دنیا کی قدیم ترین ’’باقاعدہ‘‘ انسانی قبر دریافت

120

 ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے کینیا کے ایک دور افتادہ غار میں ایک ایسی باقاعدہ انسانی قبر دریافت کی ہے جو آج سے 78 ہزار سال پہلے بنائی گئی تھی اور جس میں 3 سالہ بچہ دفن کیا گیا تھا۔

یہ قبر کینیا میں آثارِ قدیمہ کے حوالے سے مشہور مقام ’’پنجہ یا سعیدی‘‘ میں ایک غار کے دہانے پر ملی ہے۔

ریڈیو کاربن تاریخ نگاری اور دیگر تکنیکوں کے استعمال سے اس قبر کے زمانے اور بچے کی عمر کے بارے میں تو اندازہ لگا لیا گیا ہے لیکن بچے کی ہڈیاں اس قدر بوسیدہ ہوچکی ہیں کہ ان سے یہ پتا نہیں چل رہا کہ وہ لڑکا تھا یا لڑکی۔

قبر کی ترتیب سے ظاہر ہوتا ہے کہ پہلے قبر بنائی گئی، اس کے بعد قبر کے فرش پر پودوں کی پتیاں اور نرم شاخیں بچھائی گئیں، پھر بچے کو ان پر لٹایا گیا اور اس پر غالباً کسی درخت کی نرم چھال رکھ کر قبر کو بند کردیا گیا۔

واضح رہے کہ جنس ’’ہومو‘‘ (Homo) سے تعلق رکھنے والی مختلف انواع کی آٹھ لاکھ سال تک پرانی باقاعدہ قبریں دنیا بھر میں دریافت ہوچکی ہیں۔ البتہ جدید انسان یعنی ’’ہومو سیپیئنز‘‘ (Homo sapiens) کی قدیم ترین اور باقاعدہ قبر یہی ہے جو 78 ہزار سال پرانی ہے۔

قبر سے ملنے والی لاش کو ماہرین نے ’’مٹوٹو‘‘ (Mtoto) کا نام دیا ہے جو سواحلی زبان کا لفظ ہے اور جس کا مطلب ’’بچہ‘‘ ہے۔

یہ قبر 2013ء میں ’’پنجہ یا سعیدی‘‘ غار کے تقریباً دہانے پر دریافت ہوئی تھی جو 3 فٹ گہری ہے اور اس میں سے کسی بچے کی نہایت بوسیدہ ہڈیاں بھی برآمد ہوئیں۔

تاہم یہ ہڈیاں اس قدر بوسیدہ تھیں کہ انہیں فوری طور پر وہاں سے نکالا نہ جاسکا۔ یہ کام پوری احتیاط سے 2017ء میں انجام دیا گیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.