چمکیلا، پیلا، زہریلا… نئی قسم کا مینڈک دریافت

283

ساؤ پالو: برازیلی سائنسدانوں نے ساؤ پالو کے جنگلات سے خوبصورت لیکن زہریلے مینڈک کی ایک نئی نوع دریافت کرلی ہے جس کی جسامت انگلی کی پور سے بھی آدھی ہے۔

نئے دریافت ہونے والے مینڈک کا تعلق ’’براکیائی سیفالس‘‘ جنس سے ہے جس میں مینڈکوں کی کچھ اور اقسام بھی شامل ہیں۔ البتہ یہ تمام کی تمام انواع ساؤ پالو کے اسی جنگل میں صرف 1700 مربع کلومیٹر کے علاقے میں ہی پائی جاتی ہیں۔

اس کی شوخ زرد رنگت اسےپیلے اور نمی والے پتوں کے درمیان چھپنے میں مدد دیتی ہے کیونکہ یہ عام طور پر جنگل کی زمین میں ہی چھوٹے چھوٹے بل بنا کر رہتا ہے۔

مینڈک کی اس نئی قسم کو شناخت کرنے کےلیے ماہرین کی ٹیم نے اس کی ظاہری ساخت، رنگت، ہڈیوں کی ساخت، آواز اور جینیاتی خصوصیات تک کو آپس میں مربوط کرکے جائزہ لیا۔

براکیائی سیفالس روٹنبرگائی مینڈک کی عمومی رنگت اتنی شوخ زرد ہوتی ہے کہ نارنجی (اورنج) کی طرح لگتی ہے۔ اس کا جسم مضبوط، سر چوڑا اور ناک والا حصہ چپٹا ہوتا ہے۔

اس نوع کے بالغ نر مینڈکوں کی لمبائی 1.35 سے 1.6 سینٹی میٹر تک، جبکہ بالغ مینڈکیوں کی لمبائی 1.6 سے 1.8 سینٹی میٹر تک ہوتی ہے۔