آکسیجن کی کمی کے سبب اموات نسل کشی کے مترادف ہے: بھارتی عدالت

288

بھارت میں عدالت نے کہا ہے کہ طبی اغراض و مقاصد کے لیے جو حکام آکسیجن کی فراہمی کے ذمہ دار ہیں ان کی جانب سے ہسپتالوں میں محض آکسیجن کی عدم فراہمی سے کووڈ کے مریضوں کی موت نسل کشی کے مترادف ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایک ایسے وقت میں جب بھارت میں کورونا کے شدید بحران کی وجہ سے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو ہر جانب سے نکتہ چینی کا سامنا ہے، عدالتیں بھی حکومتوں کے رویے سے کافی نالاں نظر آ رہی ہیں اور ان کے خلاف سخت بیانات دیے جا رہے ہیں۔

بھارت میں دو ہفتوں سے ملک کے مختلف ہسپتالوں میں کووڈ 19 سے متاثرہ زیادہ تر مریض آکسیجن کی کمی سے ہلاک ہوتے رہے ہیں اور تمام تر ہنگامہ آرائی کے باوجود اس پر قابو نہیں پا یا جا سکا ہے جس پر کافی تشویش پائی جاتی ہے۔

آکسیجن کی کمی سے اموات پر ایک کیس کی سماعت کے دوران الہ آباد ہائی کورٹ نے لکھنو اور میرٹھ جیسے بڑے شہروں کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو حکم دیا کہ وہ تفتیش کے بعد بتائیں کہ اب تک کتنے مریض ہسپتالوں میں آکسیجن کی کمی سے ہلاک ہوئے ہیں۔

عدالت نے یہ حکم دیتے ہوئے کہا کہ طبی اغراض و مقاصد کے لیے جو حکام آکسیجن کی فراہمی کے ذمہ دار ہیں ان کی جانب سے ہسپتالوں میں محض آکسیجن کی عدم فراہمی سے کووڈ کے مریضوں کی موت نسل کشی کے مترادف اور ایک مجرمانہ فعل ہے۔ ایک ایسے دور میں جب دل کی پیوند کاری اور دماغ کی سرجری ایک حقیقت بن چُکی ہے، ہم لوگوں کو اس طرح مرنے کے لیے کیسے چھوڑ سکتے ہیں۔

عدالت نے اس پر حکام سے آئندہ جمعے تک رپورٹ پیش کرنے کو کہا ہے۔

ہائی کورٹ نے یو پی حکومت کے رویے پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر ہر روز لوگوں کو اپنے لواحقین کے لیے آکسیجن مہیا کرنے کی فریاد کرتے اور ان کی زندگی بچانے کے لیے انہیں روتے گڑ گڑاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ لیکن ایسے،مجبور اور لاچار لوگوں کی مدد کیبجائے ضلعی انتظامیہ اور پولیس انہیں ہراساں کرتی ہے۔