وزیراعظم عمران خان کا پاکستانی سفارتخانوں پر عدم اعتماد!ہیوسٹن کا پاکستانی قونصل خانہ بھی ہمیشہ تنازعات کا شکار رہا ہے

257

گزشتہ ہفتے وزیراعظم عمران خان نے دنیا بھر میں پاکستانی سفارت کاروں سے جو ورچوئل میٹنگ کی اس کی بازگشت ختم ہونے کو نہیں آرہی اور اس کی وجہ ان سرکاری اہلکاروں پر ضرب پڑتاہے جو اپنے آپ کو بیرون ملک مقیم پاکستانی سے اعلیٰ و ارفع سمجھتے ہوئے تارکین وطن کو درخوراعتنا نہیں سمجھتے اور کوئی مسئلے کی نشاندہی کرے تو الٹا اس کو دھمکیاں دیتے ہیں۔ اس ورچوئل میٹنگ کا اصل سبب سعودی عرب میں پاکستانی سفارتخانے اور قونصل خانے بنے۔ یہ مسائل نئے نہیں ہیں۔ ہم نے سن اکتہر میں تہران میں پاکستان ایمبیسی کے حوالے سے ایک آرٹیکل لکھا تھا ’’ پاکستانی سفارت خانہ یا یتیم خانہ‘‘ جب وہاں پر جمشید مارکر سفیر ہوا کرتے تھے۔ بدقسمتی سے بعض اوقات کبھی کوٹے کی بنیاد پر تو کبھی سفارشوں کے بل بوتے پر ایسے نااہل اور کرپٹ افراد اس اہم شعبے میں تعینات کر دئیے جاتے ہیں جو بجائے نیک نامی کے ملک کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔ ہیوسٹن میں بھی سب سے پہلے پاکستان قونصلر جنرل اے آر بلوچ آئے جو غالباً سندھی کوٹے پر تعینات کئے گئے تھے۔ سندھ میں خاص طور پر شہری علاقوں میں جو سندھ حکومت نے اندھیر نگری مچائی ہوئی ہے اپنے من پسند کوٹے والے لوگوں کو بھرتی کر کے شاید بلوچ صاحب بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھے گو کہ یہ وفاقی ایشو ہے مگر سندھ کارڈ تو ہر جگہ چلتا ہے جس کی مثال یہ ہے کہ آج بھی وفاقی حکومت سندھ حکومت کے آگے عوامی معاملات میں بے بس نظر آتی ہے کیونکہ کوٹہ سسٹم کے تحت انہوں نے بھرتیاں کرنی ہی کرنی ہیں۔ خیر یہ ایک الگ بحث ہے۔ تو اے آر بلوچ نے حسب معمول ہیوسٹن آ کر دھاندلیاں اور کرپشن کا سلسلہ شروع کر دیا۔ چاہے نئے پاسپورٹ کا معاملہ ہو یا تجدید کا، چاہے ویزے کا معاملہ ہو یا شناختی کارڈ کا، ہر معاملے پر رشوت ستانی کا بازار گرم کر دیا گیا۔ حتیٰ کہ ایک بھارتی شہری کو پیسے لیکر پاکستانی پاسپورٹ جاری کر دیا گیا۔ وہ پاکستانی پاسپورٹ ہولڈر ممبئی حملوں میں پکڑا گیا اور بھارت نے اُسے پروپیگنڈے کے طور پر بھرپور استعمال کیا۔ جب پانی سر سے اونچا ہونے لگا تو امریکن سی آئی اے نے اسلام آباد میں پاکستان کے دفتر خارجہ اور حکومت پاکستان کو آگاہ کیا۔ گورنمنٹ نے ہیوسٹن کے قونصل خانے کے عملے کے ایک نچلے افسر کو وعدہ معاف بنا کر بلوچ صاحب کو واپس اسلام آباد بلا کر گرفتار کر لیا آخری خبریں آنے تک وہ جیل میں تھے۔ تو یہ تھے ہیوسٹن میں ہمارے سب سے پہلے پاکستانی سفارت کار اور ان کی کارکردگی، بدقسمتی سے ہیوسٹن میں کچھ میڈیا میں ان رہنے کے لئے پاکستانیوں نے بے شمار کاغذی اور جعلی اخباری تنظیمیں بنائی ہوئی ہیں جو ہر آنے والے قونصلر جنرل کے گرد گھیرا ڈال لیتے ہیں۔ یہ لوگ شکروں کی طرح اپنے شکار کو پکڑنے کے لئے گھات لگا کر بیٹھے رہتے ہیں۔نئے بندے کے آتے ہی یہ خوشامدی اور چاپلوس کاغذی کمیونٹی لیڈر نئے بندوں کے اعزاز میں پارٹیاں کرتے ہیں، اس کو ایوارڈز اور شیلڈز دیتے ہیں، تصاویر اور خبریں بنواتے ہیں اور پاکستانی اخبارات کو پیسے دے کر چھپواتے ہیں اور قونصلر صاحب اس خوش فہمی میں رہتے ہیں کہ وہ پاکستانی نمائندوں کے ساتھ گھل مل رہے ہیں جبکہ ان صاحب کو عام پاکستانی کیساتھ ملنے ہی نہیں دیا جاتا اور اس طرح سے قونصلر صاحب بھی ایک کاغذی اور اخباری سفارت کار بن کر رہ جاتے ہیں جنہیں اصل مسائل اور عوامی مشکلات کا علم ہی نہیں ہوتا اور یہ طریقہ واردات آج بھی جاری ہے۔ حد تو یہ ہے کہ ایک سابق قونصلر نے ہیوسٹن میںلفافہ جرنلزم کو پروموٹ کیا تاکہ وہ قونصل خانے کے حوالے سے لوگوں کے مسائل اور ان کی کارکردگی پر پردہ ڈالے رکھیں۔ ان لفافوں کے بدلے یہ لوگ اپنی تصاویر اخبارات میں چھپواتے ہیں کوئی اپنی بیگم کی بوتیک کو بڑھاوا دیتا ہے تو کسی کی کتاب کی رونمائی کرائی جاتی ہے اور زمین آسمان کے قلابے ملائے جاتے ہیں۔ یہ تمام حرکتیں یہ سفارت کار ان کاغذی تنظیموں کے کاغذی، چاپلوس اور خوشامدی کاغذی لیڈروں کی مدد سے ہی سرانجام دی جاتی ہیں اور پاکستانی کمیونٹی اپنے مسائل کے حل کے لئے بے یارو مددگار رہتی ہے۔ ان لوگوں کو یہ پتہ ہی نہیں کہ ان کی ترجیحات کیا ہیں۔ مثال کے طور پر ابھی حال میں پاکستانی قونصلر جنرل ابرار ہاشمی نے قونصل خانے میں پاکستان شوبز کی سی کیٹٹیگری کی اداکارہ / رقاصہ میرا کو پاگل خانے میں داخل کئے جانے کی خبر کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس کرائی۔ یاد رہے کہ میرا کی شہرت اپنے متنازعہ بیانات، مبینہ شادیوں، نکاح اور طلاقوں اور اب پاگل خانے میں داخل کئے جانے کے حوالے سے مشتہر ہے۔ سفارت خانے نے شاید یہ جانا کہ میرا کی پریس کانفرنس سے ہیوسٹن اور اسلام آباد کے دفتر خارجہ میں ان کی شہرت بڑھے گی۔ ان کی عملے کے ساتھ رنگین تصاویر پاکستانی اخبارات میں چھپیں اور اپنے مسائل سے دو چار، کووڈ کا شکار پاکستانی تارکین وطن یہ سوچتے رہے کہ کیا ہیوسٹن والوں کیلئے میرا کا پاگل پن زیادہ اہم معاملہ تھا یا کہ ان کے مسائل؟خاص طور پر ایسے موقع پر جب پورا ملک تین دن سے افراتفری کا شکار ہو، ہر شہر تحریک لبیک پاکستان کے دھرنوں اور ریلیوں سے اٹا ہوا ہے۔ آٹھ سو پولیس والے زخمی ہو کر ہسپتال میں پڑے ہوں، آٹھ افراد مر چکے ہوں، خبروں کا بلیک آئوٹ ہوا ہو، ہیوسٹن والے اپنے اہل خانہ کی خیریت کیلئے متفکر تھے تو بجائے اس کے کہ ان کیلئے کوئی ہاٹ لائن بنائی جاتی، انہیں معاملات پر بریفنگ دی جاتی، ہمارا سفارت کارمیرا کے ساتھ تصاویر بنوانے میں مصروف تھا، اسی ہی قسم کے رویے ہم ماضی میں بھی دیکھتے رہے ہیں کہ قونصل خانے کے باہر ہیوسٹن کے پاکستانی کوئٹہ کی ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے مظاہرہ کرتے رہے مگر قونصلر جنرل عائشہ فاروقی نے اتنی بھی زحمت گورا نہ کی کہ وہ باہر آ کر ان مظاہرین سے قرارداد ہی وصول کر لیتیں۔ ایسے میں وزیراعظم پاکستان کا غیر ممالک میں پاکستانی سفارت خانوں اور سفارت کاروں پر تنقید کرنا تو بنتا ہے۔ جو ایک مزراعے کی طرح رویہ اختیار کرتے ہوئے پاکستانیوں کو رعیت سمجھتے ہیں۔ اگر آپ نے نوٹ کیا ہو کہ ان مقامی چاپلوس نام نہاد کاغذی لیڈروں کی چھپی ہوئی تصاویر دکھا کر اور ایوارڈز دکھا کر یہ ہی سفارت کار واپس جا کر اسلام آباد میں دفتر خارجہ میں بڑے بڑے عہدے حاصل کرتے ہیں۔ اس وقت ہیوسٹن کے تین سابق قونصلر اکثر نیوز میں نظر آتے ہیں۔ شکریہ ان کاغذی شیروں کا جنہیں عام ہیوسٹن کے پاکستانی کی کبھی حمایت نہیں حاصل رہی۔