سیاست اور غنڈہ گردی !

70

میری نسل کے پاکستانیوں کو اپنی تاریخ کا وہ باب یاد ہے جب1958میں ملک میں پہلا مارشل لا لگا تھا۔ یہ اکتوبر 1958 میں ہوا تھا لیکن اس سے پہلے اس وقت کے مشرقی پاکستان کی اسمبلی میں اپنی نوعیت کا ایک انوکھا واقعہ رونما ہوا تھا جسے سند اور جواز بناکر ملک کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے حریص جنرل ایوب خان اور ان کے اقدامِ جرم میں برابر کے شریک اس وقت کے صدرِ مملکت اسکندر مرزا ، نے پاکستان میں پہلا مارشل لا نافذ کیا جس کے بعد تو اور طالع آزماؤں کیلئے اقتدار تک پہنچنے اور اس پر قبضہ کرنے کا راستہ کھل گیا!
وہ تاریخی واقعہ تھا مشرقی پاکستان کی اسمبلی میں بے مثال ہڑبونگ اور غنڈہ گردی کا جس کے نتیجہ میں اسمبلی کے اس اجلاس کی صدارت کرنے والے ڈپٹی اسپیکر پر حملہ کیا گیا اور وہ ہسپتال جاکر اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگئے اور یوں پاکستان کی تاریخ میں پارلیمانی سیاست میں غنڈہ گردی اور تشدد کا اولین سیاہ باب رقم ہوا۔ ہمیں اس اندوہناک واقعہ کی یاد یوں آئی کہ ابھی چند روز پہلے حکومت نے دہشت گرد ممنوعہ تنظیم تحریکِ لبیک پاکستان کے اس مطالبہ پر کہ پاکستان سے فرانسیسی سفیر کو نکال باہر کیا جائے اسمبلی کا جو خاص اجلاس طلب کیا اس میں نواز کے چیلے اور نواز کے برطرف کئے جانے کے بعد حادثاتی وزیرِ اعظم بننے والے شاہد خاقان عباسی نے اپنی بے شرمی اور کھلی غنڈہ گردی سے یہ ثابت کردیا کہ سیاست میں تشدد اور غنڈہ گردی کا جو بیج چھ دہائیوں پہلے مشرقی پاکستان میں بویا گیا تھا وہ آج بھی بار آور ہے اور پاکستان کی حد تک یہ بلا خوفِ تردید کہا جاسکتا ہے کہ
وہ بیج تناور درخت بن چکا ہے!
بات کچھ بھی نہیں تھی۔ حکومت کی طرف سے پیش کی جانے والی قرارداد ایوان کے اراکین کے بحث اور مباحثہ کیلئے صلائے عام کی دعوت دے رہی تھی۔ شاہد خاقان عباسی ان دنوں نواز لیگ کے اسمبلی میں سربراہ اور خاص رہنما ہیں انہوں نے اسپیکر سے اجازت لئے بغیر بولنا شروع کیا جبکہ اس وقت ایک اور رکنِ اسمبلی کی تقریر جاری تھی۔ اسپیکر نے قواعد کے تحت انہیں ٹوکا کہ وہ اپنی باری کا انتظار کریں لیکن وہ تو اپنے آپ کو کوئی عام مخلوق نہیں بلکہ خدا کے پسندیدہ بندوں میں شمار کرتے ہیں لہٰذا اسپیکر کا حکم ماننا تو کجا وہ بڑے زعم سے چلاتے ہوئے اسپیکر اسمبلی کے ڈائس کی طرف لپکے یہ اول فول بکتے ہوئے کہ اگر انہیں روکنے کی جسارت کی گئی تو وہ اپنا جوتا اتار کر اسپیکر کو مار ینگے!
قربان جائیے ایسے تہذیب سے تہی دست سیاست دانوں پرجنہیں اتنا بھی ہوش نہیں ہے کہ جمہوریت میں پارلیمان کا کیا احترام اور تہذیب ہوتی ہے اور اس کے اجلاس کی صدارت کرنے والے اسپیکر کا کیا منصب اور رتبہ ہوتا ہے! یہ خاقان عباسی پاکستان کی بدنصیبی سے وزیرِ اعظم کے منصب پہ فائز رہا ہے لیکن رتبہ یا عہدہ اگر شرافت کی تعلیم دے سکتا اور بنیادی اخلاقیات سکھا سکتا تو رونا ہی کیا تھا۔ پھر پاکستان میں جمہوریت اور حکمرانی پر وہ زوال تو نہیں طاری ہوتا جو کرونا کے وبال اور بلا سے کہیں زیادہ
سخت جان ہے! مرض کی تشخیص کرنے چلو تو بات بہت دور تک چلی جاتی ہے۔ پاکستان کی تحریکِ آزادی اپنی جد و جہد کے حوالے سے ہی ایک قابلِ فخر تحریک نہیں تھی بلکہ اس کی سب سے نمایاں صفت یہ تھی کہ اس میں شریک اور اس کے روحِ رواں قائدین اور زعماء اپنی اپنی ذات میں شرافت، بے لوثی، خوش خلقی اور خلوص کے پیکر تھے۔ لیکن مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد کا بچنے والا پاکستان، جہاں ہر صوبے کی تاریخ پر جاگیرداری اور وڈیرہ شاہی غالب رہی ہے ، اس کا مزاجِ فرعونیت جمہوریت کی رمق بھی اپنے اندر نہیں رکھتا!
اسی جاگیردارانہ ذہنیت نے پاکستان کو برباد کیا ہے کوئی حادثاتی طور پہ نہیں بلکہ باقائدہ منصوبہ بندی کے نتیجہ میں پاکستان کی مجبور اور بے بس جمہوریت ان فراعنہ کے شکنجہ میں اسیر ہوئی ہے اور ایسی اسیر کہ آج تک بلبلا رہی ہے لیکن نجات سے تا حال محروم ہے! قائد اعظم کو احساس تھا کہ مسلمانانِ ہند کیلئے ان کی ولولہ انگیز اور انقلابی قیادت کی کامیابی نے بہت سے طالع آزماؤں اور حرص کے بندوں کو ان کے دامن میں پناہ دے دی تھی اور اس احساس کا گواہ ان کا وہ تاریخی جملہ ہے کہ ہاں، میں جانتا ہوں کہ میری جیب میں بہت سے کھوٹے سکے بھی ہیں! اور پھر ان ہی کھوٹے سکوں نے قائد کے جانشین اور معمار لیاقت علی خان کے خلاف سازش کرکے انہیں شہید کروایا اور پھر اس کے بعد ان کے کھل کھیلنے کیلئے میدان صاف اورہموار تھا!
سیاست اور قیادت کیلئے یونان کے بطلِ جلیل اور سقراط کے شاگردِ رشید فلسفی افلاطون نے ڈھائی ہزار سال پہلے جس بنیادی ضرورت کو ناگزیر بتلایا تھا وہ آج بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی اس دور میں تھی جب یونان میں شہری جمہوری حکومتیں ہوا کرتی تھیں۔ افلاطون کے بقول حاکم کا خاندانی شریف ہونا لازمی ہے نہ کہ نام کا شریف ہونا!
اور افلاطون کے اس فلسفے کا اعادہ ہمارے ان مسلم دانشوروں اور حکماء نے بھی کیا جن سے ہماری اسلامی تاریخ کا درخشاں اور زریں دور وابستہ رہا ہے۔ الکندی اور فارابی جیسے حکماء کی صلاحیتوں اور حکمتوں کا لوہا تو مغرب نے بھی مانا ہے اور ان کے علم اور دانشوری سے مغرب نے دل کھول کے استفادہ کیا ہے۔ بدنصیبی تو ہم مسلمانوں کی ہے کہ ہم نے خود ہی اپنے مشاہیر کو بھلادیا۔ ان کے ناموں سے بھی اب ہم واقفیت نہیں رکھتے ان کے فیوض و برکات اور ان کی حکمت و دانائی سے استفادہ کرنا تو درکنار۔ لیکن الکندی، فارابی اور ابنِ رشد جیسے حکماء نے بھی واشگاف انداز میں حکومت اور سربراہی کیلئے شرافت اور نسلی شائستگی کو لازمی قرار دیا! پاکستان کی بدنصیبی کہ لیاقت علی خان کے بعد سے سیاست اور حکومت میں شرافت اور تہذیب کا خمیر بتدریج کم ہوتا گیا اور پھر زرداری، نواز اور کسی حد تک مشرف کے دورِ اقتدار نے بھی سیاست اور حکومت سے شرافت اور تہذیب کومکمل طور سے بیدخل کرنے میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا۔
سیاست تہذیب سے عاری ہو تو وہ زرداری، نواز اور ڈون الطاف جیسے شرپسند، چور اور ڈاکو پیدا کرتی ہے جو سیاست کے نام پر اپنے غنڈہ گردی کے کاروبار کو فروغ دیتے ہیں اور شاہد خاقان عباسی جیسے چھٹ بھیٔے عوامی نمائندے ہونے کے دعویدار بن کر اس ایوان میں جسے پاکستانی جمہوریت کا پاسبان سمجھا جاتا ہے غنڈہ گردی کرتے ہیں اور جو ان سے اختلاف کرنے کی جسارت کرتے اِسے بھیانک انجام سے ڈراتے اور دھمکیاں دیتے ہیں! عمران کے برسرِ اقتدار آنے سے کم از کم اتنا تو ہوا کہ ملک کی سربراہی اور زمامِ اقتدار شریف اور نجیب ہاتھوں میں منتقل ہوگئیں لیکن سیاست میں سے غنڈہ گردی کا زہر نکلا نہیں ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ سندھ میں زرداری کی وڈیرہ شاہی سانپ کی طرح پھن اٹھائے ہوئے برقرار ہے تو پنجاب میں آج بھی نواز جیسے مہا چور اور ڈاکو کیلئے ہمدردی پائی جاتی ہے۔ عمران کی اپنی جماعت، تحریکِ انصاف میں بھی ایسے عناصر عمران کے بہت قریب اور اقتدار میں شریک ہیں جو سرِ عام، ٹیلی ویثرن کے پروگرام میں میز پر جوتے یا فوجی بوٹ رکھنے سے پرہیز نہیں کرتے۔ تہذیب کا فقدان سب سے نمایاں ہماری ملکی سیاست کی زبان میں دکھائی دیتا ہے جہاں بڑے بڑے زعماء بازاری زبان استعمال کرنے میں ایک دوسرے کا جواب دیتے ہیں۔ عمران کے قریبی حلیف شیخ رشید کو اس میں بہت نمایاں مقام حاصل ہے۔!
یہ بے محابا لوگ، تہذیب و شائستگی سے بیگانہ ایک دوسرے کی پگڑی سرِ عام اچھالنے والے عوام کیلئے کیا مثال پیش کررہے ہیں سوا اس کے ،کہ اپنا مقصد حاصل کرنے اور اپنا الو سیدھا کرنے کیلئے ہر بیجا عمل، ہر ناجائز کام، کر گزرنا کوئی عیب نہیں ہے۔ برائی اوپر سے نیچے کی طرف سفر کرتی ہے اور معاشرہ میں اگر قانون کا احترام نہیں ہے تو اس کی سب سے بڑی ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے جو عوامی قیادت کے دعویدار ہیں۔ عمران کو اگر ایک نیا پاکستان بنانا ہے تو پاکستان کے اس افلاس زدہ جمہوری کلچر کا علاج بھی کرنا ہوگا۔ عمران کو سمجھنا ہوگا کہ کرپشن محض روپے پیسے کی خرد برد اور مال و منال کی لوٹ مار تک محدود نہیں ہے۔ ایک صحتمند جمہوری معاشرہ کی اقدار مستحکم کرنا اولین ضرورت ہے۔ جاگیرداروں سے یہ کام نہیں ہوگا۔ ان کی فکر، ان کی سوچ، صرف اور صرف ان کی ذات تک ہے اس سے آگے وہ کچھ سوچ ہی نہیں سکتے۔ ان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ ہمارے معاشرے کو صحتمند بنا سکیں گے نیم کے پیڑ پہ آم اُگنے والی آرزو ہے جو کبھی پوری نہیں ہوسکتی۔ یہ کام صرف وہ کرسکتا ہے جو جاگیردار نہ ہو، وڈیرہ شاہی کی لعنت اس سے چمٹی ہوئی نہ ہو ورنہ تو ذوالفقار علی بھٹو بلا کے ذہین اور زیرک تھے لیکن ان کے اندر کا وڈیرہ عمر بھر ان کی سوچ پہ حاوی رہا اور وہی آخرِ کار انہیں پھانسی کے تختہ تک لے گیا۔ یہ جو آج ہم شاہد خاقان عباسی جیسے تہذیب سے عاری سیاستدان اور قائدین دیکھ رہے ہیں یہ اسی کھیتی کی فصل ہیں جو بھٹو کے عہد میں بوئی گئی تھی۔
پاکستانی سیاست اور پاکستانی جمہوریت خنجر کی نوک پر رہے گی جب تک ملک سے سیاست کے نام پہ اس طرح کی کھلم کھلا غنڈہ گردی کے ناسور کو کاٹ کر پھینک نہیں دیا جاتا! یہ ہدف جتنی سرعت سے اور جتنی جلدی حاصل ہوجائے اتنا ہی پاکستان اور خود عمران کے حق میں بہتر ہوگا! !

Leave A Reply

Your email address will not be published.