یورپی یونین کی قرارداد!

99

یورپی یونین کی قرارداد آگئی، قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پاکستان اپنے گھر کو درست کرے ورنہ سفارتی اور معاشی پابندیوں کا سامنا کرنا ہو گا، قرارداد سے پہلے یورپی پارلیمنٹ میں پاکستان میں لبیک یا رسول اللہ کے دھرنے کے VISUALSدکھائے گئے قتل و غارت گری بھی اور یہ بھی کہ جن پولیس افسران کو قتل کیا گیا ا ن پر الزام لگایا کہ یہ فرانس کے ایجنٹ ہیں، یہ بھی کہا گیا کہ اس رویہ کی وجہ سے یورپی یونین کے سفارتی عملے کی زندگی کو خطرات ہو سکتے ہیں۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ پاکستان BLASPHEMY LAWکو ABOLISHکرے، یہ سچ ہے کہ بھٹو کے آئین میں ختم ِنبوت کا ہتھیار رکھ دیا اور پھر ناموسِ رسالت کا قانون بنا کر ہر نام نہاد عاشق رسول کے ہاتھ میں چھری پکڑا دی گئی، چھری کی آزادی ملی تو انہوں نے پستول بھی اٹھا لی، بھری عدالت میں جج کی موجودگی میں گولیاں چلائی گئیں جج دیکھتا رہا اور قاتل سر خرو ہوا غازی بن گیا، قانون منہ دیکھتا رہ گیا، گورنر تاثیر کا قاتل بھی غازی بنا، ایک قاری نے اپنے ہاتھوں سے قرآن کے صفحات پھاڑ کر کوڑے میں پھینکے او ر الزام ایک معذور بچی پر لگا دیا، یہ غلیظ کام ایک زمین کے قطعے پر ناجائز قبضہ حاصل کرنے کے لئے کیا گیا ہے، اسی طرح ایک عیسائی عورت آسیہ مسیح پر توہین رسالت کا الزام لگایا گیا، جو قید ہوئی مگر پھر اس کو رہائی ملی مگر اس کو ملک سے باہر جانا پڑا، اس کا قصور اتنا تھا کہ ایک مسلمان عورت کے گلاس میں اس نے پانی پی لیا تھا، یہ چند واقعات ہیں جن کو اخبارات کی سرخیاں مل گئیں اور بے شمار ایسے کہ جو جبر کے بوجھ تلے دب گئے مٹ گئے نظر تک پہنچ ہی نہ سکے مگر یہ واقعات جہالت کی دنیا کا رومانس بن گئے ایک ایسی وحشیانہ ACTIVITYبن گئی کہ جس پر چاہا الزام لگا دیا۔ حیدر آباد کے ایک نو عمر طالب علم نے اپنے استاد کی سختی سے تنگ آ کر اس پر توہین رسالت کا الزام لگا دیا، جنرل ضیاء کے دور میں دہشت گردی ایمان کا جزو بنی فرقہ پرستی عام ہوئی، سپاہِ صحابہ اور سپاہ محمد کے درمیان برسوں جنگ رہی، امام بارگاہوں اور مساجد کو بموں سے اڑایا گیا، انسانی اعضاء اور قرآن کے پرزے عبادت گاہوں کے در و دیوار پر چپکے رہے، اور خون فرش پر جم گیا تھا، اہلِ تشیع کو کافر بنانے کی بھی کوشش کی تھی، اس کے بعد فوج نے اس مذہب کو ایک FISTULAبنا کر پالا۔
مختلف حیلے بہانوں سے مذہبی جماعتوں کی فوج نے پرورش بھی کی، اسامہ جیسے دہشت گردوں کو بھی حفاظت میں رکھا گیا، زندہ ہوتا تو ان کے کام آرہا ہوتا اتنے بڑے بڑے جتھے بنا لئے کہ امریکہ تک نے مطالبہ کیا کہ حقانی نیٹ ورک کو ختم کیاجائے، سنکیانگ میں بھی ان دہشت گردوں نے فساد پھیلانے کی کوشش کی، چین کو قاضی حسین احمد کو بلا کر وارننگ دینی پڑی، بھارت بھی شکوہ کرتا رہا، نصیر اللہ بابر نے طالبان کو اپنے بچے کہا تھا، زرداری اور نواز بھی ووٹ حاصل کرنے کے لئے ان کی دلجوئی کرتے رہے، ان کو اجازت تھی کہ جہاں چاہیں مدرسہ یا مسجد بنا لیں اور ان کو کوئی قیمت ادا کرنا نہیں پڑتی تھی اور مراعات الگ، آئین میں ختم نبوت کی شق کیا ڈالی گئی اور احمدیوں کو کافر کیا قرار دیا گیا کہ احمدیوں کا قتل، ان کی عبادت گاہوں کو گرانا، آگ لگانا جنت کی بشارت بن گیا، جنونیت کی انتہا کہ ان کی قبروں کے کتبے بھی اکھاڑ پھینکنے گئے، چند روز قبل ہی ایک مسجد کو مسمار کیا گیا، ساری حکومتیں یہ ظلم دیکھتی رہیں مگر کسی نے اس ظلم کو روکنے کی کوشش نہیں کی، اور وہ اس لئے بھی کہ ان درندوں کو فوج کی حمایت جو حاصل تھی، سندھ میں ایک میاں مٹھو ہیں جو پی پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ چکے ہیں ان کا طریقہ ء واردات یہ ہے کہ وہ غیر مسلم لڑکیوں کو کلمہ پڑھاتے ہیں اور مسلم لڑکوں سے ان کی شادیاں کرا دیتے ہیں جب ان لڑکیوں کو بازیاب کرایا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ مسلمان نہیں ہوئیں، مٹھو یہ کام بارہا کر چکا ہے مگر اس پر ہاتھ اس لئے نہیں ڈالا جاتا کہ قمر باجوہ کے ساتھ اس کی تصاویر منظر عام پر آچکی ہیں اور سمجھا جاتا ہے کہ فوج سے اس کے مراسم ہیں۔
مسلمان ماضی پرست ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ دنیا پر حکمرانی ان کا حق ہے کیونکہ وہ خدا کے منتخب بندے ہیں انہوں نے اپنی حالت پر کبھی غور نہیں کیا کہ وہ کس قعرِ مذلت میں گر چکے ہیں نہ تعلیم نہ ، نہ ہنر، نہ اخلاق، قرون اولیٰ کے بدوئوں سے بدتر، مگر چاہتے ہیں کہ دنیا بھی اس کی رعیت بن جائے اور وہ اپنی تلوار میان سے باہر رکھیں، مثبت انداز میں کبھی نہ سوچا کہ اپنے عقائد پر عمل کریں اور دوسری اقوام پر اپنے عقائد نہ ٹھونسیں، ختم نبوت اگر آپ کا عقیدہ ہے تو سو بسم اللہ اس پر ایمان رکھیں، ناموس رسالت اور ناموس صحابہ کا شوشہ بھی چھوڑا گیا ہے، یہ سب اہلِ تشیع اور اقلیتوں کو ہراساں کرنے کے لئے ،کراچی کے ایک جلسے میں امیر جماعت اسلامی منور حسن نے کہا تھا کہ ہم اس ملک میں قتال فی سبیل اللہ کا کلچر چاہتے ہیں، یعنی ہم خدا کا نام لے کر جس کو چاہیں قتل کر دیں، مہذب ممالک اس کی اجازت کیسے دے دیں، ناموسِ رسالت اور حجاب کے نام پر آپ مغرب میں مظاہرے کرواتے ہیں اور لاء اینڈ آرڈر کی صورت پیدا ہو جاتی ہے یہ وہ لوگ کرتے ہیں جن کو اسلام کی ابجد سے بھی واقفیت نہیں ہوتی، لطف کی بات یہ ہے کہ کسی مسلم ملک میں یہ طرز عمل اپنایا نہیں جاتا۔
یورپی یونین کی قرارداد کے منظور ہونے کے بعد عمران کے اسلاموفوبیا کے غبارے سے ہوا نکل چکی، اس قرارداد پر ان کا یا عارف علوی کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا قمر باجوہ بھی خاموش، وزارت خارجہ کا ایک پھسپھسا بیان سامنے آیا کہ ہم مثبت انداز میں بات چیت کررہے ہیں ان کو معلوم ہے کہ یہ سارے حربے مغرب کو بلیک میل کرنے کے لئے ہیں، جو اب کامیاب نہیں ہوں گے۔ یورپی یونین قرارداد تو واپس نہیں لے گا اور نہ ہی اپنی یونین کے ممالک کو کاررورائی سے روکے گا، فیصل آباد میں صفِ ماتم بچھ چکی ہے چلتی مشینیں بند ہو جائیں گی، عمران اب اپنے اس بیان کو ذرا دہرائیں تو سہی کہ افغانستان کیساتھ تجارت ہو گی تو پاکستان میں خوشحالی آئے گی، کہہ دیں کہ ہم ناموسِ رسالت کے قانون کے ساتھ کھڑے ہیں اور یورپی یونین کی قرارداد کی کوئی پرواہ نہیں، یہ بھی کہہ دیں کہ خدا ہمارے ساتھ ہے، ہمیں معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہو گا، ایک قرارداد نے سب دم خم نکال دیا ہے، مذہب کو بیچنا بند کیا جائے ورنہ ملک دانے دانے کو ترسے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.