پاکستان، امریکا، چین، روس کا افغانستان سے سرحد پار حملوں کے خاتمے پر زور

50

پاکستان نے امریکا، چین اور روس کے ساتھ مل کر افغان حکومت اور طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ کا باعث نہ بنے۔

چاروں ممالک نے افغان حکومت پر طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے زور دے رہےہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) انفرادی طالبان اور اداروں کے عہدوں کا جائزہ لے۔

واشنگٹن میں جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ہم افغان بشمول حکومت اور طالبان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ دہشت گرد گروہ اور افراد کسی دوسرے ملک کی سلامتی کو خطرہ بنانے کے لیے افغان سرزمین استعمال نہ کریں۔

کالعدم تنظیم تحریک طالبان نے پاکستان میں 2014 میں پشاور آرمی پبلک اسکول میں قتل عام سمیت متعدد حملوں کے دوران افغان سرزمین کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا ہے۔

مشترکہ بیان میں نے کہا گیا کہ اسلامی جمہوریہ کی حکومت اور قومی مفاہمت کی اعلی کونسل سے اپیل کی ہے کہ وہ مذاکرات کے سلسلے میں طالبان کے ساتھ کھل کر بات کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم افغانستان میں بزور طاقت کسی بھی حکومت کے لیے اسٹیبلشمنٹ کی حمایت نہیں کرتے۔

بیان میں کہا گیا کہ انفرادی طالبان کے عہدے کی حیثیت اور اداروں پر اقوام متحدہ 1988 کی پابندیوں پر نظر ثانی کی حمایت کرتے ہیں۔

انہوں نے بیان میں مزید کہا کہ تشدد کے خاتمے کے عملی اقدامات اور طالبان کی جانب سے انٹرا افغان مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے مستقل کوششوں سے جائزے میں مثبت اثر پڑے گا۔

30 اپریل کو قطر میں ہونے والے اجلاس کے بعد اعلامیہ جاری ہوا جس میں افغان مذاکرات کی حمایت کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.