پھروہ ہار گیا!

273

2018ء کے انتخابات میں دھاندلی برپا کرنے کے بعد پے در پے ضمنی انتخابات میں عمران خان کی ہار کے بعد ثابت ہو چکا ہے کہ وہ کل بھی زیرو تھا اور آج بھی۔ جن کو 1992کے کرکٹ کپ کی جیت کی بدولت ہیرو بنا کر پیش کیا گیا حالانکہ موصوف42سالہ بوڑھا تھا جن کی ٹانگوں نے کام کرنا بند کر دیا تھا۔ اگر ٹیم میں میاں داد، وسیم اکرم، انضمام، رمیز راجہ، وقار یونس، سکندر بخت اور نامور کھلاڑی نہ ہوتے تو ٹیم پہلے دن ہی ہار چکی ہوتی مگر ورلڈ کپ کا سہرا صرف اور صرف عمران خان کے سر پر باندھ کے قوم پر مسلط کر دیا گیا،جب جنرلوں کے ٹولے نے انہیں گود لیا جس میں جنرل حمید گل مرحوم نے منہ میں گٹکی دی۔ جنرل مشرف نے پرورش کی، جنرل پاشا نے تربیت دی، جنرل ظہیر الاسلام نے میدان میں اتارا جن کی دھرنی کو ایسا پیش کیا گیا کہ شاید اس جیسا دھرنا ماضی میں کبھی ہوا نہ تھا حالانکہ اس دھرنے میں چند سو شرکاء ہوا کرتے تھے جس کا جواب مولانا فضل الرحمن نے اپنے لاکھوں لوگوں کے دھرنے میں دیا جو پاکستان کی تاریخ کا ایک منظم اور تاریخی دھرنا تھا جس کے بعد عمران خان نے اپنی دھرنی کا ذکر کرنا بند کر دیا اسی طرح وہ دن دور نہیں ہے جب کسی اچھے حکمران کے دور میں کرکٹ ٹیم بنے گی تو کوئی پاکستانی کپتان ورلڈ کپ جیت کر عمران خان کے کپ کو توڑ ڈالے گا جس پر یہ شخص اٹھتے بیٹھتے تکبر کرتا نظرآتا ہے یہ جانتے ہوئے کہ کرکٹ پاکستان کا قومی یا روایتی کھیل نہیں ہے یہ فرنگیوں کی غلامی کی لعنت ہے جس کو سابقہ کالونیوں نے اپنا رکھا ہے جبکہ پاکستان کا قومی کھیل ہاکی ہے جس کے کھلاڑیوں نے کئی مرتبہ ورلڈ کپ اور اولمپکس کپ جیتا ہوا ہے۔ چنانچہ جنرلوں نے عمران خان کو 1997 میں سیاسی میدان میں اتارا جب یہ شخص نیا نیا کپ جیت کر سیاسی میدان میں آیا تھا جس میں عمران خان کو انتخابات میں بری طرح شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا کہ ان کی ہر مقام پر ضمانت ضبط ہو گئی۔ بعدازاں 2002ء میں دوبارہ الیکشن لڑا تو موصوف صرف اور صرف میانوالی سے ایک نشست سے کامیاب ہوئے جن کو جتوانے میں جنرل مشرف کی مشینری نے کام کیا ورنہ یہ اس انتخاب میں بھی بری طرح ہار جاتے۔ آخر کار محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد عمران خان کو 2008ء کے انتخابات کا بائیکاٹ کے لئے استعمال کیا گیا تاکہ ان کی وجہ سے نواز شریف بھی بائیکاٹ کر دے جس کے بعد امریکی ایجنڈے کے مطابق حکومت کی تشکیل تھی جس کو محترمہ بے نظیر بھٹو نے ناکام بناتے ہوئے نواز شریف کو آگاہ کیا کہ اگر تم بائیکاٹ کرو گے تو پاکستان کا صدر جنرل مشرف اور میں وزیراعظم ہوں گی جو ملک کے لئے سانحہ ہو گا۔ لہٰذا آپ الیکشن میں حصہ لے کر اس سازش کو ناکام بنادیں جس پر عمل ہوا تو پاکستان اور غیر ملکی اشرافیہ نے محترمہ کو قتل کرا دیا جس کے بعد عمران خان کو بطور لیڈر بنا کر پیش کیا گیا جس میں جناب خان صاحب کو 2013 کے انتخابات میں دو درجن سیٹیں دلوائی گئیں جس کے بعد ایک سال بعد ان سے دھرنی دلوائی گئی جو چار ماہ تک جاری رہی جس پر سوا ارب اخراجات خرچ ہوا جس کے دوران بچوں اور بچیوں کے معاشقے چلے، شادیاں ہوئیں اور دھرنی کی بدولت نئے بچے پیدا ہوئے جو اب پل کر نوجوان ہو چکے ہیں۔ چنانچہ ۲۵ جولائی 2018ء کو ایک باقاعدہ دھاندلی کے ذریعے عمران خان کو جتوایا گیا جس میں کمپیوٹر بند، الیکشن کمیشن کا عملہ بند، نتائج بند، ٹھپہ بازی، پندرہ لاکھ ووٹ رد اور نہ جانے کون کون سے جنرلوں نے عمران خان کو جتوا کر ملک پر مسلط کیا جس کے بوجھ تلے پاکستان ڈوب گیا۔ جس کے بعد عوامی ردعمل کی وجہ سے ٹھیک ایک ماہ بعد عمران خان اپنی چھوڑی ہوئی تینوں بشمول اپنی آبائی میانوالی کی سیٹ ہار گیا۔ گزشتہ چند ماہ سے منعقد ہونے والے گیارہ انتخابات میں ہر نشست ہار گیا۔ پچھلے ہفتے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے علاقے خوشاب سے پھر وہ ہار گیاجس کے بعد پتہ چل چکا ہے کہ عمران خان کو مصنوعی طریقے سے جتوا کر حکمران بنایا گیا تھا جن کی حماقتوں سے ملک تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے یہاں سے واپسی مشکل ہو چکی ہے جن کی ذمہ دار موجودہ جنرل کریسی ہے جس نے نواز شریف کی دشمنی میں عام انتخابات کو ہائی جیک کیا جس سے ملک میں انارکی پھیلی ہے جو ملکی سلامتی کے لئے شدید خطرے کا باعث بن چکی ہے کہ آج پاکستان دیوالیہ پن کا شکار ہو چکا ہے۔ بہر کیف عمران خان ضمنی انتخابات میں مسلسل شکست فاش کے بعد اپنا دماغی توازن کھو بیٹھا ہے جو چیخ چیخ کر پکاررہا ہے کہ مجھے بچائو ورنہ میں اسمبلیاں توڑ ڈالوں گا جو موجودہ اسٹیبلشمنٹ کو بلیک میل کررہا ہے کہ اگر آپ نے مجھے بچایا نہ تو میں پارلیمنٹ کو تحلیل کر کے دوبارہ انتخابات کرا ڈالوں گا جس کے بعد نواز شریف آپ کا دشمن اقتدار پر قابض ہو کر آپ سے اگلے پچھلے بدلے لے گا۔ لہٰذا میری بچت آپ کی کمزوری ہے یہ جانتے ہوئے کہ یہ اسٹیبلشمنٹ بڑی چالاک اور شاطر ہے جو وقت آنے پر بھٹو کو باپ بنا لیتی ہے مگر جب وقت گزر جائے تو بھٹو کو پھانسی پر لٹکا دیتی ہے۔ لہٰذا تم کون سی کھیت کی مولی ہو جس کو کاٹنے میں دیر لگے گی۔ بہرحال موجودہ صورتحال و واقعات کی اسٹیبلشمنٹ پوری ذمہ دار ہے جس نے انتخابی مہم جوئی میں پاکستان کو سخت نقصان پہنچایا ہے جو آج سعودی عرب کی دہلیز پر لیٹی ہوئی ہے کہ پاکستان کو کچھ خیرات و زکوٰۃ مل جائے تاکہ ملکی ہاتھیوں کو چارہ ڈالا جا سکے جو ملک پر بوجھ بن چکے ہیں جن کو یہ حکم دیا جارہا ہے کہ آپ ہندوستان کے ساتھ جنگی جنونیت بند کریں اسرائیل کو تسلیم کریں ورنہ آپ کا چوغا بند کر دیا جائے گا یہی وجوہات ہیں کہ پہلے آرمی چیف جنرل باجوہ کو طلب کیا گیا جودربار میں حاضر ہو کر تمام احکامات پر عملدرآمد کرنے کا اقرار کر چکا ہے ۔اردلی عمران خان کو بادشاہ کے دربار میں بطور وزیر پیش ہونے کی خیرات پانچ سو ملین ڈالر دے دی گئی۔ آگے کے حکم کا انتظار کرو۔