جواب شکوہ!!!

398

ہم نے کئی بار خواتین کے حقوق کی بات کرتے مختلف لوگوں اور لیڈرز کو دیکھا ہے۔ دفتروں سے لے کر کھیل کے میدانوں تک خواتین کے حقوق کی بات ہوتی ہے۔ عورتیں مردوں کے شانہ بشانہ ہونی چاہیں یہ بحث ہر جگہ رہتی ہے، عورتوں کو بھی سوسائٹی میں وہی مقام ملنا چاہیے جو مردوں کو حاصل ہے، چاہیے کوئی خاتونِ خانہ ہو یا پھر دنیا کی کسی بڑی کمپنی کی سی ای او، کہیں نہ کہیں ان کے ذہن میں مردوں سے کم سمجھے جانے کا شکوہ رہتا ہے، چاہیے یہ بات وہ کھل کر بیان کریں یا نہیں، یہ خیال ہر خاتون کے ذہن میں کہیں نہ کہیں رہتا ہے۔ کئی شکوے ہیں خواتین کے دماغ و دل میں، سوچا مرد حضرات کی طرف سے ان کا جواب ہونا چاہیے۔
دنیا کے کسی بھی ملک کا اوسط اس وقت آپ اگر دیکھیں تو حیران کن طور پر 80فیصد چوریاں، موبائل چھیننے کی وارداتیں، گاڑیاں چھینے جانا، یہاں تک کہ قتل بھی مردوں کے ہوتے ہیں۔ عورتیں کہیں بھی مردوں سے زیادہ محفوظ ہیں یہاں تک کہ پانی کے جہاز Tietanicمیں بھی زیادہ مرد ہی مرے تھے، ڈوبتے وقت مردوں پر اخلاقی دبائو تھا کہ عورتوں کو پہلے بچائو تم تو مرد ہو مر بھی گئے تو کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ اگر آپ اعداد و شمار دیکھیں تو Titanicکے حادثے میں بچ جانے والی 97فیصد خواتین تھیں فرسٹ کلاس اور 76فیصد سیکنڈ کلاس ، ستم تو یہ ہے کہ اس حادثے کو لے کر جو فلم بنی اس میں بھی ہیرو ہی مارا گیا، دنیا میں کسی نہ کسی کو وہ کام بھی کرنے پڑتے ہیں جو بہت مشکل ہوتے ہیں جیسے گٹر یا پبلک ٹوائلٹس صاف کرنا، بجلی کے تاروں کو دیکھنا، چڑیا گھر کے جانوروں کی دیکھ بھال کرنا وغیرہ وغیرہ، دنیا کے 95فیصد مشکل کام مرد ہی کرتے ہیں، آج تک دنیا میں جتنی بھی جنگیں ہوئی ہیں ان میں خواتین فوجیوں کے شہید ہونے کی تعداد دو فیصد سے بھی کم ہے، آپ بہت ہی کم دیکھیں گے کہ کسی خاتون فوجی کی شہادت کی Ceremonyہورہی ہو۔
خواتین کا رونا بھی کسی بھی سوسائٹی میں قابل قبول ہوتا ہے لیکن اگر مرد روئے تو اُسے غلط سمجھا جاتا ہے، آدمی کو اپنی مضبوط Imageقائم رکھنی ہوتی ہے اور رونا جو ایک قدرتی عمل ہے اگر مرد روئے تو لوگ مرد کو کمزور سمجھتے ہیں، خواتین کا ڈرنا بھی قابل قبول ہوتا ہے لیکن ڈر کا شکار کوئی مرد ہو جائے تو یہی کہا جاتا ہے کہ ارے یہ تو مرد ہے یہ کیوں ’’ڈر‘‘ رہا ہے جبکہ کسی بھی اندھیرے سنسان رات میں کسی سٹرک پر کسی مرد کے پیچھے کوئی عورت آ کر چلنے لگے تو اُس مرد کے ہاتھ پائوں ٹھنڈے ہو جائیں گے، اُسے ڈر لگے گا کہ اس کے پیچھے چڑیل آگئی ہے لیکن وہ بیچارہ وہاں سے بھاگ نہیں سکتا کیونکہ مرد ہونے کاپریشر اُسے یہ دکھانے پر مجبور کرتا ہے کہ میں ڈر نہیں رہا ہوں۔
اگر کوئی خاتون یہ فیصلہ کر لیے کہ مجھے فلاں مرد کو جیل بھیجنا ہے توہ یہ بآسانی کر سکتی ہے کسی بھی جگہ ایک روتی ہوئی خاتون کی شکایت کو بآسانی سچ مان لیا جاتا ہے۔
خواتین کپڑوں کو لے کر بھی خود کو بہت ایکسپریس کر سکتی ہیں مختلف رنگ، ڈیزائن اور اس کے ساتھ میچنگ جوتے اور جیولری ،ہیر سٹائلز بھی جوڑا تو کبھی کھلے بال مگر مرد وہی دو تین رنگ کے سوٹ پہن کر ہر شادی میں چلا جاتا ہے چاہے وہ اس کی اپنی ہی شادی کیوں نہ ہو۔
کسی بھی مرد کی طرف کسی خاتون کا مائل ہونا عموماً اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ مرد کے پاس کتنا پیسہ ،طاقت اور سوسائٹی میں کیا پوزیشن ہے لیکن مرد حضرات عموماً خواتین کی طرف اس وقت مائل ہوتے ہیں جب انہیں احساس ہوتا ہے کہ فلاں خاتون سچ مچ انہیں پسند کررہی ہیں، آدمی کو شادی کے قابل ہونے کے لئے ایک لمبی جدوجہد کرنی ہوتی ہے، اچھی نوکری، اچھا مستقبل، اپنا ذاتی گھر، گاڑی یہ سب لڑکی والے چھان بین کر کے لڑکے میں دیکھتے ہیں لیکن لڑکی تھوڑی بہت خوش شکل اور بازار کے گرم سموسوں کو اپنے نام کروا کر لڑکے والوں کا دل جیت لیتی ہے اور شادی کے بعد بھی یہی ہوتا ہے اگر شوہر کے حالات اچھے ہیں تو بیوی سسرال والے سب خوش ہیں لیکن اگر مرد Joblessہو گیا تو سب کے طعنے۔
اگر مرد اپنے جذبات اور دکھوں کی بات کسی سے کر لے چاہے وہ اس کے دوست ہی کیوں نہ ہوں تو جواب ملتا ہے کہ ارے مرد ہو کر کیسی عورتوں جیسی بات کرتے ہو، آدمیوں کو اکثر اپنی باتیں اور جذبات چھپا کررکھنے پڑتے ہیں کیونکہ وہ مرد ہیں، آدمی چاہے بات صحیح کررہا ہو لیکن اگر ذرا سی اونچی آواز میں کرلے تو وہ ظالم مرد ہو جاتا ہے لیکن وہ بات اگر اسی طرح عورت کرے تو سب کو لگتا ہے ایک مضبوط عورت اپنے حق کیلئے آواز اٹھارہی ہے۔
دنیا کے بیشتر ملکوں میں جہاں طلاقیں ہوتی ہیں تو بچے عموماً مائوں کو مل جاتے ہیں چاہے گھر میں عورت ہی مرد پر ظلم کیوں نہ کررہی ہو اس کے باوجود کورٹ کا فیصلہ یہی ہوتا ہے کہ بچے ماں کے ساتھ ہی رہیں گے جب تک بچے بڑے اور مرد بوڑھا نہیں ہو جاتا۔
آفس میں اگر کسی خاتون کو ان کا باس ڈیو پروموشن نہیں دیتا تو ان پر آسانی سے ویمنز رائٹس کا کیس بن جاتا ہے لیکن اگر کسی آدمی کو ڈیو پروموشن نہیں ملتا تو کوئی کیس نہیں بنتا کیونکہ اس کے ساتھ یہ زیادتی ایک مرد ہی کررہا ہے تو پھر کیس کیسا بنتا؟
مرد خود کو اکثر سیچویشنز میں اکیلا سمجھتا ہے اُسے لگتا ہے اُسے اپنے خاندان کے لئے کام کرنا چاہیے، کئی چیزیں اُسے سوسائٹی کو دکھانے کیلئے کرنی ہیں جیسے گھر، گاڑی وغیرہ اپنی مشکلات اور جذبات بھی کسی سے زیادہ شیئر نہیں کر سکتا اس لئے دنیا میں خودکشی کرنے والے بھی 79فیصد مرد ہوتے ہیں، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مردوں کے حقوق کی بات کون کرے گا؟؟؟