افغانستان کی گیم میں رہنا چاہتے ہیں پاکستان کاکردار بھی اہم ہے:امریکہ

288

امریکا، افغانستان کے ‘گیم میں رہنا’ چاہتا ہے اور اس گیم کے اندر وہ پاکستان کے لیے ایک اہم کردار کو دیکھتا ہے لیکن وہ اسلام آباد کو یہ سمجھانا چاہتا ہے کہ ایسا کرنا اس کے اپنے مفاد میں ہے۔

اس طرح امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے 11 ستمبر 2021 کے بعد افغانستان میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی حکمت عملی کا خاکہ پیش کیا۔

انٹرویو دیتے ہوئے امریکی سفارت کار نے واضح کیا کہ امریکا صرف اپنی فوجیں ملک سے واپس بلا رہا ہے اور وہ افغانستان سے نہیں جا رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم اپنی افواج کو افغانستان سے نکال رہے ہیں مگر ہم پیچھے نہیں ہٹ رہے، ہم جا نہیں رہے، جب افغانستان کی مدد کرنے کی بات ہو تو ہم اس میں مصروف ہیں چاہے وہ معاشی، ترقیاتی امداد، انسان دوست اور اس کی سیکیورٹی فورسز کی حمایت ہو، ہم گیم میں رہیں گے’۔

انٹرویو لینے والے نے انہیں یاد دلایا کہ اس قدر گہری شمولیت کے لیے افغانستان کے پڑوسی خصوصاً پاکستان کی مسلسل مدد کی ضرورت ہوگی جو افغانستان کے لیے سب سے مختصر اور ہر موسم میں سپلائی کا راستہ ہے۔

انٹرویو لینے والے نے سوال کیا کہ ‘جب افغانستان میں اثر و رسوخ کی بات آتی ہے تو آپ کے لیے کیا امکانات ہیں کیا اس سے سپلائی چین کے لیے پاکستان پر انحصار نہ کرنے سے ڈائنامکس تبدیل نہیں ہوں گے؟

تاہم سیکریٹری انٹونی بلنکن نے استدلال کیا کہ جو بائیڈن انتظامیہ کا 11 ستمبر تک تمام غیر ملکی افواج کو واپس بلانے کا منصوبہ پڑوس میں ‘مفت کے سواروں’ کے لیے چشم کشا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس فیصلے نے افغانستان میں اندر اور باہر اور خطے کے تمام ذہنوں کی توجہ اپنی جانب مرکوز کی ہے، گزشتہ 20 سالوں سے وہ، کسی حد تک ہم پر، نیٹو پر، ہمارے شراکت داروں پر مفت سوار رہے ہیں۔

وہ امریکا میں ایک معروف تاثر کی طرف اشارہ کر رہے تھے کہ افغانستان میں امریکی اور نیٹو کے فوجی مارے جارہے ہیں جبکہ اس کے پڑوسیوں نے کسی قسم کا تعاون کیے بغیر ان کی موجودگی سے فائدہ اٹھایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘اب پاکستان سمیت سب کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کہاں ان کے مفادات پائے جاتے ہیں اور اگر ان کا اثر و رسوخ ہے تو اسے کیسے استعمال کریں’۔