پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کیسے برباد ہوئی؟

157

ایک تازہ ترین پریس ریلیز کے مطابق،ہائر ایجوکیشن کمیشن نے کھلم کھلا حکومت کے خلاف بیان دیا ہے جو ایک غیر اخلاقی اور غیر روائتی بیان دکھائی دیتا ہے۔ اس میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی کی حکومت اس خود مختار ادارے کو منہدم کرنے کا سوچ رہی ہے۔ اس کے لیے اس آرڈنینس میں ترمیم کی جائے گی جس کے تحت یہ ادارہ بنا تھا۔ اس ترمیم میں کمیشن کے ارکان کی مدت دو سال کر دی جائے گی۔اور تبدیلی کرنے کا مختار کل ای ڈی ہو گا۔کمیشن کے مطابق اس نزاع کی ایک بڑی وجہ وہ تیس ارب روپیہ ہے جو حکومت کسی ایک شخص کو دینا چاہتی ہے جو وزیر اعظم کا قریبی رفیق ہے۔ان صاحب نے بہت سارے منصوبے دیے ہیں جن کا بجٹ اربوں میں ہے۔ نہ انکا کوئی حساب ہو گا اور نہ معقول جوابدہی۔ اس بیان کے مطابق وہ شخص ڈاکٹر عطا الرحمان ہی ہو سکتے ہیں جن کے اداروں کو حکومت کمیشن کی باز پرس سے محفوظ رکھنا چاہتی ہے۔ تو اس ہرزہ سرائی کے پس پردہ وہ جذبہ نظر آتا ہے جس میں کمیشن اپنی نا اہلی اور پاکستان کی اعلیٰ تعلیم کو پست ترین معیار پر لے جانے کو چھپانا چاہتا ہے۔
صاحبو، پاکستان میں جس شعبہ کے ساتھ خاص کھلواڑ ہوا ہے وہ تعلیم ہے۔ خواہ وہ ابتدائی تعلیم ہے اور خواہ وہ اعلیٰ تعلیم ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ سیاسی نظام نے تعلیم کو صرف خواص اور اشرافیہ کے لیے جائز سمجھا اور عوام کو تعلیم سے بے بہرہ رکھا۔ شہروں اور قصبوں میں تو لوگوں کے اصرار پر اور آئین کی وجہ سے سرکاری سکول بنائے گئے۔دیہاتوں میں کم ہی سکول بنائے گئے۔سکول اگر بن بھی گئے تو ان کی ضروریات پر کم ہی توجہ دی گئی۔ سکولوں میں پنکھے نہیں اور کسی میں ٹوائلٹ نہیں، کہیں پانی نہیں اور کہیں بجلی اور روشنی نہیں۔استادوں کے پاس کہیں بورڈ نہیں تو کہیں لکھنے کا قلم یا چاک نہیں۔ اس بے سر و سامانی کے عالم میں تعلیم کا معیار کیا ہو سکتا ہے؟ جو بچے پرائمری پاس کر کے ہائی یا مڈل سکول میں جاتے انکی تعداد بتدریج کم ہوتی جاتی۔ جب مڈل اور میٹرک میں زیادہ بچے فیل ہوتے تو بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن پاس ہونے کے مارکس اور کم کر دیتا ہے تا کہ زیادہ بچے پاس دیکھائے جائیں۔والدین صرف ایک بات جانتے ہیں کہ نوکری سند دیکھ کر ملتی ہے لیاقت دیکھ کر نہیں ۔ اس لیے سارا زور سند پر ہی رہتا ہے ۔ اعلیٰ تعلیم کا بھی یہی حال ہے۔
1974میں اعلیٰ تعلیم کے اداروں کی سر پرستی اور اعانت کے لیے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن بنایا گیا تھا۔ چونکہ یونیورسٹیز صرف فیسوں کے بل بوتے پر نہیں چل سکتی تھیں، تو حکومت ان کو بجٹ سپورٹ دیتی تھی ، اس کام کے لیے کمیشن کا تقرر کیا گیا تھا۔اس کمیشن نے پاکستان کی بد قسمتی سے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔پاکستان میں تھوڑے ہی سالوں میں، اعلیٰ تعلیم میں اس قدر انحطاط آ چکا تھا کہ اس کو درست کرنے کے لیے کسی بہترانتظام کی ضرورت تھی۔ چنانچہ اعلیٰ تعلیم کے فروغ، بہتری ، تحقیق اور ترقی کے لیے حکومت نے وفاقی سطح پر ، صدر مشرف پرویز کے ایک صدارتی حکم سے سن2002میں اعلیٰ تعلیم کا کمیشن منظور کیا۔ اس کا دائرہ اختیار سارا پاکستان تھا۔اسکاسر براہ چیر مین تھا۔ اعلیٰ تعلیم میں بیچلر کی ڈگری اور اس سے زیادہ بہتر تعلیم تھی جسمیں گریجوایشن کے بعد کی تعلیم، تحقیق اور دیگر کام شامل تھے۔ اس کے فرائض میں اس کے زیر نگرانی اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لینا، اعلیٰ تعلیم کی بہتری کے لیے سب کام کرنا تھا جن میں اس سے منسلک تعلیمی اداروں کو گرانٹس دینا شامل تھا۔ایچ ای سی نے کچھ معیار متعین کیے جن کے مطابق ملک کی دس اعلی ترین یونیورسٹیز کی فہرست بنائی گئی۔ سن 2015 میں ان دس میں سر فہرست قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد تھی، اس کے بعد پنجاب یونیورسٹی، نسٹ، زراعتی یونیوسٹی فیصل آباد تھیں۔
او2002 میں اس کو زیادہ بڑی اور بہتر بنیادوں پرہائر ایجوکیشن کمیشن کی شکل دی گئی۔اس نئے کمیشن کو نئے اختیارات بھی دیے گئے۔HEC اعلیٰ تعلیم کے لیے سکالرشپ دیتا تھا اور ڈاکٹریٹ کی تعلیم کے لیے طلباء کو بیرون ملک بھی بھجواتا تھا۔ اس کے علاوہ وہ بیرون ملک سے اعلیٰ تعلیم کے اساتذہ کو پاکستان میں اچھی تنخواہ پر تقرری کرتا تھا۔ اس کا ایک اہم پروگرام اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بلند کرنا تھا۔ اس کے لیے کمیشن نے بہت سے وسائل مختص کر رکھے تھے۔ایک رپورٹ کے مطابق، کمیشن کی حوصلہ افزائی اور مالی امداد کی وجہ سے پاکستان میں یونیوسٹیز کی تعداد سن2001 میں95 سے132 تک پہنچ گئی۔ اس کے علاوہ طلباء کی مجموعی تعداد، ڈاکٹریٹ کرنے والے طلباء کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔اور اور2014تک اعلی تعلیم پر 97ارب روپے خرچ کیے جا چکے تھے۔ اس رقم میں یو ایس ایڈ کے دئے ہوئے پچیس کڑوڑ ڈالر بھی شامل تھے(جو غالباً ان طلباء کی تعلیم پر خرچ ہوئے جو امریکہ میں ڈاکٹریٹ کی تعلیم کے لیے بھیجے گئے تھے)۔
جتنی روپیہ کی ریل پیل وفاقی سطح پر ہوتی ہے صوبائی سطح پر نہیں ہو سکتی، اسی لیے جب پاکستان نے اٹھارویں ترمیم پاس کی تو بہت سے کام وفاق سے صوبوں کو منتقل کیے گئے، جن میں ایک اہم شعبہ تعلیم کا تھا۔ اس وجہ سے صوبوں نے مطا لبہ کیا کہ کمیشن کے وسائل چاروں صوبوں کو بانٹے جائیں۔ اور ہر صوبہ کا اپنا کمیشن ہو۔ اس پر وفاقی کمیشن نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ صوبے اس کام کے کرنے کے اہل نہیں۔لیکن طوعاً و کرہاً چاروں صوبوں میں کمیشن بن گئے اور وفاقی کمیشن کی ذمہ واریاں اور آمدنی کم ہو گئیں۔ سیاستدان تو پہلے ہی اتنی بڑی رقموں کی تقسیم پر نا خوش تھے، صوبوں کے پاس جب اختیارات آئے تو ان کو ان پر دست اندازی کا موقع مل گیا۔حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان کے ہر محکمہ میںرشوت کا بازار گرم ہو چکا تھا اور تعلیم کا شعبہ کسی سے پیچھے کیوں رہتا۔بیرونی امداد سے جعلی سکول اور جعلی اساتذہ کی کہانیا ں برسر عام ہیں۔
لیکن دو دہائیوں کے بعد بھی پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا معیار پست سے پست ہوتا چلا گیا۔ورنہ ڈاکٹرعطا الرحمن وہ پہلے کمیشن کے چیر مین تھے جنہیں ان کی ایمانداری ، خلوص اور لگن کی وجہ سے کمیشن کی چیر مین شپ سے چند ہی سالوں میں ہٹوا دیا گیا تھا۔کیونکہ وہ واقعی اعلیٰ تعلیم کا معیار بلند کرنا چاہتے تھے اور خصوصاً سائینس کی تعلیم کو بہت آگے لے جانا چاہتے تھے۔ چند ہی سالوں میں کمیشن کا بجٹ پچاس کڑوڑ سے بیس ارب روپے تک بڑھا دیا گیا۔ڈاکٹر عطا الرحمن کے بعد ایک سیاستدان، جاوید لغاری کو چیرمین بنایا گیا۔ ان ہی کے دور میں جعلی ڈگری والے سیا ستدانوں کو بے نقاب کیا گیا تھا۔ مزاری صاحب نے بھی اصلاحات کا کام جاری رکھا۔ان کے دور میںبھی خاصی ترقی ہوئی۔ جن صاحب کوکمیشن کا چیف ایگزیکٹو آفیسر لگایا گیا وہ بڑے قابل اور ایماندار تھے اور منصب کے پورے اہل۔ ڈاکٹر عطاا لرحمن کے دور میں پاکستان کی چار یونیورسٹیاں دنیا کی تین سو، چار سو اور پانچ سو بہترین یونیورسٹیوں میں سے قرار دی گئیں تھیں۔ ان کی لائی ہوئی اصلاحات کے نتیجہ میں دنیا میں پاکستان کا نام روشن ہوا۔ان کو کئی بین الاقوامی ایوارڈز دئیے گئے۔ پاکستان کی آٹھ یونیورسٹیز کو تاریخ میں پہلی مرتبہ، QS World University Ranking 2013 ایشیا کی ٹاپ 250 یونیورسٹیز میں شامل کیا گیا۔لیکن 2016 تک یہ معیارعرش ے گرے اورفرش پر جا پہنچے جب اسی رینکنگ کی نئی رپورٹ آئی جس میں پاکستان کی اعلی تعلیمی اداروں کو9.2کا سکور دیا گیا، اور بھارت کو24۔ اسطرح پاکستان دنیا کے ملکوں کی فہرست میں پچاسویں نمبر پر پہنچ گیا۔اور باوجود کہ حکومت اربوں روپے اعلیٰ تعلیم پر خرچ کر رہی تھی۔ یہ اس وقت ہوا جب نون لیگ کی حکومت تھی اور کرپشن انتہا پر پہنچ چکی تھی۔ جب HEC پروفیسر عطاالرحمن کے زیر نگرانی تھی یا جناب مزاری صاحب کے، تو بہت سے سیاستدانوں کو بیحد تکلیف تھی کہ اربوں روپیہ ان کے ہاتھ سے نکلا جا رہا تھا جس سے ان کو کوئی کمیشن نہیں ملتا تھا۔چنانچہ یہ چیرمین بدلے گئے اورCEOکو بھی بدل دیا گیا اور ان کی جگہ کسی ایسے صاحبان کو لگایا گیا جو سیاستدانوں کے ساتھ پورا تعاون کر سکتے تھے۔
اس نئی فہرست کے مطابق ریاستہائے متحدہ امریکہ کا سکور100 تھا۔ جوسر فہرست تھا۔ اس کے بعد جو ملک اپنی اعلیٰ تعلیم کی وجہ سے سب سے آگے تھے، وہ برطانیہ، جرمنی، آسٹریلیا، کینیڈا،فرانس، نیدر لینڈ، چین، جنوبی کوریا اور جاپان وغیرہ۔ اس فہرست میں آنے کے لیے، جو معیار رکھا گیا تھا وہ یہ کہ کسی ملک کی کتنی یونیورسٹیاں دنیا کی سات سو بہترین یونیورسٹیوں میں شامل ہیں۔ قابل غور بات ہے کہ پاکستان کے9.2 سکور کے مقابلہ میں سعودی عرب کا سکور36 اور ٹرکی کا 39 تھا۔2021میں پاکستان کی166میں سے صرف دو یونیورسٹیز دنیا کی 400 بہترین یونیورسٹیوں میں شامل ہیں، جن میں ایک نسٹ ہے۔قاید اعظم یونیورسٹی دنیا کی چار سو بہترین میں ہے۔ اور LUMS سات سو میں شامل ہے۔ اور ان کے علاوہ تین آٹھ سو سے ایک ہزار کی فہرست میں ہیں۔ زیادہ تر یونیورسٹیاں جو HEC سے منظور شدہ ہیں بس سند چھاپنے کی مشینیں ہیں۔ ملک میں نوجوانوں کی آبادی اتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے کہ سیٹوں کے مقابلہ میں درخواست کنندگا ن کی تعداد کئی گنا ہوتی ہے۔ طالب علموں کو علم حاصل کرنے اور ہنر حاصل کرنے سے زیادہ سند لینے کی خواہش زیادہ ہوتی ہے۔
یہ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ نئی حکومت کے سر براہ عمران خان سائینس، ٹیکنالوجی اور تعلیم کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اور ان شعبوں کو ترجیحی بنیادوں پر فروغ دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ایک اعلیٰ سطح کی ٹاسک فورس ٹیکنالوجی اور نالج کی قوت سے اقتصادی حالت بہتر کرنے پر بنائی ہے۔اس کی صدارت وہ خود کرتے ہیں۔اس کے علاوہ وہ پروفیسر عطا الرحمن کی قابلیت اور استعداد کے بھی معترف ہیں۔ان کی حکومت نے ڈاکٹر عطا الرحمن کی نگرانی میں بھی ایک اور ٹاسک فورس سائنس اور ٹیکنالوجی پر بنا ئی ہے۔اگر ان کمیٹیوں نے اپنا کام صحیح کیا تو پاکستان جلد ہی دنیا کے دوسرے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں جا کھڑا ہو گا۔ HEC کو یہی رونا ہے کہ ہائے ہائے ان کے حلوے مانڈے کا کیا بنے گا؟
اگر HEC نے صحیح کام کیا ہوتا اور کمیشن کو دی گئی رقموں کو صحیح طریقے سے استعمال کیا ہوتا، تو نہ صرف یونیوسٹیز کا معیار بلند ہوتا، ان میں تحقیقاتی کام کا فروغ ہوتا، اور پی ایچ ڈیز بجائے ٹیوشنز پڑھانے کے تحقیق کی طرف دھیان دیتے۔ دنیا کی بہترین یونیورسٹیز اپنے تحقیقی کاموں سے ہی پہچانی جاتی ہیں، اور انہیں یونیورسٹیز کے پروفیسرز کو ہی نوبل پرائز ملتے ہیں۔وہ یونیورسٹیاں سندیں بانٹنے سے زیادہ علم پر توجہ دیتی ہیں۔آج جو ہماری اعلیٰ تعلیم کا حال ہے اس سے تو بہتر ہوتا کہ پاکستان زیادہ پیسہ ابتدائی اور ثانوی تعلیم پر خرچ کرتا تا کہ کم از کم ملک سے جہالت کا خاتمہ تو ہو جاتا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.