’’کیا اس لئے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے‘‘؟

293

ایک حدیث ہے ’’لوگو!ایک زمانہ ایسا آئے گا جب ناخونوں سے گوشت جدا ہو جائے گا‘‘۔ کیا یہ وہ زمانہ نہیں؟ یہ بھی قرب قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خونی رشتوں میں بھی دراڑ پڑ جائے گی۔ لوگ آپس میںنفاق ڈالیں گے۔ بغیر تصدیق کئے جھوٹی باتوں پر یقین کیا جائے گا اور پھر برسوں کے یارانے بھی دریا برد ہو جائیں گے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کی چغلیاں کھائی جائیں گی۔ ذرا ذرا سی باتوں پر قرآن اٹھائے جائیں گے۔ دلوں سے خوف خدا ناپید ہو جائے گا۔ مختصر یہ کہ رابطہ تو کہیں نظر آئے گا لیکن تعلق ختم ہو جائے گا۔
انگریزی میں بھی ان دو الفاظ کی وضاحت کی گئی، دونوں کا تضاد بتایا گیا ہے۔ وہ ہیں connection and contact ۔تعلق وہ ہوتا ہے جو بچپن سے ماں باپ اور اولاد کے درمیان ہوتا ہے۔ رابطہ وہ ہوتا ہے جب ہم گاہے بگاہے ایک دوسرے کی خیر خیریت معلوم کرتے ہیں۔ چلیں بابا جی سے پوچھتے ہیں۔ بابا جی! رابطے اور تعلق میں کیا فرق ہے۔ ’’پترا توں کنی واری اپنے ماں پیو دے گھر جاندا ایں خیر خیریت معلوم کردا اے‘‘ ۔ سوچنے کے بعد یاد آیا پچھلے 6ماہ سے کچھ خبر نہیں۔ بابا جی کو بتایا تو ان کی نگاہوں میں تمسخر تھا۔ پھر انہوں نے بھائیوں کا حال چال پوچھا تو بھی کوئی تسلی بخش جواب نہیں تھا۔ بابا جی بولے پترا ہن کی پوچھنا اے۔ اللہ نوں پچھ تیرا حقوق العباد بارے کی حساب کتاب اے، میں تینوں کی دساں‘‘ اور بابا جی اپنی کٹیا میں چلے گئے۔ جواب جو الفاظ میں نہیں تھا خاموشی میں تھا۔ ایک حدیث یہ بھی ہے کہ مرنے کے بعد سب سے پہلا سوال ’’حقوق العباد کا ہو گا‘‘ فی زمانہ معاشرہ گناہ اور ثواب کے دائرے سے باہر ہے۔ ایک بھائی کے گھر میں فاقے ہیں تو ایک بھائی بیرون ملک سیر سپاٹے کو اپنی آل اولاد سمیت جارہا ہے۔ ایک ایسے کنبے کو دیکھا جو کبھی دولت مند تھا گھر کے سربراہ کی موت نے سب کچھ غارت کر دیا۔ اس کنبے سے اپنا رشتہ جوڑنے کے لئے اپنے اور غیر سب شامل تھے۔ اس تعلق کو فخریہ بیان کرتے تھے اور سب کچھ ملیا میٹ ہونے کے بعد سگے رشتے بھی کترانے لگے، کسی محفل میں ایک صاحبہ کی طرف اشارہ کر کے میزبان خاتون سے پوچھا ’’وہ سامنے جو معمولی لباس میں خاتون بیٹھی ہیں وہ آپ کے بڑے بھائی کی بیوی ہیں ناں‘‘ میزبان نے برا سا منہ بنا کر کہا دور کے ملنے والے ہیں یہ تقریبات میں بغیر بلائے آجاتے ہیں۔ بدنصیبی کی انتہا ہے۔ غربت کوڑ ھ سے بھی بری بیماری ہے۔ لوگ ان لوگوں سے کتراتے ہیں کہ وہ ان سے کچھ مانگ نہ لیں۔ کچھ نہیں بھائی اپنے غریب رشتہ داروں کودیکھ کر اپنی مصیبتوں ، اپنے اخراجات ،بیماریوں، قرضوں کا رونا لیکر بیٹھ جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ بھی غافل نہیں ان لوگوں سے دوسرے ذرائع سے ان کی دولت نکلوا لیتا ہے ۔کبھی کاروبار میں نقصان ،کسی کی فیکٹری میں آگ لگ جانا یا کسی کا موذی مرض میں مبتلا ہو جانا ،مریضوں پر بے دریغ اخراجات آنا، اللہ کا انصاف اللہ ہی جانے۔ تو حضور عرض ہے حقوق العباد ادا کر لیجئے۔ زکوٰۃ دیجئے ورنہ پکڑ ہو جائے گی آج نہیں تو کل۔ ایک بہن کو دیکھا اس کے گھر میں مشکل سے ہانڈی پکتی تھی دولت مند نے شکل دیکھتے ہی اپنے مسائل کا رونا شروع کر دیا اور اب ہزاروں روپیہ ہسپتالوں اور ڈاکٹروں کے پیٹ میں جارہا ہے۔ کوئی کسی کی کٹی انگلی پر پانی ڈالنے کو بھی تیار نہیں۔ اکثر دولت مندوں کا تو حساب کتاب یہیں ہو جاتا ہے۔ دنیا عبرت پھر بھی نہیں پکڑتی۔ حمیت، احساس باقی نہیں، انسانیت دم توڑ چکی ہے۔ جس اولاد کو اپنی خون پسینے کی کمائی سے تعلیم دلائی باہر بھیجا، بڑھاپے کی لاٹھی ہاتھ سے نکل گئی۔ بوڑھے ماں باپ بوجھ لگنے لگے۔ ایک اطلاع کے مطابق امریکہ میں لوگ اپنے والدین پر ہاتھ بھی اٹھا لیتے ہیں۔ چونکہ ان کی بیویاں جو ان کی ہر چیز کی مالک ہوتی ہیں وہ برداشت نہیں کرتیں سسرالیوں کو۔ وہ پولیس بلوا کر انہیں گھر سے نکلوا دیتی ہیں ۔
کیا اس لئے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے؟
جنہوں نے پودوں کو درخت بنایا تھا انہیں اس کا سایہ بھی نصیب نہ ہوا۔ پھل تو دور کی بات منزل انہیں ہی ملتی ہے جو شریک سفر نہیں ہوتے۔ پہلے مردوں کا معاشرہ تھا اب عورت کا معاشرہ ہے ہر مرد یہ کہتا نظر آتا ہے کہ وہ اپنی بیوی سے بہت ڈرتا ہے کیوں؟ اور عورت کو جو اتنی آزادی ملی تو اس میں بے راہ روی آگئی۔ معاشرے کا آج حال دیکھ لیں۔ عریانیت اور فحاشی پر قدغن نہ لگائی جا سکی۔ امریکہ اور دیگر ممالک میں عورت کو سرزنش کرنا، طلاق دینا اپنے آپ کو خالی سڑک پر دیکھنا ہے۔ اسلام نے جو حدود دونوں کے لئے بنائے تھے ان کی پیروی نہ ہونے کی وجہ سے یہ صورت حال پیدا ہو ئی۔ معاشرے میں توازن نہ رہا؎
اس گلستان کی یہی ریت ہے اے شاخِ گل
تو نے جس پھول کو پالا تھا وہ پرایا ہو گا
وزیراعظم نے خواتین کے لباس پر صحیح تنقید کی ہے۔ اتنے مختصر لباس (نیم برہنگی) میں ستر پوش کا فقدان۔ اب اگر اوباش لوگ آوازے کستے ہیں یا اغوا کرتے ہیں۔ عورتیں جنسی تشدد کا شکار ہوتی ہیں تو یہ شکوہ جائز نہیں۔ بازاروں میں چڑیلوں کی طرح بال بکھرائے پورے میک اپ میں گھومتی پھرتی ہیں کیوں؟ کیا یہ دعوت نظارہ نہیں؟ ایک خاتون کو بشارت ہوئی کہ تم ابھی تیس سال اور جیو گی۔ وہ بڑی خوش ہوئیں، پارلر میں جا کر بہترین میک اپ کروایا۔ بالوں کا نیا سٹائل بنوایا۔ اس کے بعد بڑی شان سے باہر آئیں۔ سڑک پار کرتے ہوئے ایک گاڑی نے کچل دیا۔ مرنے کے بعد پوچھا کہا تو میری زندگی تیس سال اور تھی؟ جواب ملا موت کا فرشتہ آپ کو پہچان نہیں سکا۔
مرد ہر گھر کا سربراہ ہوتا ہے۔ اسے اپنے گھر کے ماحول کو متوازن رکھنا چاہیے۔ اس کے بنائے ہوئے اصولوں پر عمل ہونا چاہیے۔ بدزبان، آزاد عورت کے سامنے خواجہ سرا نہیں بن جانا چاہیے۔ بے راہ روی پر نظر رکھنی چاہیے۔ مرد ہونے کے ناطے اتنا تو اس کا رعب ہونا چاہیے کہ گھر کی خواتین اپنی حدود میں رہیں۔ امریکہ آ کر تو وہ متوسط گھرانوں کی لڑکیوں کی تو آنکھیں پھٹ جاتی ہیں۔ اپنے آپ کو موڈرن دکھانے کے لئے بہت آگے نکل جاتی ہیں۔ پاکستان میں بھی لڑکیاں ایسے ہی لباس پہنتی ہیں جیسے امریکی لڑکیاں تاکہ لوگوں پر رعب پڑے کہ یہ امریکہ پلٹ ہیں۔ چاہے ان کی سات پشتوں نے بھی امریکہ نہ دیکھا ہو۔ اے احساس کمتری کے شکار لوگو! اپنی اقدار کو مت بھولو ورنہ کوے اور ہنس کی کہانی بن جائے گی۔!