا ساتھ دیتے تو ہم آج ترقی کرکے بہت آگے نکل چکے ہوتے۔آپ اندازہ کریں کہ راجہ رام موہن رائے جنہوں نے ہندووں کو ترغیب دی کہ وہ جدید علوم حاصل کریں، انہوں نے سر سید احمد خان سے سو سال پہلے یہ اعلان کیا تھا۔اور ہندو اس وجہ سے ہم سے سو سال آگے ہو گئے۔لیکن ہم اپنی ، کہہ لیجیئے ، انا میں دبے رہے۔اور ہم آگے نہیں نکل سکے۔ہم یہی نعرے بلند کرتے رہے کہ یہودی کافر ہیں، فلاں کافر ہے،ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگاتے رہے۔کبھی آپ نے سنا ہے کہ مساجد میں مسلمان مسلمان کو مارتا ہے؟یا عبادت گاہوں میں ہم ایک دوسرے کو قتل کرتے ہیں؟یہ کس قسم کے واقعات ہیں؟یہ کس قسم کا اسلام ہے؟ہم دنیا کے سامنے کیا نقشہ پیش کر رہے ہیں؟اب یہ حقائق ہیں جن سے رو شناس ہونے کی ضروت ہے، جہاں تک کہ اعتدال پسندی کہہ لیں، لیکن اعتدال پسندی تو اصطلاح ہی بے معنی ہے کیونکہ اعتدال پسندی کا ذکر توشدت پسندی کے ساتھ آتا ہے۔جہاں شدت ہو وہاں آپ کہتے ہیں کہ بھائی اعتدال سے کام لو۔اسکا کوئی تعلق روشن خیالی سے نہیں۔جہاں تک روشن خیالی کا تعلق ہے پاکستان بجائے خود روشن خیالی کے تصور میں وجود میں آیا ہے۔چونکہ علماء نے ہمیشہ اس پر اعتراض کیا۔ صرف چند علماء تھے جو قائد اعظم کے ساتھ تھے یا بعد میں شامل ہو گئے لیکن اکثر علماء نے پاکستان کی تشکیل اور قیام کی مخالفت کی ہے اور ہم سب جانتے ہیں جن کو حقائق کا پورا علم ہے وہ جانتے ہیں کہ جس وقت ہمیں ان کی سب سے زیادہ ضرورت تھی انہوں نے ہمارا ساتھ نہیں دیا‘‘۔
ہندوستان کے بڑے بڑے مسلم علماء اور مشایخ نے پاکستان بننے کی جو مخالفت کی، اس کی مصدقہ تاریخ علی عثمان اور میگن ایٹن راب نے اپنی مرتبہ کتاب ـ’’Muslims against the Muslim League‘‘ میں تحقیق شدہ مواد سے تحریر کی۔جو کیمبرج یونیورسٹی پریس میں 2017 میں شائع ہوئی۔ اس کتاب کے مطابق، ان مسلم علماء کا نقطۂ نظر مسلم امہ کی عالمگیر حیثیت تھی، جس کی وجہ سے وہ ہندوستان میں تقسیم کے خلاف تھے۔ وہ یہ بھول رہے تھے کہ سلطنت عثمانیہ جو اسی فلسفہ پر بنائی گئی تھی، وہ ختم ہو چکی تھی۔ دنیا بھر میں مسلمان وطنیت کے نظریہ میں بٹے ہوئے تھے۔ اس لیے اگر ہندوستان کے دو حصے بن جاتے ایک مسلمانوں کے لیے اور ایک ہندووں کے لیے تو ان کو کیا تکلیف تھی؟ غالباً ایک ہی تکلیف تھی کہ ان کے گھر بار، جائدادیں، کاروبار ہندوستان میں جڑیں گاڑ ے ہوئے تھے۔زیادہ امکان یہ ہے کہ ہندو لیڈرز نے بھی انہیں سبز باغ دکھائے ہوں، جو ہندوستان کی تقسیم کے خلاف تھے۔ گاندھی نے تو اچھے خاصے ڈرامے بھی کیے۔اور ان عقل کے اندھوں نے ہندو قیادت کی چال کو نہ سمجھا اور اپنے حلوے مانڈے کی زیادہ فکر کی۔اب جب انہوں نے انتہا پسند ہندووں کے مسلمانوں پر ظلم دیکھے تو بھی وہ ان کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔اس کی وجوہات کئی ہو سکتی ہیں مگر انا سے بڑی کوئی بھی نہیں ہو گی۔
حکومت کو چاہیے کہ حال ہی میں جس گروہ نے فرانس کے خلاف ہنگامے اور فساد کیے، اس گروہ کی آمدنی کی پوری کھوج لگائے؟ کیا ایسا ممکن ہے کہ ان کو بھارت سے امداد آئی ہو، کیونکہ یوروپی یونین کی قرار داد میں پاکستان میں ہونے والے ان فسادات کو وجہ بنایا گیا ہے، اور بھارت تو چاہتا ہے کہ پاکستان کو دنیا میں رسوا کرے، FATFمیں اس کا نام بلیک لسٹ میں ڈلے، اور پاکستان اقتصادی طور پر تباہ و برباد ہو جائے۔ یہ ملا حضرات چند روپوں کی خاطر، یا کسی اور وجہ سے، اس کار سیاہ میں اس دشمن کاآلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ اس پر سے پابندیاں ہٹھانا انتہائی خطرناک حرکت ہو گی جسے تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔