اس وی آئی پی کلچر کا خاتمہ ضروری ہے!

86

بجائے اس کے کہ خوش ہوا جاتا اور عمران خان کی تعریف کی جاتی کہ انہوں نے بغیر پروٹوکول کے رمضان المبارک میں اسلام آباد کے بازاروں کا گشت لگا کے دکانداروں کا احوال بھی پوچھا اور یہ بھی جائزہ لیا کہ وہ کووڈ کے خلاف مہم میں ایس او پیز کا دھیان رکھ رہے ہیں یا نہیں ، ان کے دشمن اس مثبت اقدام پر بھی اپنی عمران دشمنی کی مذموم روش ترک کرنے پہ آمادہ نہیں ہیں! سوشل میڈیا میں جہاں عمران کے مداح اور پاکستان سے محبت کرنے والے ان کے اس اقدام پہ انہیں خراجِ عقیدت پیش کررہے ہیں اور داد و تحسین سے نواز رہے ہیں اسلئے کہ بجا طور پہ عمران کا حق ہے انہیں شاباش دی جائے کہ انہیں یہ احساس تو ہوا کہ عوام کے مسائل اور ان کے احساسات کو مشیروں اور وزیروں کی رپور ٹوں سے نہیں سمجھا جاسکتا اس کیلئے بہترطریقہ یہ کہ خود عوام میں جاکے ان کی نبض ٹٹولی جائے اور ان سے دوبدو گفتگو کرکے ان کا احوال معلوم کیا جائے، وزیر اور مشیر تو اکثر ڈنڈی مارجاتے ہیں اور لیپا پوتی سے کام چلانا چاہتے ہیں۔! لیکن سوشل میڈیا پہ پاکستان کو لوٹنے والے چوروں اور ڈاکوؤں کے حامی اور طرفدار عمران کا مذاق اڑا رہے ہیں، پھبتیاں کس رہے ہیں، طعنے دے رہے ہیں کہ دیکھو، عمران خلیفہ ہارون رشید بن رہا ہے جن کے متعلق تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ہارون رشید راتوں کو اکثر بھیس بدل کر بغداد کے گلی کوچوں میں پھرا کرتے تھے یہ جاننے کیلئے کہ ان کی رعایا کس حال میں رہ رہی ہے اور ان
کے بارے میں کیا رائے رکھتی ہے!
چلو، مان لیا میاں، کہ عمران کو ہارون الرشید بننے کا شوق چرایا ہے تو کیا برا ہے اگر کسی اچھی مثال کی تقلید کی جائے؟ تاریخ اسی لئے تو ہوتی ہے کہ اس سے سبق لیا جائے۔ اچھی مثالوں کو اپنے لئے مشعلِ راہ بنایا جائے اور بری حکایتوں کو پڑھ کر یہ عزم کیا جائے کہ ہم انہیں نہیں دہرائینگے!
ہماری بحیثیتِ قوم سب سے بڑی بدنصیبی تو یہی ہے کہ ہم نے اپنی غلطیوں سے کبھی کچھ نہیں سیکھا اور یہی وجہ ہے کہ ہم بار بار انہیں دہراتے رہتے ہیں کیونکہ یہ بھی تو تاریخ کا شاید سب سے نمایاں سبق ہے کہ جو اپنی تاریخ سے نہیں سیکھتے پھر وہ در در کی ٹھوکریں کھاتے رہتے ہیں۔ ہمارے جاگیردارانہ معاشرے کی سب سے بڑی لعنت اس کی وہ فرعونی سوچ اور فکر ہے کہ جو صاحبِ منصب یا زردار ہے وہ اپنے آپ کو مافوق الفطرت سمجھنے لگتا ہے اور اپنے سے کمتر یا غریب اس کے نزدیک کیڑے مکوڑوں کے سوا اور کچھ نہیں ہوتے۔
ہم کیوں ریاستِ مدینہ کو، جو ہمارے رسولؑ ﷺختمی مرتبت نے قائم کی تھی ، آج بھی بے مثال قرار دیتے ہیں؟ وہ اس لئے کہ اس ریاست میں غریب امیر کے مقابلے میں کمتر نہیں تھا بلکہ ہر فرد و بشر کی جان و مال اور آبرو کسی دوسرے سے کم نہیں تھی۔ اور وہ، میرا رسولؐ جس کی محبت میں اللہ نے یہ کائنات تخلیق کی وہ بوریا نشین تھا، دو جہاں کا محبوب اپنے کپڑوں میں خود اپنے ہاتھوں سے پیوند لگاتا تھا، اپنے نعلین اپنے ہاتھوں سے گانٹھتا تھا ! ہے کوئی ایسی مثال آج کے پاکستان میں؟ اور پاکستان کیا پورے عالمِ اسلام سے آپ کوئی ایسی مثال نہیں لاسکتے۔ ان گنہگار آنکھوں نے تو شیوخِ عرب اور سلاطین و آمروں کے وہ قصر دیکھے ہیں جن کی آرائش و زیبائش دیکھ کے الف لیلی کی داستانیں یاد آجاتی تھیں۔ لیکن اس کے مقابلے میں وہ ترقی یافتہ مغربی دنیا ہے جسے ہم دار الکفر کہتے ہیں لیکن جس کے حکمراں ہمیں اپنی تاریخ یاد دلاتے ہیں جب ہمارے حکمراں بھی سادگی کے پیکر ہوا کرتے تھے۔ جرمنی کی چانسلر، اینگلا مرکل، اپنے عہدے سے چودہ برس تک جرمنی کی ایسی قیادت کرنے کے بعد الگ ہورہی ہیں جس نے جرمنی کو دنیا میں ممتاز ترین ممالک کی صف میں کھڑا کردیا لیکن وہ بحیثیت چانسلر اسی تین کمروں کے فلیٹ میں رہتی رہیں جس میں چانسلر بننے سے پہلے رہا کرتی تھیں۔ ان کے گھر میں کوئی ملازم، کوئی باورچی نہیں تھا، وہ خود اپنے اور اپنے شوہر کیلئے کھانا پکاتی ہیں، خود اپنے فلیٹ کی صفائی کرتی ہیں، اور ان کے شوہر اپنے گھر کا کوڑا خود اٹھا کے باہر رکھتے ہیں۔ ایسی ہی ایک مثال نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جسٹین آرڈرن کی ہے جو اپنے دور کی مقبول ترین رہنما اور لیڈر ہونے کے باوجود ہر طرح کی ٹیپ ٹاپ اور نمو د نمائش سے مبرا ہیں! اس پر ہمیں یاد آتا ہے، اور شاید ہم یہ پہلے بھی رقم کرچکے ہیں کہ انیسویں صدی کے اواخر میں محمد عبدوہ مصر کے مفتی اور جامعہ الازہر کے ڈائریکٹر تھے جب وہ 1880کے عشرے میں یورپ کے سفر پر گئے تھے اور وہاں سے واپسی پر ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے اپنے سفر میں کیا دیکھا تو مفتی نے جو جواب دیا وہ تاریخ کا ایسا درس ہے جسے عالمِ اسلام کے ہر رکن ملک کی ہر درسگاہ میں جلی حروف سے لکھ کر لگانا چاہئے تاکہ اساتذہ اور طلباء آتے جاتے پڑھ سکیں اور یاد کرلیں۔ انہوں نے کہا میں نے یورپ میں اسلام دیکھا مسلمان وہاں نہیں ہیں اور میرے وطن مصر میں مسلمان ہیں لیکن اسلام نہیں ہے!
آج پورے عالمِ اسلام میں شاید ہی کوئی ایسا خطہ ہو جہاں مفتی عبدوہ کے مفہوم میں اسلام پایا جاتا ہو۔ اور یہ سادگی مغرب نے ہم سے اور ہماری تاریخ سے ہی سیکھی ہے۔ یہ جو ہارون رشید کی رعیت شناسی کے قصے ہیں تو ان کے سامنے بھی مثال خلافتِ راشدہ کی تھی، خلیفۂ دوئم سیدنا عمر فاروقؓ کی تھی جو رات کو مدینہ کی گلیوں میں پھرا کرتے تھے، جاسوسی کیلئے نہیں بلکہ یہ دیکھنے کیلئے کہ ان کی حکومت میں کوئی بھوکا تو نہیں سوتا، کوئی نادار تو نہیں ہے؟ سیدنا عمر فاروقؓ کا ہی قول ہے جو ہر مسلم حکمراں کو وردِ زبان کرلینا چاہئے۔ آپ نے فرمایا تھا کہ اگر نہر فرات کے کنارے کوئی کتا بھی بھوکا سوتا ہے تو اس کی ذمہ داری مجھ پہ عائد ہوتی ہے!
ہمارے اپنے پاکستان میں شروع کے حکمرانوں میں سادگی تھی۔ صدر ایوب خان مطلق العنان حکمراں تھے لیکن بیرونی دوروں پر جاتے تھے تو پی آئی کی کمرشل فلائٹ سے دوسرے مسافروں کے ساتھ سفر کرتے تھے۔ کوئی طمطراق نہیں ہوتا تھا۔ ہمیں یاد ہے 1960 میں جب وہ لندن میں دولتِ مشترکہ کی سربراہی کانفرنس کیلئے جارہے تھے تو بیروت کے ہوائی اڈے پر وہ بھی اپنے وفد کے ہمراہ اطمینان سے اتر کر لاؤنج میں آگئے تھے۔ ہم ان دنوں بیروت کی امریکن یونیورسٹی میں طالبعلم تھے۔ ہمیں پہلے سے پاکستانی سفارت خانے نے ان کی آمد کی اطلاع دے دی تھی تو ہم اور ہمارے چند دوست ان سے ملاقات کیلئے بیروت کے ہوائی اڈے پر پہنچ گئے۔ ایوب خان کے وفد میں بس اُن کی بیٹی، بیگم نسیم اورنگزیب تھیں جو اپنی والدہ کی نمائندگی کرتی تھیں، ایک ملٹری سیکریٹری تھے، بریگیڈئیر نوازش علی اور دو تین اور اہلکار تھے اور بس! یہ وی آئی پی کلچر تو دیگر برائیوں کی طرح پاکستان کے سرکاری کلچر میں بھٹو صاحب لیکر آئے تھے جو نعروں کی حد تک قائدِ عوام تھے ورنہ ان کا پور پور وڈیرہ شاہی کا ترجمان اور نمائندہ تھا۔ سرکاری دوروں پر جہاز بھر کے خصوصی پرواز سے اپنے حواریوں اور بھانڈوں کے ساتھ بیرونِ ملک جانے کی بدعت بھٹو نے شروع کی اور دیگر بدعتوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایسی چھاؤنی چھا کے رہی کہ آج تک اس کا زہر سرکار کی رگ و پے میں سرایت کئے ہوئے ہے اور نکلنے کا نام نہیں لیتا!
ہمارے ایک سیکریٹری خارجہ تھے، بھوپال اور رامپور کی نوابی تہذیب و ثقافت کا مرقع، جو اس وقت واشنگٹن میں سفیر تھے جب بھٹو صاحب بطور صدر اور سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر واشنگٹن کے دورے پر گئے۔ ان کا قصور یہ گردانا گیا کہ فرعونِ زماں بھٹو صاحب واپس روانگی کیلئے جہاز میں بیٹھے تو جہاز فوری روانہ نہیں ہوا جبکہ تاخیر کی وجہ یہ تھی کہ وہ باراتی جو ان کے ہمراہ تھے انہوں نے جو شاپنگ کی تھی وہ اتنی تھی کہ سامان اس وقت تک جہاز میں لادا جارہا تھا جب بھٹو صاحب جہاز میں بیٹھ چکے تھے!ہم نے اپنی آ نکھوں سے دیکھا ہے کہ وہ جو خود کو خدا کا اوتار سمجھتے تھے کیسے بڑے بڑے عہدیداروں اور سرکاری افسروں کو سب کے سامنے ایک منٹ میں ذلیل کردیا کرتے تھے اور اِسے اپنا حق سمجھتے تھے!بھٹو تو چلو مان لیا کہ وڈیرہ شاہی کے پروردہ تھے لیکن وہ فرزندِ لوہار، نواز شریف ، جو اپنی لیاقت اور استعداد کی بنیاد پر اس قابل بھی نہیں تھا کہ اسے کسی چنگی خانے کا محرّرر لگایا جائے اس کی فرعونیت بھی بھٹو سے کم نہیں تھی۔ وہ بھی سفیروں سے ناراض ہوجاتے تھے تو انہیں کھڑے کھڑے تبادلہ پر بھیج دیا کرتے تھے۔ ہم اپنے تجربے کی بنیاد پر کہہ سکتے ہیں، بلا خوفِ تردید، کہ عمران اپنی ذات اور فطرت میں اس فرعونیت کی وبا کا شکار نہیں ہے۔ ہمیں یاد ہے، ان دنوں کی بات جب ہم کویت میں سفیر تھے اور عمران کے شوکت خانم ہسپتال کیلئے عطیات جمع کرنے کی مہم چلا رہے تھے۔ عمران کو بارہا میں نے دیکھا کہ میرے گھر کے ڈرائنگ روم میں اطمینان سے فرش پہ بیٹھ کے کھانا کھالیا کرتا تھا۔ میری بیوی، اللہ بخشے ہنستی تھیں کہ کیا پھسکڑا مار کے فرش پہ بیٹھ جاتا ہے! اب اقتدار نے عمران کی فطرت میں کیا تبدیلی پیدا کی ہے میں نہیں کہہ سکتا، میری عمران سے ان کے وزیر اعظم بن جانے کے بعد کوئی ملاقات نہیں ہوئی لیکن عمران کا اس طرح پروٹوکول کے بغیر اسلام آباد کے بازاروں میں گشت کرنا گواہی دے رہا ہے کہ عمران کو وڈیرہ شاہی اور جاگیرداری کے مہلک وائرس نے نہیں کاٹا ہے۔ یہ ہمارا خود کو اوتار سمجھ لینے والا وائرس مان لیجئے کہ کرونا سے زیادہ مہلک ہے۔ کرونا سے بچنے کی تو کئی ایک ویکسین دستیاب ہیں لیکن اس فرعونیت کے وائرس کا کوئی تریاق نہیں۔ حکمرانوں کو تو جانے دیجئے ہم نے تو وہ طمطراق کراچی کی سڑکوں پہ دیکھا ہے جس کے سائے میں کراچی کے کور کمانڈر باہر نکلتے ہیں۔ کم از کم آدھے درجن گاڑیاں سائرن بجاتی ہوئی آگے پیچھے چل رہی ہوتی ہیں۔ کور کمانڈر تو ایک طرف ان آنکھوں نے تو پولیس کے سپرنٹنڈنٹ کے حفاظتی جلوس بھی دیکھے ہیں، شاہانِ وقت جیسے! پاکستانی معاشرہ کا یہ وی آئی پی کلچر ایک ناسور ہے جو گذشتہ چالیس پچاس برس سے پک رہا ہے اور یہ مرض لاعلاج ہوجائے گا اگر اس کا اب بھی تدارک نہ کیا گیا۔ عمران خان کا پاکستان میں ریاستِ مدینہ بنانے کا خواب ہماری زندگی میں تو شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکے گا لیکن انہوں نے پروٹوکول کے حصار کی نفی کرکے ایک اچھی شروعات کی ہے۔ اسے برقرار رہنا چاہئے اور عمران کو یہ بھی کرنا چاہئے کہ ان کے وزیر اور مشیر بھی اس طریق کو اپنالیں تاکہ یہ تاثر نہ رہ جائے، اور ان کے بزدل حریفوں اور دشمنوں کو یہ کہنے کا موقع نہ رہے کہ یہ سب کچھ چائے کی کیتلی کا ابال ہے جو دیرپا نہیں ہوتا یا یہ کہ یہ پانی کا بلبلہ ہے جو ایک پل میں بیٹھ جاتا ہے۔!عمران نے اپنی روش سے جو بنیاد ڈالی ہے اس پر مزید تعمیر ہونی چاہئے۔ ہم اگر اپنی تاریخ اور اس میں درج روشن مثالوں سے نہیں سیکھ سکتے تو پھر ہمیں سکھانے کیلئے آسمان سے فرشتے تو آنے سے رہے!
آپ سب کو ماہِ رمضان کی یہ دس آخری راتیں اور ان میں خصوصیت سے طاق راتیں مبارک ہوں۔ اللہ سے مغفرت کی بھیک مانگنے کا اس سے بہتر موقع اور کیا ہوگا۔ اور اس کے ساتھ ہی یہ دعا بھی کیجئے کہ اللہ ہمارے حکمرانوں کو اس خوابِ غفلت سے جگادے جسمیں وہ برسوں سے سوئے ہوئے ہیں۔ ان کی نیند بھی وہ ہے جس کیلئے میر صاحب یہ آفاقی شعر کہ گئے ہیں:
کن آنکھوں اب تو سوتی ہے اے چشمِ گریہ ناک
مثرگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا!!

Leave A Reply

Your email address will not be published.