عمران خان کا تنہا مارکیٹ کا دورہ، غداروں کی لسٹ طویل ہوتی جارہی ہے!

109

بروز اتوار عمران خان اکیلے گاڑی ڈرائیور کرتے ہوئے مارکیٹ کے دورہ پر نکل پڑے سموسے کی دکان پر پہنچے بچے کو ماسک پہننے کی تلقین کی، لگائے ہوئے پودوں کا جائزہ لیا۔ دوسری مارکیٹ پہنچے، وہاں گھومے پھرے، بظاہر یہ ایک عام سا دورہ لگتا ہے کہ ایک وزیراعظم عوامی شکایت کا جائزہ لینے یا عوام سے خود رابطہ کرنے نکل کھڑا ہوا، حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ پاکستان میں اس وقت ایک سیاسی جنگ چل رہی ہے۔ فوجی ادارے اس وقت اپنا رول ادا کررہے ہیں۔ وہ ہر قیمت پر ملک میں سیاسی استحکام رکھنا چاہتے ہیں۔ چاہے وہ عمران خان کی شکل میں ہو یا شہباز شریف کی شکل میں یا پھر بلاول کو آئندہ کا وزیراعظم بنایا جائے۔ مریم صفدر شائد ان کی لسٹ میں نہ ہوں لیکن شہباز شریف سب سے مضبوط امیدوار ہیں لیکن آصف علی زرداری اپنا کھیل کھیل رہے ہیں۔ وہ ہر قیمت پر مرکز میں بھی اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں بلاول کیلئے۔ اس وقت تکونی لڑائی جاری ہے۔ عمران خان اپنے موقف پر ڈٹ جانے والا انسان ہے۔ اس نے کبھی بھی حالات سے شکست نہیں مانی۔ وہ فوج کے اداروں کو یہ میسج دے رہا ہے کہ وہ وقت سے پہلے اسمبلی توڑنا پسند کرے گا لیکن تحریک عدم اعتماد کو کامیاب نہیں ہونے دے گا۔ دوسرے نئے الیکشن میں جو افراتفری مچے گی وہ فوجی ادارے برداشت نہیں کر پائیں گے۔ سی پیک کی وجہ سے بھارت اور امریکہ کے ساتھ حالات بہت نازک موڑ پر ہیں۔ چائنہ کسی قیمت پر پاکستان کو غیر مستحکم نہیں ہونے دے گا۔ عمران خان کی معیشت یہ ہے کہ جہانگیر ترین نے ان کو ٹف ٹائم دیا ہے۔ راجہ ریاض اور اسحاق خاکوانی سمیت فوجی اور صوبائی اسمبلی کے ممبروں نے عمران خان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔ عمران خان نے اگر حکومت سنبھالتے ہی دونوں پارٹیوں میں فارورڈ بلاک بنوا دئیے ہوتے تو شاید عمران خان کو اکیلے سڑکوں پر نہیں نکلنا پڑتا لیکن عمران خان صاف ستھری سیاست کرنا چاہتے تھے۔ ساتھ ساتھ لوگوں کی خرید و فروخت بھی نہیں کرنا چاہتے تھے ورنہ لوگ تو بکنے کے لئے تیار تھے بلکہ فارورڈ بلاک بھی بنانے کے لئے تیار تھے۔ اگر اس وقت جہانگیر ترین کو اشارہ کرتے تو دونوں پارٹیوں میں آسانی سے فارورڈ بلاک بن سکتے تھے اور اس وقت بہت آسانی سے یہ سب ہو جاتا لیکن عمران خان نے صاف ستھری سیاست کو ترجیح دی جس کا نتیجہ آج وہ بھگت رہے ہیں اور دبائو پہ دبائو بڑھتا جارہا ہے اور اس کا حل کوئی نظر نہیں آرہا ہے آنے والا وقت مشکل سے مشکل ہوتا جارہا ہے۔
اسد عمر نے کچھ دن پہلے بہت اہم بیان دیا کہ اسمبلی کو توڑا جا سکتا ہے یہ بیان عمران خان کی طرف سے تھا۔ اس نے بیان میں سب قوتوں کو صاف صاف میسج دے دیا کہ ہم ہر چیز کے لئے تیار ہیں عمران نے سینیٹ میں خرید و فروخت کی سخت انداز میں مذمت کی اور یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کی ویڈیو منظر عام پر آئی اس کو بھی پی ٹی آئی کے دوو ممبروں کی طرف سے پلانٹ کیا گیا تھا اور علی گیلانی کو ایکسپوز کیا گیا تھا۔ اس وقت عمران خان کمزور سے کمزور تر ہوتے جارہے ہیں ڈھائی سال مزید گزارنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ عمران خان الیکٹرانک ووٹنگ مشین نئے الیکشن میں لانے کی پوری کوشش کررہے ہیں لیکن ن لیگ نے مخالف کرنے کا پکا ارادہ کر لیا ہے۔ اس لئے اس میں دھاندلی کرنے کے کم سے کم چانس ہوتے ہیں اور اگر کوئی پارٹی دھاندلی کاالزام لگاتی ہے تو اس کو ثابت کرنا بہت مشکل ہو گا۔ اسی لئے ن لیگ اس کی مخالفت کررہی ہے لیکن وہ کامیاب نہیں ہو پائے گی کیونکہ بلاول نے آج اس الیکٹرانک ووٹنگ کے حق میں بیان دیا ہے۔
آئندہ آنے والے دن عمران خان کے لئے اچھے نہیں ہوں گے وہ پانچ سال پورے کرتے مشکل نظر آرہے ہیں آہستہ آہستہ ان کے ساتھی ساتھ چھوڑتے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ ایم کیو ایم ق لیگ آنکھیں دکھارہی ہیں۔ اختر مینگل پہلے ہی ساتھ چھوڑ گئے ہیں۔ آزاد ارکان بھی اب خاموش ہو گئے ہیں۔ حفیظ شیخ سینیٹ کی سیٹ ہار گئے یہ پی ٹی آئی کے ارکان کی غداری تھی جس کی کمی آگے چل کر بلوچستان عوامی پارٹی نے پوری کی۔ اب تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟

Leave A Reply

Your email address will not be published.