فرانس میں حجاب پر مجوزہ پابندی کیخلاف مسلمان خواتین کا آن لائن احتجاج

76

16 سالہ مسلمان خاتون مریم چورک حجاب کو حضرت محمد ﷺ سے عقیدت کا اظہار سمجھتی ہیں لیکن فرانسیسی سینیٹرز کی تجویز انہیں بہت جلد عوامی سطح پر حجاب پہننے کی آزادی سے محروم کر سکتی ہے۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق فرانس کی سیکولر اقدار کو مستحکم کرنے کے لیے تیار کردہ ‘انسداد علیحدگی پسندی’ بل میں ترمیم کی گئی ہے جو 18 سال سے کم عمر لڑکیوں پر لاگو ہوتا ہے۔

اس بل پر مسلمان خواتین نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور اس سلسلے میں آن لائن ‘ہینڈز آف مائی حجاب’ کے ہیش ٹیگ سے فرانس سمیت اس سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں بھی احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔

مریم نے کہا کہ یہ میری شناخت کا حصہ ہے، مجھے اس کو ہٹانے پر مجبور کرنا تضحیک آمیز بات ہوگی، مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ انہیں اس امتیازی سلوک کا حامل بل منظور کرنے کی ضرورت کیا ہے۔

مذہبی مقامات اور مذہبی علامتوں کے حوالے سے سیکولر ملک فرانس ایک عرصے سے تنازعات کا شکار ہے اور یورپ کی سب سے بڑی مسلم اقلیت فرانس میں ہی رہائش پذیر ہے۔

فرانس نے 2004 میں سرکاری اسکولوں میں اسلامی اسکارف پہننے پر پابندی عائد کردی تھی، 2010 میں اس نے گلیوں، پارکوں، پبلک ٹرانسپورٹ اور انتظامی عمارتوں جیسے عوامی مقامات پر نقاب کرنے پر مکمل پابندی عائد کردی تھی۔

یہ ترمیم تمام مذہبی علامتوں کے لیے تھی لیکن مخالفین کا ماننا ہے کہ اس کا مقصد مسلمانوں کو نشانہ بنانا تھا، سینیٹر کرسچن بلھاک نے اپریل میں قانون سازوں سے کہا تھا کہ اس سے نوجوانوں کی حفاظت ہو گی۔

انہوں نے ایوان بالا سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ والدین کو اپنے بچوں پر یہ پابندیاں عائد نہیں کرنی چاہئیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.