فائزعیسیٰ کے حق میں 4-6کا فیصلہ، پاکستان کا عدلتی نظام لرز رہا ہے!

70

پاکستان کی تاریخ میں اور خاص طور سے عدلیہ کی تاریخ میں ایسی صورت حال دیکھنے میں نہیں آئی ہو گی جب پورا عدالتی نظام ریزہ ریزہ ہو کر بکھرنے لگا ہو۔ سجاد علی شاہ جب چیف جسٹس تھے تب ایسی صورت حال دیکھنے میں آئی تھی جب اجمل میاں کی قیادت میں سارے سپریم کورٹ کے جج ایک طرف تھے دوسری طرف سجاد علی شاہ اکیلا تھا۔ اس وقت کے آرمی چیف نے نواز شریف کا ساتھ دیا تو صدر فاروق لغاری اور سجاد علی شاہ دونوں کو گھر جاناپڑا۔ اس وقت جج ہی آپس میں لڑ گئے۔ بنچ کے سربراہ سمیت ہر جج حضرات نے قاضی عیسیٰ کے خلاف فیصلہ دیا جبکہ ریٹائر ہونے والے منظور ملک سمیت 5جج حضرات نے قاضی فائز عیسیٰ سے اپنی دوستی نبھائی اور منظور ملک سمیت ایک اور جج نے FBRکو دیا ہوا اپنا آرڈر واپس لے لیا اور اپنے ہی حکم سے لا تعلقی کااظہار کر دیا۔ یہ شائد پاکستانی عدلیہ کیلئے اتنے بڑے کیس میں پہلی بار ہوا ہے۔ فائز عیسیٰ نے اپنی حیثیت اور اپنے تعلقات کو پاکستانی عدلیہ کو بدنام کرنے کے لئے استعمال کیا۔ اس نے اور اس کی بیوی نے اس بات پر کوئی ثبوت نہیں دیا کہ اس نے لندن میں یہ جائیدادیں کہاں سے اور کیسے خریدیں بلکہ اس بات پر اصرار کرتا رہا کہ یہ اس کے بچوں اور بیوی کا معاملہ ہے اور ان جائیدادوں کی خریداری اور اس کی ملکیت کی ذمہ داری ان کی ہے۔ قاضی فائز عیسیٰ نے فوج دشمنی اور عمران دشمنی میں ساری حدیں پار کر لیں۔ ہر فورم پر اس نے فوج کو بدنام کرنے کیلئے فیض آباد دھرنے کے اپنے فیصلے کا سہارا لیا کیونکہ اس میں آئی ایس آئی کے خلاف اس نے فیصلہ لکھا تھا افتخار چودھری نے اپنے لے پالک ججوں کے ساتھ مل کر بھی ایسی ہی فضا بنائی تھی وہ بھی لوگوں کو بلا کر اپنے سامنے اور بھری عدالت میں ذلیل کیا کرتا تھا جج کی کرسی پر بیٹھ کر لوگ فرعون بن جاتے ہیں وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کو سجاد علی شاہ کی طرح ذلیل و خوار ہو کر جانا بھی پڑتا ہے۔
اگر اس پوری کارروائی کو غور سے دیکھیں تو ججز میں اختلاف پہلے دن سے ہی تھے تقریباً دو سال یہ کارروائی چلی اور ہر سطح پر قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے تعلقات کو استعمال کیا۔ فائزعیسیٰ نے قانون سے وفا داری کو اپنا ہتھیار نہیں بنانا بلکہ فوج سے دشمنی اور ساتھیوں سے دوستی کو استعمال کیا۔ ملک کی جو وکلاء تنظیمیں تھیں وہ بھی فائز عیسیٰ کو سپورٹ کررہی تھیں جتنا بڑا ان کے باپ کا نام تھا اور ہے وہ اپنے والد کے کردار اور ملک اور فوج سے محبت کی عادتوں سے بالکل مختلف نکلے۔ انہوں نے فوج دشمنی کو اپنا شعار بنایا۔ جج ہونے کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ وہ جو چاہے کہتا رہے اور ملک کے عوام بے وقوف یا بھیڑ بکری ہیں کہ نہ تو ان کو سمجھ ہے اور نہ کسی بھی جج کی جائز اور نا جائز بات کو برداشت کریں گے۔ اگر آپ غور سے ان دو سالوں میں قاضی فائز عیسیٰ کے انداز فکر سوچ اور انداز بیان پر غور کریں تو اس میں فرعونیت اور خودپسندی جھلکتی ہے جس شخص میں ’’میں‘‘ یعنی ’’آئی‘‘ طرز کی سوچ پیدا ہو جاتی ہے وہ نہ تو معاشرے کے لئے بہتر جج ثابت ہو گا اور نہ وہ انصاف کر سکے گا۔ اس کو صرف اپنی ذات اور اپنی کرسی کی ،قلم کی طاقت دکھائی دیتی ہے۔ بھٹو نے بھی ایک تاریخی جملہ بولا تھا کہ ’’یہ کرسی بہت مضبوط ہے‘‘ اسی جملے نے اس کو پھانسی لگوا دی۔ سجاد علی شاہ اور افتخار چودھری نے بھی اپنے قلم اور کرسی کا بہت زیادہ استعمال کیا لیکن آج تاریخ ان کو اچھے نام سے نہیں یاد کرتی ہے عوام جب نفرت کرنے لگتے ہیں تو وہ شخص بعد میں راندہ درگاہ ہی ہوتا ہے۔ تاریخ بھری پڑی ہے بڑے بڑے فرعون اور نمرودآئے لیکن سب مٹ گئے لوگ ارسطو کو یاد کرتے ہیں جس نے سچ کی خاطر زہر کا پیالہ پی لیا لیکن اس کو زہر پلانے والوں کا نام آج کی دنیا میں کوئی نہیں جانتا۔ قاضی فائز عیسیٰ کو اب بھی ہوش کے ناخن لے لینا چاہئیں۔ وقت نے ان کو ایک اور موقع دیا ہے۔ ان کو اپنی سوچ اور طرز قلم میں تبدیلی لانی چاہیے ورنہ زمانہ قیامت کی چال چل جاتا ہے۔ ذاتی بغض اور عناد کا انجام اچھا نہیں ہوتا ہے۔ انصاف کی کرسی پر بیٹھنے والوں کو صرف انصاف کرنا چاہیے ذاتیات کو اپنے آپ سے الگ کر دینا چاہیے۔ آپ کے ساتھی ججوں نے آپ کو بچا تو دیا لیکن یہ آپ کی اچیومنٹ نہیں ہے۔ یہ فیصلہ انصاف نہیں بلکہ دوسروں کی مہربانی کی مرہون منت ہے۔ابھی تک آپ لندن میں جائیدادیں خریدنے کا قانونی ثبوت نہیں پیش کر سکے خالی پاکستان کی تاریخ بیان کرنے سے یا فوجی حکومت کی برائیاں بیان کرنے سے آپ کو معافی نہیں مل سکتی۔ عام آدمی ابھی بھی سوال پوچھتا ہے آپ کے پاس اتنی دولت کہاں سے آگئی ہے۔ یہ پوچھنا ہر پاکستانی کا حق ہے۔ آپ قانون سے ماورا نہیں ہیں آپ بھی ایک فوجی کے مرہون منت ہیں۔ پرویز مشرف آپ کاان داتا تھا۔ ان ہی کے دور میں آپ بلوچستان ہائیکورٹ میں اتنی اہم کرسی پر بیٹھے۔
ہمیں یاد ہے ذرا ذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو۔ آئندہ آنے والے دنوں میں کیا ہو گا کوئی نہیں جانتا لیکن پاکستانی قوم آپ سے امید کرتی ہے کہ آپ منفی سوچ چھوڑ کر انصاف اور رواداری کا دامن تھامیں گے اور اللہ کے آگے جواب دہ ہوں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.