کووِڈ، حکومتیں ، اور ، ہم !!

94

دنیا بھر میں کووِڈ کی وبا کی ایک نئی لہر زوروں پر ہے۔ اس ضمن میں مختلف ملک کسی حد تک کامیاب بھی ہیں، اور ساتھ ہی ساتھ ناکام بھی۔ اس وقت جو دو ملک دنیا کی نظروں میں ہیں وہ بھارت اور پاکستان ہیں۔ وہاں اس وبا کی صورتِ حال اس حد تک بگڑ گئی ہے کہ کئی ملکوں نے وہاں سے آنے والے مسافروں پر سخت پابندیا ں لگا دی ہیں۔ اس ضمن میں آگے چل کر بات کرتے ہیں۔
سب سے پہلے پاکستان ، کیونکہ ہم جہاں بھی رہیں ہم پاکستانی نژاد ہیں، اور اس سے محبت رکھتے ہیں۔ پاکستان ، اس وبا کی ابتدا ہی سے پالیسی، ذہنی، دینی، اور فکری انتشار کا شکار رہا ہے۔ ایسی وبا کے دور میں ایک طرف تو حکومتی حکمتِ عملی کی ضرورت ہوتی ہے، اور لازماً عوامی احتیاطی تدابیر کی ضرورت۔ کسی بھی حکومت کو ایسے حالات پر درست اعدا د وشمار اور معلومات کی اشد ضرورت ہوتی۔ بشرطیکہ یہ اعداد و شمار دیانت داری پر مبنی ہوں۔ بدقسمتی سے قیاس یہ ہے کہ پاکستان نے اول دن سے ہی ان اعداد و شمار کے بارے میں غلط بیانی کی اور معاملہ کو چھپانے کی کوشش کی ۔ اس کے نتیجہ میں آج تک یہ خبر نہیں کہ پاکستان میں اس وبا کی اصل شدت کیا ہے۔
اس وبا کا سائنسی دفاع صرف یہ ہے کہ ہر شہری کو حفاظتی ٹیکے لگائے جائیں ، شہری اپنے منہ کو طبی نقابوں سے ڈھانپیں، ایک دوسرے سے اختلاط پر پابندی کا مکمل خیال کریں، بار بار اپنے ہاتھ صابن سے دھوتے رہیں۔ اور ایسا جب تب جاری رکھیں کہ کب تک ملک کی اکثریت کو گلی کوچوں میں ٹیکے نہ لگ جائیں۔جہاں تک ٹیکوں کا معاملہ ہے اس کی اولاً ذمہ داری ہر ملک کی حکومت پر ہے کہ وہ کسی نہ طرح نہ صرف یہ ٹیکے اپنے ملک ہی میں بنانے کا انتظام کرے۔ اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو جہاں سے بھی جس قیمت پر بھی دستیاب ہوں یہ ٹیکے حاصل کئے جائیں اور ہنگامی بنیا د پر سائنسی مشاور ت کے بعد ہر شہری کو مفت ٹیکہ لگایا جائے۔
بعض ملک اس کوشش میں پیش پیش رہے۔ امریکہ نے جو وبا کے اولین دنوں میں صدر ٹرمپ کی ہچر مچر کا شکار تھا، ان ٹیکوں کو ہنگامی طور نہ صرف اپنے ملک میں تیار کیا بلکہ ٹیکہ بنانے والی ہر دوا ساز کمپنی سے ان ٹیکوں کی فراہمی محفوظ کی ۔ اب یوں ہے کہ امریکہ میں بڑی حد تک اس وبا پر قابو پالیا گیا ہے۔ ایسا ہی یورپ کے کئی ممالک میں اور مشرقِ وسطیٰ کے کم آبادی والے ملکوں میں بھی ہوتا نظر آرہا ہے۔ کینیڈ ا جیسا ترقی یافتہ ملک اس کوشش میں حکومتی پالیسی کی ناکامی کی وجہ سے ابھی پیچھے ہے، لیکن کوشش جاری ہے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے وہاں اول دن سے عمران خان دنیا سے اور صحت کے عالمی ادارے سے درخواستیں کر تے رہے کہ پاکستان اور دیگر غریب ملکوں کو ٹیکے مفت یا چندے میں فراہم کیے جائیں۔ ان کی یہ ہمت نہیں ہوئی کہ ہم اپنے دفاعی اور دیگر اخراجات میں کٹوتی کرکے کسی نہ کسی طرح یہ ٹیکے حاصل کرکے عوام کو فراہم کریں ۔ صرف چین نے پاکستا ن کو اب تک ڈھائی ملین ٹیکے مفت یاکم نرخوں پر فراہم کیئے ہیں۔ آپ خود اندازہ کرلیں کی دو سو بیس ملین کی آبادی والے پاکستان کو کتنے ٹیکوں کی ضرورت ہو گی۔ اب تک جو ٹیکے پہنچے بھی ہیں وہ اطلاعات کے مطابق صرف چند بڑے شہروں میں لگائے جارہے ہیں۔ اور یہ بھی وہ شہری لگوارہے ہیں جو کچھ پڑھے لکھے ہیں اور اس کی افادیت سمجھتے ہیں۔ کچھ شہری یہ ٹیکے قیمتاً بھی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔
جہاں تک شہریوں کی ذمہ داری ہے تو اکثریت نے لازمی حفاظتی تدابیر پر عمل کرنا ضروی نہیں سمجھا۔ بلکہ کسی نہ کسی بہانے سے مجمعوں میں بغیر نقاب شرکت کرنا اختیا ر کیا۔ ان میں شادیوں کی محفلیں بھی شامل ہیں، مساجد میں نماز کی ادائیگی بھی ، بازاروں میں بھیڑ بھاڑ بھی اور جلسے جلوسو ں میں شرکت بھی۔ حفظان ِ صحت کے حکومتی مشوروں کو یکسر نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ اور اب تنگ آکر حکومت نے فوج سے مدد حاصل کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ حیران کُن طور پر اس اعلان میں صوبہ سندھ کو نظر انداز کردیا گیا ہے۔ اس میں اس صوبہ کے وفاق کے ساتھ اختلافات بھی شامل ہو سکتے ہیں ، اور سند ھ کی حکومت کا فوج پر عدم اعتماد بھی۔ پاکستان میں شہری معاملات میں فوج کا کردار کبھی کھلے دل سے پسند نہیں کیا گیا ہے۔
جو کچھ بھی پاکستان میں ہو رہا ہے ، وہ خوش آئند نہیں ہے۔ اس ضمن میں ہماری آپ کی ذمہ داری ہے یہ ہے کہ ہم اپنے عزیز و اقارب کو کسی بھی طرح یہ باور کراتے رہیں کہ ابھی وہاں ٹیکوں کی فراہمی میں بہت دیر لگے گی۔ ان کے لیئے لازم ہے کہ بہر طور احتیاطی تدابیر اختیار کرتے رہیں اور ایک دوسرے کو اس مہلک اور سخت نقصان دہ وبا کے اثرات سے محفوظ کرنے کی کوشش کریں۔ اور جیسے ہی ٹیکہ لگوانے کو موقع ملے فوراً لگوالیں۔
ان سطروں کے پڑھتے وقت آپ کو بار بار بھارت کا خیال آرہا ہو گا۔ جہاں تک ان کا تعلق ہے انہوں نے معاملے کی سنگینی کو سمجھنے میں غلطی کی۔ بھارت ٹیکہ ساز ملکوں میں پیش پیش تھا۔ لیکن پھر ان سے انتظامی بد احتیاطی ہوئی، جس کا نتیجہ پورا بھارت بھگت رہا ہے۔ پاکستانیوں کی طرح سے بھارت کے شہریوں نے حفاطتی تدابیر مناسب طرح سے اختیار نہیں کی اور احتیاط چھوڑ دی۔ ہم ان سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن اپنے بقا کی تدبیر انہیں خود ہی کرنا ہے۔ اس معاملہ میں سیاسی زبانی جمع خرچ کا کوئی فائدہ نہیں ہے ، جیسا کہ بعض پاکستانی سیاستدان کر رہے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.