ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات ہو رہے ہیں، سعودی عہدیدار

288

سعودی عرب کی وزارت خارجہ کے اعلیٰ عہدیدار نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ایران کے ساتھ مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کسی قسم کے نتیجے کی بات کرنا قبل از وقت ہوگا۔

خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی وزارت خارجہ کی پالیسی پلاننگ کے سربراہ زاید کریملی نے کہا کہ مذاکرات کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا ہے جس کے لیے سعودی عرب کو ضمانت چاہیے۔

سعودی عرب اور ایران کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے رپورٹس میڈیا پر آئی تھیں تاہم پہلی مرتبہ سعودی عرب کے اعلیٰ عہدیدار نے اس کی تصدیق کی ہے۔

زاید کریملی کا کہنا تھا کہ ‘سعودی عرب اور ایران کے حالیہ مذاکرات کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے راستے تلاش کرنا ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘ہمیں اُمید ہے کہ مذاکرات کامیاب ہوں گے لیکن کسی حتمی نتیجے تک پہنچے سے متعلق اندازہ کرنا قبل از وقت ہوگا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہماری پیش رفت کی بنیاد مصدقہ دستاویزات پر ہو گی نہ کہ کسی قسم کے دعووں پر ہو’۔

رپورٹ کے مطابق انہوں نے مذاکرات میں زیر بحث آنے والے معاملات بتانے سے گریز کیا خطے کے عہدیداروں اور ذرائع نے بتایا تھا کہ مذاکرات میں یمن اور 2015 میں ایران کے عالمی طاقتوں کے ساتھ ہوئے جوہری معاہدے پر توجہ دی گئی جس کی سعودی عرب نے مخالفت کی تھی۔

قبل ازیں عراق کے صدر نے کہا تھا کہ بغداد نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان مذاکرات کے ایک سے زیادہ دور کی میزبانی کی۔