شرم اِن کو مگر نہیں آتی!!

276

خاموشی انسان کے کردار، حسب نسب، تہذیب و اخلاق، خاندانی شرافت کی پردہ پوشی کرتی ہے اور گفتگو شخصیت کا سارا پول کھول کر رکھ دیتی ہے۔ اسی طرح یہ مریم اورنگزیب جنہیں لوگ پٹواریوں کی مادر ملت کہتے ہیں تو عرض ہے مادر ملت تو صرف ایک شخصیت کا القاب یا خطاب ہے اور کوئی اس کا حقدار نہیں یہ تو ’’مادر ذلت‘‘ کہلائی جا سکتی ہیں۔ مریم اورنگزیب پر مادر ذلت ہونے کا خطاب صحیح ہے۔ اس بے غیرت اور بے حیا، بے شرم عورت کاایک اسلامی ملک کے وزیراعظم کے لئے اس قسم کے الفاظ استعمال کرنا قابل مذمت ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا یہ حرام خور لوگ اس ملک میں کیا کررہے ہیں۔ پاکستان کو ایک صادق اور امین حکمران تو مل گیا لیکن ایک صاف ستھری قوم نہ ملی۔ عوام بھی مصلحت پسند ہو گئے ہیں۔ بجائے ملک و قوم کا بھلا سوچنے کے صرف اپنی خواہشات کے آگے سرنگوں ہو گئے ہیں۔ حرص و ہوس بڑھتی ہی رہی اور ملک ڈبکیاں لینے لگا۔
بہرحال وہ محب وطن پاکستانی جو بیرون ملک رہائش پذیر ہیں ان پر ان تحریروں کا خاطر خواہ اثر ہوا ہے۔ ترسیلات تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ سٹیٹ بینک کے ’’روشن اکائونٹ‘‘ کے نام سے ایک اکائونٹ کھولا گیا ہے۔ اس میں ایک ارب ڈالر سے زیادہ غیر ملکی کرنسی آچکی ہے۔ اس کا اجر ہماری دعائیں ہیں۔ جن کے دل میں قوم اور ملک کی محبت اور خدمت کا جذبہ ہے۔ اپنی زمین سے محبت کا درس تو اسلام بھی دیتا ہے۔ پہلے لوگوں کو اپنی رقموں کے ڈوبنے کا خطرہ تھا لیکن اب انہیں اس ملک کے سربراہ پر اعتماد ہے۔
ملک میں رہنے والے اب بھی بیدار نہیں ہوئے ہیں۔ یہ عدالتوں کے غلط فیصلوں پر آواز نہیں اٹھاتے۔ کاہلی اور لاپروائی، بے حسی کے تابع یہ لوگ اندھے ،بہرے بنے اس غیر انسانی سلوک اور ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھارہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے ججز کے خلاف کیوں آواز نہیں اٹھائی جاتی؟ قاتلوں کو ضمانتیں دے کر آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ان کمی کمین لوگوں نے لوٹی ہوئی دولت سے اپنے آپ کو بہت طاقتور کر لیا ہے۔ انسان اپنی خواہشات کا غلام بن کررہ گیا ہے۔ملک ریاض اربوں کھربوں کا مالک ہے۔ پھر بھی اب تک اس کی دولت کی ہوس کم نہیں ہوئی۔ ایک زمانے میں سنا تھا کہ یہ کہتا ہے کہ ’’میں چاہوں تو پورا کراچی خرید سکتا ہوں‘‘ اب ملیر کے غریب کسانوں کی زمین ہڑپ کررہا ہے۔ وہ کسان فریاد کررہے ہیں کہ یہ ہمارے آبائو اجدادکے لگائے ہوئے باغ ہیں۔ اس سے ہماری روزی روٹی چل رہی ہے۔ انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ یا تو زمین بیچو یا مرنے کے لئے تیار ہو جائو۔ پتہ نہیں کتنے غریب مظلوم بے قصور لوگ مارے گئے ہوں گے۔ کوئی ان کی داد رسی کرنے والا نہیں؟ جن سے امیدیں ہیں وہی مایوس کررہے ہیں۔ اس ملک میں اتنے جرائم دن رات وقوع پذیر ہورہے ہیں کہ عقل حیران ہے۔ کوئی بھی پکڑا جاتا ہے تو دوسرے دن ہی صاف ستھرا ہو کر ضمانت پر رہا۔ یہ مافیاز اتنے مضبوط ہو چکے ہیں کہ ان پر قابو پانا آسان نہیں۔ اب تک منی لانڈرنگ بھی نہیں رک سکی ہے۔ ملکی دولت دوسرے امیر ملکوں میں منتقل ہورہی ہے اور ان ملکوں کا لگتا ہے دارومدار اب اسی چوری اور لوٹ مار کی دولت پر ہے۔
وزیراعظم نے اپنی اقوام متحدہ میں تقریر کرتے ہوئے اس سلسلے پر بھی تنقید کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ غریب ملک کا پیسہ غیر قانونی طور پر امیر ملکوں میں Investکیا جاتا ہے اور یہ ملک کوئی پوچھ تاچھ بھی نہیں کرتے کہ یہ دولت آپ نے کس طرح حاصل کی ہے۔ ٹرانسپرنسی بنائی گئی تھی اور برطانیہ میں یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ کرپشن کا پیسہ وہ لوگ قبول نہیں کریں گے۔
سب سے بڑا ڈاکو نواز شریف اور بھائی شہباز شریف اس ملک کی دولت برطانیہ میں محفوظ کر چکے ہیں۔ ان کے منشی نے بھی ملکی دولت لوٹنے اور لٹوانے میں بہت ہاتھ بٹایا ہے۔ پانامہ لیکس میں بہت سے پاکستانیوں کے نام ہیں اور یہ بھی ثابت ہو چکا ہے کہ برطانیہ کرپشن کے پیسے کو ہڑپ کرتا ہے۔
اب دنیا کی نظریں برطانیہ کی طرف متوجہ ہو چکی ہیں کیونکہ بہت سے غریب و ترقی پذیر ملکوں کے سیاستدانوں اور تاجروں نے اپنی ناجائز دولت یہاں ڈمپ کر دی ہے۔ دنیا کی نگاہیں برطانیہ کی طرف ہو گئی ہیں اور مذمت بھی کی جارہی ہے۔ برطانیہ بھی اب اس طرح کے قانون بنانے کی سوچ رہا ہے کیونکہ وہاں کے باشندے اس فعل کی مذمت کررہے ہیں۔اب ان کی سمجھ میں بھی آچکا ہے کہ یہ ناجائز پیسہ ہمارے ملک میں کیوں آرہا ہے۔ اتنے بڑے بڑے اپارٹمنٹس کیسے بنائے گئے۔وہ ان لوگوں کو اب حقارت کی نظر سے دیکھنے لگے ہیں۔ اس میں کچھ ہمارے محب وطن پاکستانیوں کا بھی ہاتھ ہے۔ اس ٹبر کے لوگ جہاں نظر آجاتے ہیں وہ تالیاں بجا بجا کر نعرے لگاتے ہیں ’’گلی گلی میں شور ہے، سارا ٹبرچور ہے‘‘ انگریزوں کے بھی کان کھڑے ہو گئے ہیں اور وہ پوچھتے ہیں معاملہ کیا ہے۔ جب انہیں ساری صورت حال سمجھ آجاتی ہے۔ ان کا دولت مند ہونے کا شب شبہ ڈھیر ہو جاتا ہے۔