اسرائیلی فورسز کا مسجد اقصیٰ کے قریب فلسطینیوں پر دوسرے روز بھی بدترین تشدد، درجنوں زخمی

238

اسرائیلی فورسز نے بیت المقدس میں لیلتہ القدر پر خصوصی عبادات کے لیے مسجد اقصیٰ کے قریب جمع ہونے سیکڑوں فلسطینیوں کو مسلسل دوسری رات بھی تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق ہنگامہ آرائی کے دوران فلسطینی نوجوانوں نے پتھراؤ کیا اور اسرائیلی فورسز کی جانب سے کھڑی کی گئی رکاوٹیں گراتے ہوئے آگئے بڑھے۔

جس کے نتیجے میں پیدل اور گھوڑوں پر سوار اسرائیلی فورسز نے فلسطینیوں پر بدترین تشدد کیا اور انہیں پسپا کرنے کے لیے اسٹن دستی بم اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔

فلسطین ریڈ کریسنٹ کے مطابق اس واقعے میں 80 افراد زخمی ہوئے جن میں کم سن اور ایک سال کی عمر کا بچہ بھی شامل ہے جبکہ 14 افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔

دوسری جانب اسرائیلی پولیس نے بتایا کہ کم از کم ایک افسر زخمی ہوا ہے۔

پرانے شہر کے دمشق دروازے کے قریب تقریر کرتے ہوئے 27 سالہ محمود المربو نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دعا کریں، یہاں ہر روز لڑائی اور جھڑپیں ہوتی ہیں۔

انہوں نے پولیس اور نوجوان کے مابین ہنگامہ آرائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی پولیس تھنڈر فلیش استعمال کرتے ہیں ‘دیکھو وہ کس طرح ہم پر فائرنگ کر رہے ہیں، ہم کیسے زندہ رہ سکتے ہیں؟’

غزہ پر حکمرانی کرنے والے حماس کے ایک رہنما موسا ابو مرزوق نے ٹوئٹر پر کہا کہ ‘ہم الاقصیٰ کے لوگوں کو سلام پیش کرتے ہیں جو صیہونیوں کے تکبر کی مخالفت کرتے ہیں اور ہم فلسطین میں اپنے بھائیوں کی ہر طرح سے مدد کرنے کے لیے زور دیتے ہیں۔