اوورسیز پاکستانیوں سے اربوں ڈالر لینا حلال ہے مگر ملک کے انتخابات میں دوہری شہریت والے انہی پاکستانیوں کا حصہ لینا حرام ہے؟

288

اس امر سے ملک کے ہر طبقہ فکر کے سیاستدانوں، بیوروکریٹس، عدلیہ، افواج اور ذی فہم فکری سوچ رکھنے والے افراد متفق ہیں کہ اندرون ملک مقیم پاکستانیوں کی نسبت بیرون ملک مقیم پاکستانی بہت زیادہ وطن پرست اور پاکستان کیلئے محبت رکھنے والے لوگ ہوتے ہیں۔ اس بات سے قطع نظر کہ ان کی حیثیت تارکین وطن کی ہے یا امیگرینٹ ہیں یا مقامی ملک کے سٹیزن ہیں یا دوہری شہریت کے حامل ہیں۔ یہ لوگ پاکستان سے کوسوں دور ہوتے ہیں لیکن ان کے دل پاکستان کیلئے دھڑکتے ہیں۔ پاکستان کیلئے مدد کرنے کیلئے ان کے سینے ہمیشہ کشادہ ہوتے ہیں۔ پاکستان کیلئے عطیات اور نقدی دینے کیلئے ان کے ہاتھ ہمیشہ کھلے ہوتے ہیں۔ امریکہ، کینیڈا، یورپ اور دنیا بھر میں مقیم پاکستانی نژاد کسی نہ کسی پاکستان اور پاکستانیت سے منسلک این جی اوز اور رفاہی اداروں کے ذریعے وہ وطن کی مٹی کا قرض اتار رہے ہوتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ پاکستان کے زیادہ تر فلاحی ادارے اپنی فنڈ ریزنگ کیلئے بیرون ملک پاکستانیوں پر انحصار کرتے ہوئے بیرون ملک آتے ہیں۔ عمران خان کا شوکت خانم کینسر ہاسپٹل بلکہ ہاسپٹلز ہوں یا ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی کا سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورالوجی (ایس آئی ٹی یو) ہو، میجر جہانداد خان کا آئی ہاسٹل ہو یا عبدالستار ایدھی کی ایدھی فائونڈیشن، کراچی کی فاطمید آرگنائزیشن ہو یا چھیپا ٹرسٹ، گلوکار ابرار الحق کی این جی او سہارا ہو یا عمر شریف کی این جی او ’’ماں‘‘ ہو ۔ گلوکار جواداحمد کی تنظیم ہو یا گلوکار شہزاد رائے کی این جی او ’’زندگی‘‘ ہو۔ غرض ایسی بے شمار تنظیمیں ہیں جو پاکستان میں فلاح وہ بہبود کیلئے کام کررہی ہیں اور پورے سال ہیوسٹن میں فنڈریزنگ کرتی ہیں۔ ایک بڑی تصویر دیکھتے ہوئے یہ سب تنظیمیں پوری دنیا میں مقیم پاکستانی تارکین وطن سے بھرپور عطیات وصول کرتی ہیں اور ماہانہ سالانہ بنیادوں پر ان کے بینک اکائونٹس سے براہ راست عطیات بھی وصول کرتی ہیں۔ یاد رہے کہ کشمیری این جی اوز ان کے علاوہ ہیں۔ اس کے علاوہ یہ ہی امیگرینٹ اور سٹیزن اور دوہری شہریت کے حامل پاکستانی حکومت پاکستان کو نجی طور پر یا ہنڈی کے ذریعے پاکستان پیسہ منتقل کرنے کے بجائے اپنا نقصان اٹھاتے ہوئے سرکاری بنکوں اور ادارہ کے ذریعے حکومت پاکستان کو اربوں ڈالرز کا زرمبادلہ مہیا کرتے ہیں جسے سیاستدان حکومتوں میں آ کر مال مفت کی طرح اپنی کرپشن کے ذریعے لٹا دیتے ہیں۔ آج کل پاکستان میں یہ بحث چھڑی ہوئی ہے بلکہ ہم ہمیشہ ہی سے ان سیاستدانوں کے منہ سے یہ سنتے آئے ہیں کہ بیرون ملک پاکستانی نژاد شہری جن کے پاس کسی دوسرے ملک کی شہریت ہے یا دوہری شہریت ہے انہیں ووٹ دینے کا حق نہیں ہونا چاہیے۔ یہ وجہ بیان کی جاتی ہے کہ چونکہ انہوں نے دوسرے ملک کی شہریت رکھتے ہوئے اس ملک کے ساتھ وفاداری کا حلف اٹھایا ہوتا ہے اس لئے وہ پاکستان کے وفادار نہیں ہو سکتے لہٰذا نہ وہ ووٹ دے سکتے ہیں اور نہ ہی وہ پاکستان کے الیکشن میں حصہ لینے کے مجاز ہو سکتے ہیں۔ واہ صاحب واہ کیا نرالی منطق ہے۔ یعنی جب آپ کو ان ہی لوگوں سے پیسے بٹورنے ہوں تو وہ وفادار بن جاتے ہیں، جب کالا باغ ڈیم کیلئے چندہ چاہیے ہو تو ثاقب نثار عدلیہ کے اعلیٰ ترین جج کی نظر میں یہ ہی غدار وفادار بن جاتے ہیں۔ حب حکومتیں اپیلیں کرتی ہے بیرون ملک پاکستانیوں سے کہ بنکوں کے ذریعے زرمبادلہ بھیج کر ریاست کی مدد کریں تو یہ ہی پاکستانی نژاد پکے وفادار بن جاتے ہیں اور جب ووٹ دینے کی یا انتخابات میں حصہ لینے کی بات آئے تو ان کی وفاداری مشکوک ہو جاتی ہے۔ ان کا اٹھایا ہوا حلف انہیں پاکستان کا غدار بنا دیتا ہے۔ اصل وجہ یہ ہے کہ وہ اس لئے مخالفت کررہے ہیں کہ سارے سیاستدانوں کو اس بات کا مکمل علم اور یقین ہے کہ بیرون ملک مقیم نوے لاکھ پاکستانیوں کا ووٹ بنک صرف اور صرف عمران خان کے حق میں ہے اور اس لئے وہ بغض معاویہ میں اس بل کی مخالفت کررہے ہیں لیکن وہ مخالفین یاد رکھیں کہ ایران کا انقلاب بھی فرانس میں مقیم اور بیرون ملک ایرانیوں کی مدد سے ہی آیا تھا ، لہٰذا بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی؟