عدالتی فیصلے، صدارتی ریفرنس ردی کی ٹوکری کی نذر!

290

پاکستان کی تاریخ میں دو مرتبہ کسی سپریم کورٹ کے جج کے خلاف صدارتی ریفرنس کو سپریم کورٹ نے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا ہے۔ پہلی مرتبہ جنرل مشرف کو جب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے پاکستان سٹیل ملز کو اونے پونے بیچنے سے روک دیا تو انہوں نے چیف جسٹس صاحب کو معطل کر کے صدارتی ریفرنس دائر کر دیا کہ انہوں نے سرکاری مراعات کا غلط استعمال کیا ہے جس پر اس وقت کے لالچی بدنام زمانہ قائم مقام چیف جسٹس اور آج کی انتقام گاہ اور نیبی عقوبت خانوں کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کونسل بنائی گئی جس کے ممبران میں دو ایسے جج صاحبان جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور جسٹس افتخار حسین چودھری موجودہ وزارت واہ جات فواد چودھری کے چچا جن کے موصوف وکالت میں ٹائوٹ رہ چکے ہیں جس سے فواد چودھری نے کروڑوں روپے کمائے ہیں شامل تھے۔ دونوں ممبران جسٹس ڈوگر اور جسٹس افتخار حسین چودھری پر کرپشن کے الزامات تھے اس لیے سپریم جوڈیشل کونسل کو اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل اور آج کے دشمن چودھری اعتزاز احسن نے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا جس وقت سپریم کورٹ کے اصلی قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس بھارت میں مندروں کی زیارتوں سے واپس آچکے تھے چنانچہ سپریم کورٹ نے سپریم جوڈیشل کونسل کے وجود کو ختم کرتے ہوئے مقدمہ کی سماعت کی جس میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو غیر مشروط طور پر بحال کر دیا گیا جنرل مشرف کا دائر کردہ ریفرنس ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا۔ دوسرا بڑا صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ کے جج قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر ہوا جو ایک سال تک جاری رہا۔ جس میں سپریم کورٹ نے پہلے اس غیر قانونی ریفرنس کو جزوی طور پر رد کیا بعدازاں 26اپریل کو کلی طور پر رد کر دیا گیا جس میں ایف بی آر اور سپریم جوڈیشل کونسل کی سماعتوں کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے روک دیا گیا کہ وہ آئندہ اس مقدمے کی آڑ میں کوئی تحقیقات نہ کر پائیں، یہ پاکستان کی عدالت کا دوسرا بڑا فیصلہ ہوا ہے کہ جس میں ججوں کو باعزت بحال یا برقرار رکھا گیا ہے ۔چیف جسٹس افتخار چودھری کا قصور صرف یہ تھا کہ انہوں نے جنرل مشرف کو پاکستان کے قومی ادارے سٹیل ملز کو اونے پونے بیچنے سے روکا تھا جس کی اصل مالیت 100ارب تھی جس کو صرف 20ارب میں فروخت کیا گیا تھا جس پر جنرل مشرف نے اپنے حسب معمول آمرانہ اور جابرانہ رویوں کے تحت چیف جسٹس کو معطل کر کے سپریم جوڈیشل کونسل سے مستقل برطرف کرانا چاہا تھا جس میں وہ ناکام ہوئے۔ اب عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر جسٹس قاضی کو ہٹانے کے لئے صدارتی ریفرنس دائر کیا جس کو سپریم کورٹ نے مختلف مشکلات اور مصائب کے باوجود گندگی کے ڈھیر کے سپرد کر دیا ہے جو عدالتی تاریخ کی بہت بڑی فتح ہوئی ہے کیونکہ جسٹس قاضی عیسیٰ کا بھی یہی قصور تھا کہ انہوں نے سانحہ کوئٹہ میں اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ بلوچستان کے نامور وکیلوں کے قتل میں پاکستانی ایجنسیاں ملوث ہیں یا پھر انہوں نے سپریم کورٹ میں فیض آباد کے دھرنے کو ہٹانے کا حکم دیا جس پر جنرل فیض حمید نے عملدرآمد کرانے سے انکار کر دیا تھا جس پر آرمی چیف سے عملدرآمد کے لئے کہا گیا تھا لیکن جنرل فیض حمید عملدرآمد کرانے کی بجائے دھرنے میں شرکاء کو پیسے بانٹتے رہے جس کے بعد ان کے اشارے پر قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس دائر کر کے پورے خاندان کو رسوا کیا گیا جو دن رات عدالتوں اور ایف بی آر کے چکر لگا لگا کر تھک گئے جن کو آخر کار بڑی جدوجہد کے بعد عدالتی انصاف ملا سوال پیدا ہوتا ہے کہ گزشتہ ایک سال سے جسٹس قاضی کی کردار کشی کی گئی جس کے مرتکبین آج سپریم کورٹ میں مقدمہ ہار چکے ہیں جنہوں نے جسٹس قاضی پر جھوٹے اور من گھڑت مقدمے بنائے لہٰذا ٓج کے فیصلے کے بعد توہین عدالت کے مرتکبین فواد چودھری، بابر اعوان، فروغ نسیم، شیخ رشید، فردوس عاشق اعوان پر مقدمات قائم کر کے سزائیں کون دے گا جنہوں نے جسٹس قاضی کی آڑ میں پوری عدالت کی توہین کی ہے جو آج جھوٹے ثابت ہوچکے ہیں کاش یہ لوگ امریکہ میں ہوتے تو آج جیلوں کے علاوہ بھاری بھرکم جرمانوں کے بوجھ تلے دب کر کنگال ہوچکے ہوتے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جسٹس قاضی کی کردار کشی پر سپریم کورٹ کو مجوزہ جرائم پیشہ ور اہلکاروں اور عہدیداروں کو مقدمہ توہین عدالت میں جیل میں ڈال دینا چاہیے تھا جنہوں نے منصوبہ بندی کے تحت حاضر ڈیوٹی جج قاضی کی کردار کشی کی تھی مگر ایسا نہ ہوا جبکہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو خط نہ لکھنے پر سزا اور پانچ سال کے لئے نااہل قرار دیا گیا یا پھر پارلیمنٹرین نہال، دانیال اور طلال کو بیانات پر پانچ پانچ سال کے لئے ناہل قرار دیا جا چکا ہے لیکن قاضی عیسیٰ کے موقع پر سپریم کورٹ خاموش کیوں رہی ہے۔ چونکہ مجوزہ مرتکبین کا تعلق مقدس گائے کا گوبر اٹھانے والوں سے ہے جو دن رات مقدس گانے کی گندگی اٹھاتے رہتے ہیں جسکی وجہ سے ان کے خلاف مقدمہ توہین عدالت قائم نہیں کیا جاسکتا ہے۔ بہرحال جسٹس قاضی کے فیصلے کے بعد پاکستان میں نیا بھونچال آچکا ہے جس کے اندر آوازیں اٹھنا شروع ہو چکی ہیں کہ ایک طرف ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن نے انکشافات کئے ہیں کہ عمران خان نے مجھے مجبور کیا میں قاضی عیسیٰ کے خلاف کوئی جھوٹا مقدمہ قائم کروں تو میں نے انکار کر دیا تھا یا پھر مجھے دن رات مجبور کیا جاتا تھا کہ میں شریف خاندان، مسلم لیگ ن کے رہنمائوں اور پی پی کے رہنمائوں کے خلاف مقدمات قائم کروں جس کا میں نے انکار کیا جس پر مجھے نکلنے پر مجبور کیا گیا۔ دوسری طرف لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس قاسم خان نے زمینوں پر قبضوں پر فوج کو مافیا قرار دے دیا جس پر فوجی جنرلوںمیں شدید بے چینی پائی جاتی ہے جو اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ایک بہت بڑی عدالتی کارروائی ہے جس سے آج اسٹیبلشمنٹ کے جرائم اور کرائمز عوام کے سامنے آرہے ہیں کہ جنہوں نے ریاست کے اوپر ریاست بنا رکھی ہے جس کا ذکر دنیا بھر میں ہورہا ہے یہی وجوہات ہیں کہ پاکستان میں آج کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا جاتا ہے جو بھی بات چیت یا مذاکرات ہوتے ہیں وہ فوجی جنرلوں کے ساتھ ہوتے ہیں چاہے وہ امریکی افغانستان سے انخلاء کا مسئلہ ہو یا بھارت کے ساتھ تعلقات کی بحالی اور تجارت ہو یا پھر مشرق وسطیٰ میں فوجی امداد کا ہو جس کا فیصلہ پاکستان کی پارلیمنٹ اور انتظامیہ کی بجائے جنرل صاحب کررہے ہیں جبکہ پاکستان کا سربراہ صدر مملکت اور حکومت کا سربراہ وزیراعظم ہوتا ہے جن کے پاس تمام ریاستی اور انتظامی اختیارات ہوتے ہیں جو سب کے سب چھن چکے ہیں یہی وجوہات ہیں کہ آرمی چیف جنرل باجوہ اور وزیراعظم عمران خان کے بیانات میں تضادات پائے جارہے ہیں جس میں پاکستان کی پارلیمنٹ ربڑ اسٹیمپ غیر موثر ہو چکی ہے جس سے لگتا ہے کہ پاکستان پر ایک مارشل لاء نما حکومت قائم ہے جس کے اردلی عمران خان وزیراعظم ہیں۔